ایک ڈاکومنٹری

گلوریا اسٹینم نے عورتوں کی سیاسی شرکت کو بھی بنیادی اہمیت دی


زاہدہ حنا September 20, 2026

نیٹ فلکس دیکھتے ہوئے ڈاکومنٹریز کے سیکشن میں کچھ بہت ہی شاندار فلمیں دیکھنے کو مل جاتی ہیں۔ ایسی چیزیں جنھیں دیکھنے کے بعد آدمی صرف اسکرین بند نہیں کرتا بلکہ کچھ دیر سوچتا رہتا ہے کہ دنیا میں کتنے لوگ ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنے زمانے کے معمول کو چیلنج کیا،کتنی عورتیں ایسی تھیں جنہوں نے اپنے لیے نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے راستے بنائے اور کتنی آوازیں ایسی تھیں جنھیں خاموش کرنے کی ہرممکن کوشش کی گئی مگر وہ پہلے سے زیادہ بلند ہو کر واپس آئیں۔

ایسی ہی ایک ڈاکومنٹری گلوریا اسٹینم کے بارے میں دیکھنے کو ملی۔ گلوریا اسٹینم جو امریکی نسائی تحریک کی ایک نمایاں آواز صحافی، مصنفہ اور سماجی کارکن رہی ہیں۔

گلوریا اسٹینم کا نام آتے ہی ذہن میں ایک ایسی عورت کا تصور ابھرتا ہے جس نے عورت کی آزادی کو محض لباس، ملازمت یا ذاتی انتخاب کا مسئلہ نہیں سمجھا بلکہ اسے سماج کے پورے ڈھانچے سے جوڑ کر دیکھا۔

ان کے نزدیک عورت کی آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک اس کے معاشی، سیاسی اور سماجی حالات تبدیل نہ ہوں۔ وہ عورت جو اپنے جسم پر اختیار نہیں رکھتی، جو اپنی محنت کی اجرت خود طے نہیں کر سکتی، جو گھر میں تشدد سہنے پر مجبور ہے، جو اپنی اولاد کی پرورش کے لیے ریاست سے کوئی مدد نہیں پاتی اور جو اپنے مستقبل کے فیصلے کسی دوسرے کی اجازت سے کرتی ہے، اسے صرف یہ کہہ دینا کہ تم آزاد ہو، آزادی کا مذاق ہے۔

گلوریا اسٹینم 1934 میں پیدا ہوئیں۔ ان کا بچپن بھی کسی روایتی آسودہ گھرانے کی محفوظ چاردیواری میں نہیں گزرا۔ ان کے والد کی کوئی مستقل آمدنی نہیں تھی اور اس وجہ سے خاندان کی معاشی حالت میں عدم استحکام رہا۔

ان کی والدہ نے اپنی زندگی میں ذہنی صحت کے مسائل اور معاشرتی تنہائی کا سامنا کیا۔ شاید یہی تجربات تھے جنہوں نے گلوریا کو بہت کم عمری میں یہ سمجھنے میں مدد دی کہ عورت کی زندگی کو صرف اس کی ذاتی صلاحیتوں سے نہیں سمجھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے خاندان، معیشت، سماج اور ریاست کے فیصلے بھی موجود ہوتے ہیں۔

صحافت میں آنے کے بعد گلوریا نے جلد محسوس کر لیا کہ عورتوں کے لیے صحافت کی دنیا بھی برابر کی دنیا نہیں۔ انھیں اکثر خوب صورت چہرے، دلچسپ شخصیت یا کسی مرد صحافی کے مقابلے میں ایک اضافی چیز سمجھا جاتا تھا۔

