امریکی خلائی ادارے ناسا کے کیوریسیٹی روور نے مریخ پر تقریباً 14 سالہ سفر کے دوران ایک ایسی عجیب دریافت کی ہے جس نے سائنس دانوں کو بھی حیران کر دیا ہے۔
ادارے کے مطابق روور نے ماؤنٹ شارپ کی جانب بڑھتے ہوئے مریخ کی سطح پر چوڑے اور ہلکے گڑھے نما نشانات کی تصاویر لی ہیں جو بظاہر انسانی قدموں کے نشانات سے مشابہ دکھائی دیتے ہیں۔
ناسا کے مطابق یہ نشانات اس نوعیت کے ہیں جو کیوریوسٹی نے اپنے طویل مشن کے دوران پہلے نہیں دیکھے لیکن سائنس دان واضح کر چکے ہیں کہ یہ حقیقی قدموں کے نشان نہیں ہیں اور مریخ پر کسی مخلوق کی موجودگی کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
ماہرین کے مطابق مریخ کی سطح پر چھوٹے گڑھے اور نشیبی حصے بننا غیر معمولی بات نہیں۔ عموماً یہ اس وقت بنتے ہیں جب چٹان میں موجود نسبتاً سخت کنکریاں یا معدنی گٹھلیاں طویل عرصے میں گھِس کر ختم ہو جاتی ہیں جس کے بعد ان کی جگہ خالی جگہ باقی رہ جاتی ہے۔
اس کے باوجود ان نئے نشانات کی غیر معمولی شکل نے انہیں کیوریوسٹی کے مریخ پر طویل سفر کی دلچسپ اور پراسرار دریافتوں میں شامل کر دیا ہے۔