وزیراعظم نیویارک پہنچ گئے۔ 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے

وزیراعظم تنازعات کے پرامن حل، مکالمے، سفارت کاری اور تحمل کی ضرورت پر زور دیں گےاور عالمی صورتحال پرمؤقف پیش کریں گے


ویب ڈیسک September 21, 2026
فوٹو: فائل

وزیراعظم محمد شہباز شریف اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں پاکستان کی نمائندگی کیلئے مختصر پاکستانی وفد کے ہمراہ نیو یارک پہنچ گئے، جہاں وہ 25 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کریں گے۔

وزیراعظم کے ہمراہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ہیں۔ 

وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں علاقائی اور عالمی سلامتی کی بدلتی ہوئی صورتحال کے حوالے سے پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے جس میں ڈائیلاگ، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کی اہمیت پر زور دیں گے۔

وزیرِ اعظم خطے میں کشیدگی کے خاتمے، امن و استحکام کے فروغ کے لیے پاکستان کی فعال سفارتی و ثالثی کوششوں کو اجاگر اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، دہشتگردی کے خلاف جنگ، اسلاموفوبیا اور عالمی اقتصادی چیلنجز سمیت اہم عالمی امور پر پاکستان کی ترجیحات پیش کریں گے.

وزیراعظم مقبوضہ جموں و کشمیر اور فلسطین میں طویل عرصے سے جاری قبضے اور حق خودارادیت سے محرومی کے مسائل پر عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائیں گے۔

اعلامیے کے مطابق وزیراعظم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ترقی، موسمیاتی اقدامات اور دیگر اہم امور سے متعلق متعدد اعلیٰ سطحی اجلاسوں میں شرکت اور پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے۔

وزیراعظم اجلاس میں شرکت کیلئے موجود مختلف عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں کریں گے۔

قبل ازیں نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے حوالے سے اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار احمد نے صحافیوں کو بیک گراؤنڈ بریفنگ دی ہے اور بتایا کہ 81 ویں جنرل اسمبلی کا اجلاس 22 ستمبر سے 26 ستمبر اور 28 ستمبر کو منعقد ہوگا۔

نومنتخب صدر کی جانب سے جنرل ڈیبیٹ کا موضوع ’’اعتماد کی بحالی، تبدیلی کا انتظام: ایک اقوام متحدہ جو سب کے لیے کام کرے‘‘ مقرر کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف 25 ستمبر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، جس میں وہ علاقائی اور عالمی سلامتی کی صورت حال پر پاکستان کا مؤقف پیش کریں گے اور تنازعات کے پرامن حل، مکالمے، سفارت کاری اور تحمل کی ضرورت پر زور دیں گے۔

عاصم افتخار احمد نے کہا کہ وزیراعظم اپنے خطاب میں پائیدار ترقی، موسمیاتی تبدیلی، انسداد دہشت گردی، اسلاموفوبیا، عالمی اقتصادی چیلنجز، اقوام متحدہ میں اصلاحات اور پائیدار ترقی کے اہداف سمیت اہم عالمی معاملات پر پاکستان کی ترجیحات بھی اجاگر کریں گے۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان فلسطین اور مقبوضہ جموں و کشمیر سمیت طویل قبضے اور حق خودارادیت سے متعلق مسائل پر بھی عالمی برادری کی توجہ مبذول کرائے گا اور متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ان کے حل پر زور دے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم جنرل اسمبلی کے موقع پر عالمی رہنماؤں اور اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے، نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار کی بھی متعدد دوطرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں ہوں گی۔

عاصم افتخار احمد کا کہنا تھا کہ وزیر خارجہ 23 ستمبر کو مصنوعی ذہانت اور سلامتی سے متعلق سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، پاکستان اقوام متحدہ کے اعلیٰ سطح کے ہفتے کو علاقائی امن و استحکام، کثیرالجہتی نظام کے فروغ اور عالمی تنازعات کے حل کے لیے سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔

دوسری جانب ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ وزیراعظم شہباز شریف 22 ستمبر کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے دیے جانے والے عصرانے میں بھی شرکت کریں گے۔