ایمل خان مومند: پختون تاریخ کا ناقابل فراموش کردار

انہوں نے اپنی قوم اور مٹی کی آزادی کے لیے مغل حکمرانوں کے خلاف جنگیں لڑیں


روخان یوسف زئی September 20, 2026

کہا جاتا ہے کہ تاریخ کسی قوم کا اجتماعی حافظہ ہوتا ہے اور جس قوم کا یہ حافظہ قوی ہوتا ہے وہ اپنے ماضی سے درخشندہ روایات اپنا کر حال میں داخل ہوکر مستقبل کے زینے پر قدم رکھتی ہے۔

جہاں تک پختونوں کی اجتماعی، نسلی اور قومی تاریخ ہے تو یہ امر قابل افسوس ہے کہ آج کی تیزی سے بدلنے والی دنیا میں بھی یہ قوم ابھی تک اپنی نسلی اور قومی تاریخ کی تلاش میں سرگرداں کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچی۔ اس قوم کی نسلی تاریخ کے بارے میں اب بھی مورخین آپس میں اختلافات کا شکار ہیں جس کی وجہ سے پختون قوم بھی اپنی نسلی شناخت کے بارے میں تذبذب کا شکار نظر آرہی ہے۔ جہاں تک پختون قوم کی تاریخی شخصیات کا تعلق ہے تو اس حوالے سے یہ قوم بڑی خوش قسمت واقع ہوئی ہے کہ اس کی تاریخ میں بے شمار ایسی شخصیات گزری ہیں جنہوں نے اپنی سرزمین اور قوم کے حقوق کے لیے اپنے اپنے دور میں بڑی بڑی قربانیاں دیں۔

انہی تاریخی شخصیات میں ایک بہت بڑا نام ایمل خان مومند کا ہے۔ مومند قبیلے سے تعلق رکھنے والی اس شخصیت کے بارے میں سینہ بہ سینہ ایک روایت یہ بھی چلی آرہی ہے کہ وہ اپنے پورے علاقے کے بادشاہ (باچا) رہے اور اس دور میں ان کے نام کا رائج سکہ بھی چلتا تھا۔ ان کی تاریخ پیدائش کے بارے میں ہماری تاریخ خاموش ہے تاہم پشتو کے صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک کے ساتھ مغل حکمرانوں کے خلاف مختلف جنگوں میں اپنی لشکر کے ساتھ لڑے اور ان کے انتہائی بااعتماد اور قریبی ساتھیوں میں سے تھے، جس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بھی خوشحال خان خٹک کے ہم عمر تھے۔

تاہم ان پر تحقیق کرنے والے چند محققین نے ان کے کارناموں خصوصا مغل حکمران اورنگزیب عالمگیر کیساتھ پانچ سے زیادہ مقابلوں اور افغانستان کے علاقہ لغمان کے کمانڈر آغر خان کے ساتھ لڑائی اور خوشحال خان خٹک کے ان کی تعریف میں لکھے گئے اشعار سے جو اندازہ لگایا ہے اس کے مطابق ان کی پیدائش کا سال 1032 یا 1033 ھجری یعنی 23- 1622 عیسوی ہو سکتا ہے۔

ایمل خان مومند کو پاکستان اور افغانستان میں ایک قومی ہیرو کا مقام و مرتبہ حاصل ہے۔ انہوں نے اپنی شجاعت اور بہادری سے اپنے وقت کے مغل حکمران بالخصوص اورنگزیب عالمگیر کے کئی حملوں کا مردانہ وار مقابلہ کیا۔ محققین کا کہنا ہے کہ ایمل خان مومند اور مغل افواج کے درمیان چھوٹے موٹے حملوں کے علاوہ پانچ باقاعدہ بڑی جنگیں لڑی گئیں۔ جن میں دو نوں اطراف سے ہزاروں کی تعداد میں افراد مارے گئے۔

سابق مومند ایجنسی کے علاقہ ہزار ناو میں رہائش پذیر اور مومند قبیلے کی شاخ کوکوزی سے تعلق رکھنے والے ایمل خان مومند کے سر پرسرداری کی پگڑی (لونگی، شملہ) اسی قبیلے کے روحانی بزرگ میاں جان محمد صاحب نے باندھی تھی۔ یہ وہ زمانہ تھا جب وادی پشاور اور اس کے مضافات میں صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک مغل افواج سے برسر پیکار تھے۔

اسی دور میں جب بھی مغل افواج نے دریائے کابل کے کنارے مومند یا خیبر کے راستے افغانستان پر چڑھائی کی تو ایمل خان مومند نے اپنے محدود جانبازوں کے ہمراہ بڑی دلیری سے اس لشکر کا راستہ روکا۔ انہوں نے اپنے وطن اور قوم کی آزادی کا سر تسلیم خم نہ ہونے دیا۔ اس بہادری اور جانبازی کی سزا دینے کے لئے ایک مرتبہ مغل افواج نے اپر مومند کے علاقہ ہزار ناو میں واقع ان کے گھر پر حملہ کر کے اسے نذر آتش کر دیا۔ اس حملے اور گھر کی آتشزدگی کا ذکر بھی خوشحال خان خٹک کے اشعار میں ملتا ہے۔

