پاکستان کا قیام ایک طویل سیاسی جدوجہد، بے مثال قربانیوں اور عزم و حوصلے کی داستان ہے۔ ہمارے سیاسی اکابرین نے قیامِ پاکستان کے لیے بے شمار مشکلات کا سامنا کیا اور ایک نوزائیدہ ریاست کو انتہائی کٹھن حالات میں سنبھالا۔ قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت نے قوم کو ایک عظیم رہنما سے محروم کر دیا، جب کہ بعد ازاں نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت بھی ملکی تاریخ کا بڑا سانحہ ثابت ہوئی۔
ان کے بعد آنے والی سیاسی قیادتیں ملک کو وہ سمت نہ دے سکیں جس کی عوام کو توقع تھی۔ قیام پاکستان سے آج تک حکومتیں بدلتی رہیں، سیاسی وعدے ہوتے رہے اور ترقی و خوشحالی کے دعوے کیے جاتے رہے، مگر عام آدمی کی زندگی میں وہ بنیادی تبدیلی نہ آ سکی جس کا خواب بانیان پاکستان نے دیکھا تھا۔
آج بھی عوام مہنگائی، بے روزگاری، کم آمدنی اور بنیادی سہولتوں کی کمی جیسے مسائل سے دوچار ہیں۔ معاشی بے یقینی نے متوسط اور سفید پوش طبقے کی مشکلات میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ ایک خاندان کے لیے گھر کا کرایہ، بجلی اور گیس کے بل، بچوں کی تعلیم، علاج اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کے اخراجات پورے کرنا ایک مستقل آزمائش بنتا جا رہا ہے۔
پاکستان قدرتی وسائل، نوجوان آبادی اور جغرافیائی اہمیت کے اعتبار سے بے پناہ امکانات رکھتا ہے، مگر ان امکانات کو موثر معاشی حکمت عملی میں تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف عام شہری دو وقت کی روٹی، بچوں کی تعلیم اور علاج کے اخراجات پورے کرنے کے لیے پریشان ہے، جب کہ دوسری طرف سرکاری اور اشرافیائی اخراجات میں بے تحاشا اضافہ نظر آتا ہے۔
اربوں روپے کے جہاز اور بلٹ پروف گاڑیوں کی خریداری جیسے اخراجات عوام کے لیے یقینا سوال بن جاتے ہیں۔ ریاستی وسائل کا استعمال ہمیشہ قومی ترجیحات اور عوامی ضرورت کو سامنے رکھ کر ہونا چاہیے۔معاشی پالیسیوں میں تسلسل اور دوراندیشی نہ ہو تو مسائل مزید پیچیدہ ہو جاتے ہیں۔
چینی پہلے برآمد کرنا اور بعد میں اسی چینی کو درآمد کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ قومی ضروریات اور برآمدی پالیسی میں بہتر توازن کی ضرورت ہے۔ ایسے فیصلوں سے نہ صرف سرکاری خزانے پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔
حقیقی ترقی وہ ہے جس کے ثمرات معاشرے کے ہر طبقے تک پہنچیں، اگر دولت ایک محدود طبقے تک مرتکز ہوتی رہے اور عام آدمی مسلسل معاشی دباؤ کا شکار رہے تو معاشی ترقی کے دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
دفاعی استحکام کسی بھی ملک کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، تاہم مضبوط دفاع کے ساتھ مضبوط معیشت بھی ناگزیر ہے۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر دفاعی میدان میں قومی ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں اور معاشی استحکام بھی قومی ترجیحات میں شامل ہے۔
ریاستی اور سیاسی اداروں کے درمیان رابطہ اور تعاون قومی مسائل کے حل کے لیے اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ ملک کے دفاع، معیشت اور داخلی استحکام کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ مضبوط معیشت ہی طویل مدت میں ریاستی طاقت کو مستحکم بنیاد فراہم کرتی ہے۔
مہنگائی پر قابو پانے کے لیے حکومت کو فوری اور موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔ اشیائے خورونوش پر غیر ضروری ٹیکسوں کا بوجھ کم کرنے، ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری روکنے اور کم آمدنی والے طبقات کو حقیقی ریلیف دینے کی ضرورت ہے۔
ٹیکس نظام بھی ایسا ہونا چاہیے جس میں بوجھ منصفانہ انداز میں تقسیم ہو۔ عام آدمی پہلے ہی محدود آمدنی میں اپنے اخراجات پورے کر رہا ہے، اس لیے ضروری اشیا پر اضافی مالی بوجھ اس کی مشکلات میں مزید اضافہ کرتا ہے۔