ان کی ذہانت اور تحقیق سے زیادہ ان کے لباس، عمر اور ظاہری شخصیت پر گفتگو کی جاتی۔ یہ تجربہ کسی ایک ادارے کا نہیں تھا، یہ پورے سماج کا رویہ تھا۔ عورت اگر ذہین ہو تو اسے خطرناک کہا جاتا ہے، اگر خوب صورت ہو تو اسے سنجیدہ نہیں لیا جاتا، اگر دونوں ہو تو اس کی ذہانت کو اس کی خوب صورتی کے پیچھے چھپا دیا جاتا ہے۔

1960 اور 1970 کی دہائی میں جب دنیا بھر میں عورتوں کے حقوق کی تحریکیں نئی قوت حاصل کر رہی تھیں، گلوریا اسٹینم نے امریکی سماج کے ان تضادات کو نمایاں کیا جنھیں خوش حالی جمہوریت اور آزادی کے دعوؤں کے نیچے چھپا دیا جاتا تھا۔

انھوں نے عورت کے جسم، اس کی محنت، اس کی جنسی آزادی، اس کے سیاسی حقوق اور اس کی معاشی خودمختاری کے سوالات کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کیا۔ ان کی تحریروں اور تقریروں میں یہ بات بار بار سامنے آتی ہے کہ عورت کو برابر کا انسان تسلیم کیے بغیر کوئی بھی سماج حقیقی معنوں میں جمہوری نہیں ہو سکتا۔

ان کی ایک مشہور صحافتی تحریر میں انھوں نے پلے بوائے کلب میں بطور بنّی کام کرنے کا تجربہ بیان کیا۔ یہ تجربہ انھوں نے اس لیے کیا کہ وہ خود دیکھ سکیں کہ ان کلبوں میں کام کرنے والی عورتوں کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے، ان کی محنت کی کیا قیمت لگائی جاتی ہے اور ان کے جسم کو کس طرح ایک تجارتی شے میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اس تحریر نے امریکی سماج میں ایک بڑا سوال اٹھایا ،کیا عورت کی آزادی کا مطلب یہ ہے کہ اسے اپنی مرضی سے استحصال کا انتخاب کرنے کی اجازت دے دی جائے یا آزادی کا مطلب یہ بھی ہے کہ اسے ایسے حالات فراہم کیے جائیں جہاں اسے اپنی بقا کے لیے اپنے جسم کو بازار میں پیش نہ کرنا پڑے۔

یہ سوال آج بھی ہمارے سامنے ہے کہ عورت کے جسم کو کبھی بازار کی طلب کے مطابق فروخت کیا جاتا ہے اور کبھی آزادی کے نام پر اسے ایک ایسی شے بنا دیا جاتا ہے جس کی قیمت اس کی ظاہری کشش سے طے ہوتی ہے۔ گلوریا اسٹینم کی اہمیت یہ ہے کہ انھوں نے ان تمام رویوں کو ایک ہی بنیادی سوال سے جوڑا، عورت کو انسان سمجھا جا رہا ہے یا کسی مقصد کے لیے استعمال ہونے والی چیز۔

گلوریا اسٹینم کی جدوجہد صرف متوسط طبقے کی تعلیم یافتہ عورتوں تک محدود نہیں تھی۔ وہ اس بات پر زور دیتی تھیں کہ نسائی تحریک اگر صرف ان عورتوں کے مسائل بیان کرے جو یونیورسٹیوں میں پڑھتی ہیں، دفاتر میں کام کرتی ہیں یا اپنے لیے بہتر ملازمتیں حاصل کر سکتی ہیں تو وہ ادھوری تحریک ہے۔

ایک غریب عورت، ایک سیاہ فام عورت، ایک تارک وطن عورت، ایک گھریلو ملازمہ، ایک فیکٹری ورکر اور ایک ایسی ماں جو بچوں کی پرورش کے ساتھ ملازمت بھی کرتی ہے، ان سب کے مسائل الگ الگ دکھائی دے سکتے ہیں مگر ان کے پیچھے طاقت اور وسائل کی غیرمساوی تقسیم کا ایک مشترک نظام موجود ہے۔

