کہا جاتا ہے کہ جب ناانصافی کا دور دورہ ہو، حقوق کا حصول ناپید ہو جائے، ظلم و زیادتیوں کا عروج ہو، امیدوں کا چراغ بجھتا دکھائی دینے لگے اور ہر سو اندھیرا چھاتا نظر آئے تو ایک روشنی ضرور جھلملاتی دکھائی دیتی ہے، اور وہ روشنی انسان کا عزم، ہمت اور حوصلہ ہوتا ہے۔
آج ہمارے معاشرے میں ایک ایسی ہی سوچ پروان چڑھتی دکھائی دے رہی ہے۔ عام آدمی اپنے مسائل کے حل کے لیے سرکاری اداروں، متعلقہ حکام اور فیصلہ سازوں کی طرف دیکھتا ہے، لیکن جب اسے بار بار مایوسی کا سامنا ہو، اس کی شکایات پر توجہ نہ دی جائے اور اس کے بنیادی مسائل حل نہ ہوں تو اس کے اندر یہ احساس پیدا ہونا فطری ہے کہ شاید اپنی آواز بلند کیے بغیر اسے سنا نہیں جائے گا۔
یہی وجہ ہے کہ پُرامن احتجاج کا رجحان محض کسی ایک مسئلے یا ایک طبقے تک محدود نہیں رہا۔ لوگ یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اگر ان کی آواز کو منزل تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا تو اپنے حقوق کے لیے اجتماعی اور پُرامن انداز میں آواز اٹھانا ہی ایک مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔
یہ صورتحال دراصل عوام اور نظام کے درمیان بڑھتے ہوئے فاصلے کی عکاسی کرتی ہے۔کسی بھی معاشرے میں عوام کی خاموشی کو ہمیشہ اطمینان کی علامت نہیں سمجھا جا سکتا۔ بعض اوقات یہ خاموشی بے بسی ہوتی ہے، کبھی مایوسی اور کبھی اس امید کا نتیجہ کہ شاید حالات خود بہتر ہو جائیں گے۔
لیکن جب یہی خاموشی طویل عرصے تک مسائل کے حل کا سبب نہ بنے تو پھر یہی خاموش لوگ اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ایک شخص جب اپنے مسئلے کے حل کے لیے کسی ادارے کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے اور اسے جواب نہیں ملتا تو شاید وہ خاموش رہتا ہے، لیکن جب یہی تجربہ ہزاروں لوگوں کا ہو تو خاموشی اجتماعی بے چینی میں تبدیل ہونے لگتی ہے۔
یہی بے چینی پھر سوال اٹھاتی ہے کہ اگر عام شہری کی بات سننے والا کوئی نہیں تو وہ اپنی بات کس طرح اور کہاں پہنچائے؟ سئلہ صرف یہ نہیں کہ عوام کے مسائل بہت زیادہ ہیں، اصل تشویش اس وقت پیدا ہوتی ہے جب عوام کو یہ محسوس ہونے لگے کہ اقتدار اور اختیار رکھنے والے افراد کی ترجیحات ان کے مسائل کے حل سے مختلف ہیں۔
جب فیصلہ سازی میں عوامی مفاد کے بجائے ذاتی، سیاسی یا گروہی مفادات غالب آنے لگیں تو اعتماد کمزور ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ ایک عام شہری کے لیے یہ سوال انتہائی اہم ہے کہ اگر اس کی زندگی مہنگائی، بے روزگاری، بدامنی، ناانصافی، بنیادی سہولیات کی کمی اور دیگر مسائل سے دوچار ہے تو ان مسائل کے حل کے لیے وہ کس دروازے پر دستک دے؟
اگر اس کی آواز متعلقہ اداروں تک پہنچنے کے باوجود مؤثر کارروائی نہ ہو تو اس کے پاس اپنی بات منظم اور پُرامن انداز میں عوام کے سامنے رکھنے کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ریاستی اداروں اور عوام کے درمیان اعتماد کسی بھی معاشرے کے استحکام کے لیے بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
عوام کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ ان کی شکایت سنی جائے گی، ان کے ساتھ انصاف ہوگا اور فیصلے قانون و میرٹ کی بنیاد پر ہوں گے۔ جب یہ یقین کمزور پڑنے لگے تو شہری اور نظام کے درمیان ایک ایسا خلا پیدا ہوتا ہے جسے محض اعلانات سے پُر نہیں کیا جا سکتا۔