پورے پہ خونہ د ایمل خان شہ

پہ سول د خونے د خان خانان شہ

دا اور کہ وہ نہ مڑ دا یم نعرے کڑم

پہ وار وار پورے پہ درست جہان شہ

اشعار کا مفہوم یہ ہے کہ ایمل خان کے گھر کو جلا یا گیا، جس سے ایسا لگا کہ گھر کے تمام خوانین جل گئیں۔ اگر یہ آگ بجھ نہ گئی تو یاد رکھیں کہ یہ پورے جہان کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ جب اورنگزیب عالمگیر نے کشمیر میں رہائش پذیر نیازی پشتون قبیلے کے خلاف 1073 ھجری میں سختیاں شروع کیں۔ ان کو تنگ کرنا شروع کیا تو اسی سال ایمل خان مومند نے مغل حکمرانوں کے خلاف اپنی جدوجہد شروع کردی۔ 1073 ھجری کے بعد ایمل خان مومند اور مغل افواج کے درمیان کئی معرکے ہوئے۔ تنگ آکر جب مغل افواج نے ہزار ناو میں واقع آپ کے گھر کو نذر آتش کیا تومومند قوم نے1079 ھجری میں ایمل خان مومند کو اپنا باقاعدہ سردار چن لیا۔

ایمل خان مومند نے مومند کے مختلف علاقوں کے علاوہ درہ خیبر میں لواڑگی اور علی مسجد کے ساتھ ساتھ پشاور کے مضافات میں بھی مغل افواج سے جنگیں لڑیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ درہ آدم خیل کے علاقے میں بھی قیام کیا۔ اس جگہ کو ایمل چبوترہ کہا جاتا ہے۔ یہاں پشتو اور اردو کے معروف لکھاری اور صحافی شمس مومند کی کتاب’’ مومند قبائل (کل اور آج) سے صرف دو تین واقعات کا ذکر ضروری سمجھتا ہوں۔

٭ اورنگزیب عالمگیر کی فوج سے بے عزتی کا بدلہ:

خلاصہ کچھ یوں ہے کہ محمد امین خان شہنشاہ اورنگزیب کا گورنر تھا۔ انہوں نے حسن بیگ کو کونڑکا حاکم مقرر کیا تھا۔ حسن بیگ کے سپاہیوں نے کونڑ میں ایک صافی خاتون کی بے عزتی کی۔ یہاں پر مقیم صافی قبیلہ نے انتقا ما ان تینوں سپاہیوں کو قتل کردیا۔ حسن بیگ نے صافی قبیلہ کو مجرموں کو حوالہ کرنے کا حکم دیا جس سے صافی قبیلہ کے انکار پر دیگر مراعات یافتہ ملکان اور قبیلوں کو صافی کے خلاف کارروائی پر مجبور کیا۔ لیکن ان ملکان اور قبیلوں نے درپردہ صافیوں کو شاباش دی۔ اور بظاہر ان سے شکست کھا کر واپس چلے گئے۔ اس واقعہ نے تمام قبائل میں غصہ کی آگ بھڑکا دی۔

صافی کی سرکشی کی اطلاع گورنر محمد امین کو دی گئی۔ وہ راستے میں صافیوں کو سبق سکھانے کے غرض سے کابل کے سالانہ دورے پر وقت سے پہلے روانہ ہوگئے۔ صافی اور مومند نے شاہی فوج کا راستہ روک کر ان سے خاتون کی بے عزتی کا بدلہ لینے کیلئے اتحاد کیا۔ آفریدی اور شنواری قبائل کی حمایت بھی حاصل کی۔ ان سب نے ملکر درہ خیبر کے لنڈی کوتل میں مورچے بنا لیے اور سڑک پر رکاوٹیں کھڑی کردیں۔ گورنر امین خان 1627ء کے موسم بہار میں کابل کے سفر پر روانہ ہوئے۔

انہوں نے پشاوری مومندوں کے چند ارباب، چند اورکزئی سردار اور خوشحال خان خٹک کو بھی ہمراہ لیا۔ گورنر کو راستہ روکنے کی اطلاع ملی تھی۔ انہوں نے مومندوں کے پاس مشران کا جرگہ بھیجا کہ شاہی فوج کو راستہ دیا جائے۔ لیکن مومند اور صافی نے اس مطالبے کو مسترد کردیا۔ جس پر گورنر محمد امین نے بھرپور حملے کا حکم دیا۔ شاہی فوج کے خلاف اس حملے میں قبائلی لشکر کی راہنمائی ایمل خان مومند اور دریا خان آفریدی کررہے تھے۔ ان دونوں کی تعریف میں لکھے گئے خوشحال خان خٹک اور عبدالقادر خان خٹک کے اشعار اب تاریخ کا حصہ ہیں۔