یہاں گلوریا اسٹینم کی فکر کو بائیں بازو کے نقطہ نظر سے دیکھنا دلچسپ ہو جاتا ہے۔ عورت کی آزادی کو اگر صرف انفرادی انتخاب بنا دیا جائے تو اس کے اجتماعی اور طبقاتی پہلو غائب ہو جاتے ہیں۔ ایک امیر عورت کے لیے ملازمت چھوڑ کر بچوں کی پرورش کرنا، ایک انتخاب ہو سکتا ہے مگر ایک غریب عورت کے لیے یہ ممکن نہیں۔

ایک صاحب حیثیت عورت اپنے لیے قانونی مدد حاصل کر سکتی ہے مگر ایک دیہاڑی دار عورت کے لیے عدالت تک پہنچنا بھی ایک معاشی مسئلہ ہے۔ ایک عورت کے پاس اپنی مرضی سے زندگی گزارنے کا حق کاغذ پر موجود ہو سکتا ہے مگر اگر اس کے پاس گھر، آمدنی، تعلیم اور تحفظ نہیں تو وہ حق عملی زندگی میں بے معنی ہو جاتا ہے۔

اسی لیے عورت کی آزادی کے سوال کو مزدوروں کے حقوق، اجرت، سماجی تحفظ، صحت، تعلیم اور ریاستی ذمے داریوں سے الگ نہیں کیا جا سکتا، اگر ایک عورت سارا دن گھر میں کام کرتی ہے، بچوں کی دیکھ بھال کرتی ہے، بوڑھے والدین کی خدمت کرتی ہے اور گھر کے ہر فرد کی ضروریات پوری کرتی ہے تو اس محنت کو محبت کہہ کر مفت قرار دینا بھی ایک معاشی فیصلہ ہے۔

محبت اپنی جگہ مگر محنت کی قدر اپنی جگہ۔ گھر کا کام اگر بازار میں کسی دوسری عورت سے کروایا جائے تو اس کی اجرت ہوتی ہے مگر وہی کام گھر کی عورت کرے تو اسے فرض کہہ کر اس کی معاشی حیثیت ختم کر دی جاتی ہے۔

گلوریا اسٹینم نے عورتوں کی سیاسی شرکت کو بھی بنیادی اہمیت دی۔ ان کے نزدیک عورتوں کو صرف ووٹ دینے کا حق مل جانا کافی نہیں تھا۔ انھیں اقتدار کے مراکز میں موجود ہونا چاہیے، قانون سازی میں شریک ہونا چاہیے، اپنے جسم اور زندگی سے متعلق فیصلوں میں آواز رکھنی چاہیے اور ان اداروں کو بدلنا چاہیے جو صدیوں سے مردانہ اختیار کے تحت کام کرتے آئے ہیں۔ وہ جانتی تھیں کہ پارلیمان میں چند عورتوں کی موجودگی تبدیلی کی ضمانت نہیں مگر عورتوں کی غیرموجودگی یقینی طور پر ایک مسئلہ ہے۔

ان کی جدوجہد میں ایک اہم پہلو یہ بھی تھا کہ انھوں نے عورتوں کے درمیان اتحاد کو ضروری سمجھا۔ نسائی تحریک کے اندر بھی طبقے، نسل، جنس، مذہب اور معاشی حیثیت کے فرق موجود تھے۔ بعض اوقات ایک عورت دوسری عورت کے تجربے کو سمجھ نہیں پاتی۔

ایک سفید فام متوسط طبقے کی عورت کے لیے جو آزادی ہے، وہ ایک سیاہ فام غریب عورت کے لیے شاید کسی اور نوعیت کا مسئلہ ہو۔ اس لیے عورتوں کی آزادی کی تحریک کو اپنے اندر بھی جمہوریت، تنوع اور خوداحتسابی پیدا کرنا پڑتی ہے۔