کراچی میں میر رضا علی کے لیے ہونے والا احتجاج بھی اسی بدلتی ہوئی عوامی سوچ کی ایک مثال کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ اس احتجاج میں جن زی (Gen Z) کی شرکت نے اسے نمایاں بنا دیا۔ کراچی میں شاہراہِ فیصل (نرسری اسٹاپ) اور بہادرآباد (چار مینار) پر ہونے والے احتجاج نے ہزاروں شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا کہ مسائل کے حل کے لیے خاموش رہنا کافی ہے یا اپنی آواز بلند کرنا بھی ضروری ہے۔
پُرامن احتجاج کا مقصد کسی معاشرے میں انتشار پیدا کرنا نہیں ہونا چاہیے۔ اس کا مقصد اپنی بات ان لوگوں تک پہنچانا ہونا چاہیے جن کے پاس فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ جب شہری قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنے حقوق، انصاف اور بنیادی مسائل کے لیے آواز بلند کرتے ہیں تو اسے محض شور سمجھنے کے بجائے عوامی احساسات کے اظہار کے طور پر دیکھنے کی ضرورت ہے۔
اسی طرح احتجاج کرنیوالوں کی بھی ذمے داری ہے کہ ان کی جدوجہد پُرامن، منظم اور واضح مطالبات پر مبنی ہو۔ تشدد، توڑ پھوڑ اور افراتفری کسی جائز مطالبے کی طاقت کم کر سکتی ہے، جب کہ دلیل، نظم و ضبط اور پُرامن جدوجہد عوامی آواز کو زیادہ مؤثر بناتی ہے۔
یہ ایک سنجیدہ سوال ہے کہ اگر ہر شہری کو اپنے بنیادی مسئلے کے حل کے لیے سڑک پر آنا پڑے تو پھر اداروں کی افادیت پر سوال کیوں نہ اٹھے؟ ایک مضبوط نظام میں عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے احتجاج کو آخری راستہ سمجھنا چاہیے، پہلا نہیں۔
اگر شکایات کے لیے مؤثر نظام موجود ہو، ادارے جواب دہ ہوں، فیصلے شفاف ہوں اور عوامی نمائندے اپنے ووٹرز کے مسائل کو ترجیح دیں تو سڑکوں پر آواز بلند کرنے کی ضرورت خود بخود کم ہو سکتی ہے۔
لیکن اگر شکایات اداروں کے دروازوں سے واپس لوٹتی رہیں، درخواستیں فائلوں میں دب جائیں اور فیصلہ سازی میں عوامی مفاد مسلسل پسِ پشت چلا جائے تو پھر سڑک پر اٹھنے والی آواز دراصل اسی خاموشی کا ردعمل ہوتی ہے جو طویل عرصے سے لوگوں کے اندر جمع ہو رہی ہوتی ہے۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عوامی طاقت بڑے بڑے فیصلے کروا لیتی ہے۔ اگر یہ طاقت پُرامن، منظم اور آئینی دائرے میں استعمال ہو تو شاید وہ فیصلے بھی ممکن ہو جائیں جن کی آج شدید ضرورت محسوس کی جا رہی ہے؛ کرپشن کے خاتمے کے لیے مؤثر اقدامات ہوں، انصاف کا بول بالا ہو، بے روزگاری اور حق تلفی میں کمی آئے، تشدد اور جرائم کیخلاف مؤثر کارروائی ہو اور قانون کی حکمرانی محض ایک نعرہ نہیں بلکہ عملی حقیقت بنے۔
معاشرے میں تبدیلی ہمیشہ کسی بڑے اعلان سے شروع نہیں ہوتی۔ کبھی یہ ایک سوال سے جنم لیتی ہے، کبھی ایک آواز سے اور کبھی ایک پُرامن احتجاج سے۔ ایک آواز میں دوسری آواز شامل ہو جائے تو وہ اجتماعی مطالبہ بن جاتی ہے، اور اجتماعی مطالبہ اگر شعور، اتحاد اور پُرامن جدوجہد کیساتھ آگے بڑھے تو اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں رہتا۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عوامی آواز کو محض شور سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے معاشرے کی علامت سمجھا جائے جہاں لوگ اپنے حقوق، انصاف اور بہتر مستقبل کے لیے شعور حاصل کر رہے ہیں۔ ساتھ ہی اقتدار میں موجود لوگوں کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام کی خاموشی کو ان کی رضامندی نہیں سمجھا جا سکتا۔
عوام مسائل کا حل چاہتے ہیں، اپنے حقوق کا تحفظ چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اقتدار کی نشستوں پر بیٹھنے والے ان کی آواز سنیں۔ اگر یہ آواز مسلسل نظر انداز ہوتی رہی تو اس کی گونج مزید بلند ہو سکتی ہے۔
کیونکہ صدائے حق بلند ہو تو باطل کو گراں ضرور گزرتی ہے، اور یہی بلند ہوتی ہوئی آواز کبھی کبھی تبدیلی کی پہلی دستک بھی ثابت ہوتی ہے۔