محبت، نفرت اور انتقام

عورت کی عزت و عظمت ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآنی آیات نازل ہوئیں


نسیم انجم September 20, 2026

تاریخ کی کتابیں عورت سے محبت اور ایثار سے بھری ہوئی ہیں لیکن جب کوئی مورخ آج کے زمانے کی تاریخ لکھے گا تو عورت پر تشدد اور نفرت و انتقام کی داستانیں اسے رقم کرنی پڑیں گی کہ اس دور میں یہی سفاکیت نظر آ رہی ہے۔

حال ہی میں پنجاب کے رہائشی نے اپنے تین بچے دریا میں بہا دیے، پہلے بچوں کو منگلا لہڑی( نہراپر جہلم )پر کھانا کھلایا باتیں کیں اور پھر دریائے جہلم کی سیر کے لیے اس نے سفر جاری رکھا، بچوں کو نہیں معلوم تھا کہ جہلم نہیں بلکہ ان کی موت ان سے قریب تر ہوتی جا رہی ہے۔

بچے بھی چھوٹی ہی عمر کے تھے اور کل ہی کی بات ہے جب سرجانی ٹاؤن میں تین بچے اور مہوش نامی خاتون مردہ حالت میں ملی۔ ایسے واقعات آئے دن رونما ہوتے ہیں۔ مرد، عورتیں بھی اپنی حقیقی اولاد سے محض اپنے شوہر سے لڑائی جھگڑے کی بنا پر بچوں کو دریا کے سپرد کر دیتی ہیں یا پھر کسی اور ذریعے سے جان سے مار دیتی ہیں۔

یہاں بھی میاں بیوی کی آپس کی نفرت و ذہنی ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑوں اور رنجش نے جنم لیا۔ محض اپنی بیوی کو ذہنی ٹارچر کرنے کے لیے اپنے ہی بچوں کو دریا برد کر دیا، بچے تو اس کے بھی تھے لیکن بیوی سے انتقام لینے کے باعث سنگدلی نے اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرے کی دبیز چادر پھیلا دی اور اس نے یہ عمل چند منٹوں میں مکمل کر لیا۔

اس قسم کے واقعات دن بہ دن بڑھتے جا رہے ہیں ان کی روک تھام کے لیے اقدامات ضروری ہیں۔ دریاؤں پر سیکیورٹی گارڈز اور حفاظتی عملے کا تقرر ضروری ہے لیکن جو عرصہ دراز سے اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہے ہیں وہ ان جگہوں پر موجود نہیں ہوتے ہیں جہاں ان کی ضرورت ہے۔

گزشتہ دنوں جب ایک عورت جوکہ ایک ماں تھی محض لڑائی جھگڑوں اور انتقام لینے کے جذبے نے اسے اپنا خون اپنی اولاد کو گہرے پانیوں میں پھینکنے پر مجبور کر دیا لیکن کچھ قریبی کھڑے لوگوں نے اس کا ارادہ بھانپ لیا جب وہ اپنے بچوں کو دھکیل رہی تھی عین اسی وقت ان حضرات کی مداخلت نے اسے ایسا کرنے سے روک دیا اور معصوم جانیں بچ گئیں۔

کچھ خواتین اپنے ہی دل کے ٹکڑوں کو کھانے پینے کی اشیا میں زہر ملا دیتی ہیں، اپنے شوہر کا غصہ انھیں اپنی ہی اولاد کو قتل کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ انتقام لینے والے مرد و عورت معاشرے کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہیں۔

ورنہ عورت کی عزت و عظمت ان کے حقوق کی ادائیگی کے لیے قرآنی آیات نازل ہوئیں اور حضورؐ کی اپنی زندگی کے ساتھ احادیث موجود ہیں کہ عورت ماں ہو، بیوی یا بیٹی اور بہن ہو اس کی عزت کرنا اور اس کا تحفظ مرد کے ذمے لازم ہے۔ خواتین کو ذاتی ملکیت سمجھنا اسلامی اصول و قوانین کی نافرمانی ہے۔

اس کے ساتھ اپنے آپ کو جہنم میں داخلے کا سبب ہے۔ قاتل کی بخشش نہیں ہے، ایسے لوگ ذہنی بیمار ہوتے ہیں یا پھر انتقامی کارروائی کرکے مطمئن وقتی طور پر ضرور ہو جاتے ہیں لیکن گرفتار اور سزا پانے کے بعد اپنے آپ کو لعنت ملامت کرتے نظر آتے ہیں لیکن پھر پچھتانے کا کیا فائدہ؟