گلوریا اسٹینم کی زندگی کا ایک خوب صورت پہلو یہ ہے کہ انھوں نے عمر کو بھی عورت کی شناخت کا پیمانہ بننے سے انکار کیا۔ ہمارے سماج میں عورت کی قدر اکثر اس کی جوانی، خوبصورتی اور ازدواجی حیثیت سے وابستہ کر دی جاتی ہے۔

ایک خاص عمر کے بعد عورت کو جیسے سماج کی نظر میں غیرمتعلق سمجھ لیا جاتا ہے۔ گلوریا نے اس تصور کو چیلنج کیا۔ انھوں نے دکھایا کہ عورت کی فکری زندگی، سیاسی جدوجہد اور تخلیقی قوت عمر کے ساتھ ختم نہیں ہوتی بلکہ تجربے کے ساتھ زیادہ گہری ہو سکتی ہے۔

آج جب دنیا کے کئی حصوں میں دائیں بازو کی سیاست، مذہبی انتہاپسندی، قوم پرستی اور معاشی عدم مساوات دوبارہ مضبوط ہو رہی ہیں، عورت کے حقوق پر حملے بھی بڑھ رہے ہیں۔ کہیں اس کے لباس کو سیاست کا میدان بنایا جاتا ہے، کہیں اس کے جسم پر ریاست کا اختیار قائم کیا جاتا ہے، کہیں اس کی تعلیم کو خطرہ سمجھا جاتا ہے اور کہیں اس کی معاشی خودمختاری کو خاندان کے خلاف بغاوت قرار دیا جاتا ہے۔

دوسری طرف سرمایہ دارانہ بازار عورت کی آزادی کو بھی ایک مصنوعات میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ عورت کو ایک طرف گھر کی عزت کا محافظ بنایا جاتا ہے اور دوسری طرف بازار میں اس کے جسم کو منافع کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

گلوریا اسٹینم کی جدوجہد ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی کسی ایک دروازے کا نام نہیں۔ یہ گھر سے شروع ہوتی ہے، اسکول سے گزرتی ہے، کام کی جگہ تک پہنچتی ہے، عدالت اور پارلیمان میں اپنا حق مانگتی ہے اور آخرکار اس معاشی نظام سے سوال کرتی ہے جو انسانوں کی زندگی کو منافع کے تابع بنا دیتا ہے۔ عورت کی آزادی کا مطلب مرد سے نفرت نہیں بلکہ اس نظام سے نجات ہے جو مرد کو بھی ایک مخصوص کردار میں قید کرتا ہے اور عورت کو بھی۔

ہمیں گلوریا اسٹینم سے اختلاف کرنے کا حق ہے، ان کی بعض ترجیحات پر سوال اٹھانے کا حق ہے مگر ان کی جدوجہد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے یہ بات واضح کی کہ عورت کا مسئلہ، عورتوں کا مسئلہ نہیں ،پورے سماج کا مسئلہ ہے۔ جس سماج میں عورت آزاد نہیں، وہاں مرد بھی مکمل آزاد نہیں ہو سکتا کیونکہ آزادی کسی ایک جنس کی ملکیت نہیں، انسان کا اجتماعی حق ہے۔

شاید اسی لیے ایک اچھی ڈاکومنٹری دیکھنے کے بعد آدمی صرف ایک شخصیت کے بارے میں نہیں سوچتا بلکہ اپنے سماج کے بارے میں بھی سوچنے لگتا ہے۔ گلوریا اسٹینم کی زندگی کا سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ تبدیلی کبھی خودبخود نہیں آتی۔

اسے سوال اٹھانے پڑتے ہیں، خاموشی توڑنی پڑتی ہے، پرانے تصورات کو چیلنج کرنا پڑتا ہے اور ان لوگوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑتا ہے، جن کی آواز طاقت کے ایوانوں تک نہیں پہنچتی، عورت کی آزادی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوا۔ شاید اس سفر کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ ہر نسل اسے اپنے نئے سوالوں کے ساتھ آگے بڑھاتی ہے۔