یہاں اس جنگ کی تفصیل طوالت کا باعث بن جائے گی تاہم کہا جاتا ہے کہ محمد امین نے تاترہ پہاڑ کے دامن میں ندی کے راستے فوج بچا کر لے جانے کی کوشش کی۔ لیکن اسے وہاں بھی تباہی کا سامنا کرنا پڑا۔ کہا جاتا ہے کہ اس جنگ میں صرف امین بذات خود اور چار دیگر افراد زندہ بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ گورنر کی بیوی بچوں سمیت، بعض افسران کی بیویاں، تمام فوجی سازوسامان، اسلحہ، ہاتھی اور خزانہ قبائل کے قبضے میں آیا۔ بعد میں فدیہ دیکر بعض خواتین کو رہا کرا لیا گیا۔ لیکن محمد امین کی بیوی نے غیرت کی وجہ سے واپس جانے سے انکار کر دیا اور تارک الدنیا ہوگئی۔ خوشحال خان خٹک کی زبانی:

اول جنگ د لوڑے شاہ د تاترے وہ

چہ سلویخت زرہ مغل شول تار پتار

پہلی جنگ لوڑے شاہ تاترہ کی تھی جس مغل فوج کے تقریبا چالیس ہزار افراد مارے گئے۔ مومند اور صافی کے اتحاد اور آفریدی و شنواریوں کی بھرپور حمایت نے اورنگزیب کی فوج کو وہ نقصان پہنچایا جس کی تلافی وہ عمر بھر نہ کرسکے۔ درہ خیبر میں تباہی اور بدترین شکست کے بعد اورنگزیب نے محمد امین کو برطرف کرکے مہابت خان (بانی مسجد مہابت خان پشاور) کو دوبارہ گورنر مقرر کردیا۔

انہوں نے1673 اور1676 میں دو مرتبہ خیبر کے بجائے مومندوں کے راستے (کڑپہ اور خاپخ) سے گزر کر افغانستان جانے کی کوشش کی۔ لیکن خیبر کی فتح سے مومندوں کا مورال بہت بلند ہوچکا تھا۔ اور انہیں ایمل خان مومند جیسے تلوار کے دھنی اور مخلص رہنما کی راہنمائی نصیب تھی۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں مرتبہ کڑپہ، گندھاب اور خاپخ میں مغل فوج کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اور مومندوں نے اپنی آزادی اور خودمختاری پر آنچ نہیں آنے دی۔

کہا جاتا ہے کہ میدان جنگ میں شکست نہ دے سکنے کے بعد دشمن نے ایمل خان کو راستے سے ہٹانے کے لئے دوسرا حربہ آزمایا۔ اور ان کے کسی قریبی غدار رشتہ دار کو لالچ دیکر اس بات پر آمادہ کر لیا کہ وہ ان کا کام تمام کرے گا۔ اور اس طرح اس مرد میدان کو اپنے ہی علاقے میں زہر دے کر ابدی نیند سلا دیا گیا۔

ایمل خان مومند کے مزار اور آثار کے حوالے سے مومند قیبلے کے معروف مورخ ادیب اور قومی مشر میرا جان سیال اپنی کتاب (ایمل خان) میں لکھتے ہیں۔ ’’ایمل خان کی آخری رہائش تو ہزار نو (امان کوٹ) میں تھی مگر اس سے پہلے جس طرح کہ بیان کیا گیا ہے وہ چکنور میں بھی رہائش پزیر رہے۔ گاؤں چکنور کا ایک حصہ کوکوزئی قیبلے کا ہے جس کے آثار اب بھی موجودہیں اور وفات کے بعد بھی ایمل خان چکنور میں مدفون ہیں۔ ان کا مقبرہ وہاں موجود ہے۔

یاد رہے کہ چکنور اور ہزار نو، ایک دوسرے سے دور دراز علاقے نہیں ہے بلکہ یہ ایک ہی علاقے میں دریائے کابل کے دونوں طرف واقع دو دیہات کے نام ہیں اور یہاں مومند قبیلہ ہی آباد ہے۔ صاحب سیف و قلم خوشحال خان خٹک نے اپنے بیشتر اشعار میں اپنے دو اہم اور قریبی ساتھیوں ایمل خان مومند اور دریا خان کی تعریف کی اور انہیں یاد کیا۔

اور وہ دونوں خوشحال خان خٹک سے پہلے اس دنیا سے رخصت ہوئے جیسا کہ وہ اپنے ایک شعر میں کہتے ہیں کہ

ایمل خان دریا خان دواڑہ خودبین لاڑل

اوس خو پاتے و مغل تہ یو خوشحال دے

(ایمل خان اور دریا خان دونوں خودبین چل بسے۔ اب تو مغلوں کیساتھ پنجہ آزمائی کے لیے اکیلے خوشحال رہ گئے)