سزا سے بچنے کے لیے اکثر قاتل اپنے آپ کو بھی موت کے منہ میں جانے سے گریز نہیں کرتے ہیں ،وہ جانتے ہیں کہ ان کا سب کچھ ختم ہو چکا ہے اب جینے کا کوئی فائدہ نہیں۔ عورت گھر کی زینت ہوتی ہے اس کے بنا گھر ویران نظر آتا ہے۔ خواجہ الطاف حسین حالی نے خواتین کی تعریف اور قدر و منزلت کو شاعری کے پیراہن میں اس طرح سمو دیا ہے۔

اے ماؤ! بہنو! بیٹیوں دنیا کی زینت تم سے ہے

ملکوں کی بستی ہو تم ہی قوموں کی عزت تم سے ہے

تم گھر کی ہو شہزادیاں، شہروں کی ہو آبادیاں

غمگیں دلوں کی شادیاں، دکھ سکھ میں راحت تم سے ہے

نیکی کی تم تصویر ہو، عفت کی تم تدبیر ہو

ہو دین کی تم پاسباں، ایمان سلامت تم سے ہے

اگر ہم اسلامی و ہندو پاک کی تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائیں تو ہمیں اس قدر خوبصورت واقعات میاں بیوی کے حوالے سے ملتے ہیں کہ رشک آنے لگتا ہے۔ میاں بیوی کی محبت مثالی ہوتی ہے ایسے گھروں میں سکون و عافیت کے خوبصورت مہکتے ہوئے پھول کھلتے ہیں۔

سب سے پہلے ہمارے نبی ﷺ کی ازواج مطہرات کی زندگیوں کا جائزہ لیں خاص طور پر حضرت خدیجہؓ جوکہ ایک کامیاب تاجر خاتون، گھریلو معاملات میں بھی ایثار و قربانی، محبت و الفت کا پیکر تھیں۔

تاریخ میں ملکہ نور جہاں کا کردار بھی قارئین کو متاثر کرتا ہے، بے شک وہ ملکہ تھیں دولت، پیسے کی ریل پیل اپنی جگہ لیکن مضبوط کردار، اخلاق اور شوہر سے بے پناہ محبت لاثانی تھے۔ نور جہاں کا اصل نام مہرالنسا اور قندھار جائے پیدائش تھی۔

ان کی پہلی شادی شیر افگن سے ہوئی۔ شیر افگن کی وفات کے بعد وہ مغل شہنشاہ جہانگیر کی منکوحہ بنیں۔ وہ نہایت بہادر، زیرک اور بااثر خاتون تھیں، انھوں نے سلطنت کے امور میں بہترین فیصلے کیے۔

جہانگیر بادشاہ کی اپنی بیوی نور جہاں سے اس درجے محبت تھی کہ اس نے امور سلطنت میں بھی اپنا شریک بنا لیا، انھیں نور محل اور پھر بعد میں نور جہاں کا خطاب دیا۔ ان کے نام کا سکہ جاری ہوا۔ نور جہاں کا مقبرہ لاہور کے شاہدرہ باغ میں دریائے راوی کے قریب واقع ہے۔

ملکہ زبیدہ عباسی خلیفہ ہارون الرشید کی زوجہ تھیں۔ ملکہ کی شادی اپنے چچا زاد ہارون الرشید سے ہوئی جو بعد میں عباسی خلیفہ بنے۔ ہارون الرشید کی سب سے چہیتی بیوی زبیدہ خاتون تھیں۔ نہر زبیدہ ان کا سب سے بڑا کارنامہ ہے۔ حج کے دوران حجاج کو پانی کی شدید تکلیف سے بچانے کے لیے ایک عظیم الشان نہر بنوائی جو نہر زبیدہ کے نام سے مشہور ہے۔

میاں بیوی کے حوالے سے محبت بھرے واقعات بادشاہوں کے حوالے سے تھے۔ عام زندگی میں بھی محبتیں پروان چڑھتی تھیں، اعتماد و اتفاق کی فضا دلوں میں اور گھروں میں بھی رشتوں، ناتوں کی شکل میں آتی تھی، اگر ایسا نہ ہوتا تو دادا دادی، نانا نانی، پر نانیاں و پر دادیاں، پر دادا و پر نانا کا وجود ہرگز نہ ہوتا۔

فی زمانہ جوانی میں ہی عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے ساتھ میں معصوم بچوں کو بھی بے دردی سے ہلاکت کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے۔ اس کی خاص وجہ جہالت اور دین سے دوری ہے۔ قتل و غارت، اغوا، تشدد بھرے واقعات کی ذمے دار سابقہ و موجودہ حکومتیں ہیں۔

ان اعلیٰ اور بااختیار عہدوں پر براجمان حضرات نے اپنے ملک اور رعایا کا خیال نہیں کیا۔ تعلیم سے دوری نے ہی اپنوں کا گلا کاٹنے اور حسد و نفرت سے روشناس کیا ہے۔ حکومتی کارندوں کو اپنی عوام کا ہر لحاظ سے خیال رکھنا چاہیے۔