صنعتی شعبے کی بحالی ملکی معیشت کے لیے ناگزیر ہے۔ کارخانے اور صنعتیں نہ صرف ملکی پیداوار بڑھاتی ہیں بلکہ لاکھوں افراد کو روزگار فراہم کرتی ہیں، برآمدات میں اضافہ کرتی ہیں اور قومی آمدنی کو مضبوط بناتی ہیں۔
حکومت کو صنعتی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول، پالیسیوں میں تسلسل اور کاروباری رکاوٹوں میں کمی کو ترجیح دینا ہوگی، اگر صنعتیں بند ہوں گی یا نئی سرمایہ کاری رک جائے گی تو روزگار کے مواقع کم ہوں گے اور معیشت درآمدات پر مزید انحصار کرنے لگے گی۔
پاکستان کی معاشی مشکلات میں قرضوں کا بڑھتا ہوا بوجھ بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ حکومتیں مسلسل اندرونی و بیرونی قرضوں پر انحصار کرتی رہی ہیں اور ہر چند سال بعد عالمی مالیاتی اداروں سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔
قرض اگر پیداواری شعبوں میں استعمال ہو تو معیشت کو سہارا دے سکتا ہے، لیکن اگر اس کا بڑا حصہ سابقہ قرضوں کی ادائیگی اور جاری اخراجات میں صرف ہو تو قرض کا دائرہ مزید وسیع ہوتا جاتا ہے۔ مستقل معاشی استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ملک اپنی آمدنی اور پیداواری صلاحیت میں اضافہ کرے۔
بجٹ میں قرضوں کی ادائیگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث تعلیم، صحت، تحقیق اور انسانی ترقی جیسے شعبوں کے لیے وسائل محدود ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی ملک کی اصل طاقت اس کے تعلیم یافتہ، ہنرمند اور صحت مند شہری ہوتے ہیں۔
اس لیے قومی بجٹ میں انسانی ترقی کو ثانوی حیثیت دینا مستقبل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پاکستان کو ایسی معاشی پالیسی کی ضرورت ہے جو برآمدات بڑھائے، مقامی صنعت کو مضبوط کرے، ٹیکس نیٹ وسیع کرے، سرمایہ کاری کو فروغ دے اور پیداواری سرگرمیوں میں اضافہ کرے۔
معاشی خود انحصاری کے بغیر مستقل خوشحالی کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں کم فی کس آمدنی بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ جب آمدنی محدود ہو اور ضروریاتِ زندگی مسلسل مہنگی ہوتی جائیں تو عام شہری کی مشکلات میں اضافہ ہونا فطری امر ہے۔
روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنا، نوجوانوں کو فنی تربیت دینا اور چھوٹے و درمیانے کاروباروں کو سہولت فراہم کرنا اس مسئلے کے حل میں مددگار ہو سکتا ہے۔ محض امداد یا وقتی ریلیف سے غربت کا مستقل خاتمہ ممکن نہیں، لوگوں کو باعزت روزگار اور آمدنی کے پائیدار ذرائع فراہم کرنا ہوں گے۔
اپوزیشن جماعتوں کی بھی ذمے داری ہے کہ وہ محض پارلیمانی تقاریر اور سیاسی احتجاج تک محدود نہ رہیں بلکہ عوامی مسائل کے حل کے لیے قابل عمل معاشی پروگرام پیش کریں۔ مہنگائی، بے روزگاری اور معاشی عدم مساوات کسی ایک حکومت کے نہیں بلکہ پورے ملک کے مسائل ہیں۔
ان کے حل کے لیے قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ اور عملی حکمت عملی ضروری ہے۔ حکومت اور اپوزیشن اگر اپنے اختلافات سے بالاتر ہو کر عوامی مسائل پر مشترکہ راستہ تلاش کریں تو اس کے مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔
عام آدمی آج پہلے سے زیادہ باشعور ہے۔ اسے محض وعدے اور نعرے نہیں بلکہ عملی نتائج درکار ہیں۔ پاکستان ایک باصلاحیت قوم اور بے پناہ امکانات رکھنے والا ملک ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ سیاسی اختلافات اور ذاتی مفادات سے بلند ہو کر قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر استوار کیا جائے۔
حکمرانوں کی کارکردگی کا اصل معیار یہی ہونا چاہیے کہ عام آدمی کی زندگی کتنی آسان ہوئی، روزگار کے کتنے مواقع پیدا ہوئے اور عوام کو بنیادی معاشی حقوق کس حد تک میسر آئے۔ اب وقت تقاضا کرتا ہے کہ دعوؤں کے بجائے کارکردگی کو ترجیح دی جائے اور عوامی فلاح کو حکمرانی کا مرکز بنایا جائے۔
اللہ تعالیٰ پاکستان کی حفاظت فرمائے، وطن عزیز کو امن، استحکام اور معاشی خوشحالی عطا کرے اور ملک کو ایسی محب وطن قیادت نصیب فرمائے جو عوام کی حقیقی خدمت کو اپنا مقصد بنائے۔( آمین)