کراچی:
کراچی سمیت ملک بھر میں میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج ایڈمیشن ٹیسٹ (ایم ڈی کیٹ) 2026 آج منعقد ہوا۔
پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کے مطابق پاکستان کے 34 شہروں جبکہ ایک بین الاقوامی مركز رياض، سعودی عرب میں ٹیسٹ کا انعقاد کیا گیا۔
ملک بھر میں مجموعی طور پر 138,160 امیدوار رجسٹرڈ ہیں جس میں پنجاب کے 49 ہزار 199 امیدوار، خیبرپختونخوا کے 38 ہزار 841، سندھ کے 34ہزار 233 امیدوار، بلوچستان کے 9 ہزار 923، آزاد کشمیر کے 2,761 ،گلگت بلتستان کے 1,721 امیدوار، اسلام آباد کے 1,245 امیدوار شامل ہیں۔ ریاض میں ایم ڈی کیٹ کے 237 امیدوار رجسٹرڈ ہیں۔
ہر صوبے کے لیے علیحدہ سوالیہ پرچے تیار کیے گئے، ہر پرچے میں 180 سوالات شامل تھے، امتحان کے بعد سوالیہ پرچے متعلقہ جامعات کے پاس رکھے جا سکتے ہیں۔
کراچی میں ایم ڈی کیٹ کے امتحانات کے لیے این ای ڈی یونیورسٹی اور ڈاؤ اوجھا انسٹیٹیوٹ کو امتحانی مراکز کے طور پر مختص کیا گیا، جہاں صبح سویرے ہی امیدواروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا تھا۔ رپورٹنگ کا وقت صبح 6 بجے مقرر ہونے کے باعث طلبہ اور ان کے والدین بڑی تعداد میں مراکز کے باہر موجود رہے۔
این ای ڈی یونیورسٹی کے مرکزی گیٹ کے باہر امیدواروں اور والدین کا رش دیکھنے میں آیا، جبکہ یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک کی روانی بھی متاثر ہونا شروع ہوگئی۔ امتحانی مراکز کے اطراف ٹریفک کا دباؤ بڑھنے سے شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ صورتحال کے پیش نظر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے ہیں اور امتحانی مراکز کے اطراف پولیس اور رینجرز کی نفری تعینات کردی گئی ہے۔
سکھر آئی بی اے کے وائس چانسلر پروفیسر آصف احمد شیخ کے مطابق سندھ میں ایم ڈی کیٹ کے لیے 8 شہروں میں 9 امتحانی مراکز قائم کیے گئے جن میں کراچی، حیدرآباد، جامشورو، لاڑکانہ، سکھر، میرپورخاص، شہید بینظیرآباد اور اسلام آباد شامل ہیں۔ اسلام آباد میں ایک امتحانی مرکز قائم کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق این ای ڈی یونیورسٹی میں تقریباً 6 ہزار جبکہ ڈاؤ یونیورسٹی اوجھا کیمپس میں 4 ہزار 964 امیدواروں نے ٹیسٹ دیا یوں کراچی میں مجموعی طور پر تقریباً 11 ہزار طلبہ و طالبات ایم ڈی کیٹ میں شریک ہوئے۔
ایم ڈی کیٹ کا امتحان آج اتوار کو صبح 10 بجے شروع ہوا جبکہ امیدواروں کے لیے رپورٹنگ کا وقت صبح ساڑھے 6 بجے مقرر کیا گیا۔ ٹیسٹ کا دورانیہ 3 گھنٹے تھا۔
ایم ڈی کیٹ 2026ء کے حوالے سے ایک اہم تبدیلی یہ بھی کی گئی ہے کہ جیوینائل کارڈ کی لازمی شرط ختم کردی گئی۔ جیوینائل کارڈ نہ ہونے کی صورت میں بھی امیدواروں کو شرکت کی اجازت دی گئی۔