یہ بیسویں صدی کے ابتدائی عشروں کا ہندوستان ہے، جس کے زعما، سیاست داں، نواب، راجا سب ایک عورت کے اطاعت گزار ہیں، جو برطانیہ کی ملکہ ہے، لیکن ایک ملکہ کے تابع دار ان حضرات سمیت ہندوستانی مردوں کی اکثریت عورت کے وجود کو ذاتی ملکیت سے زیادہ حیثیت دینے کو تیار نہیں۔
ان حالات میں اس سرزمین پر ایک عجیب شخص نمودار ہوتا ہے، جو عورت کو مرد کی برابری سے بھی آگے لے جاکر اسے معاشرے کی صف اول میں کھڑا کرنے کا آرزو مند ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ’’فیمنزم‘‘ کو بھی پیچھے چھوڑ دینے والا یہ مصلح بمبئی، دہلی، کلکتہ، لکھنؤ اور لاہور جیسے علمی اور تہذیبی وثقافتی مراکز کے بجائے برطانوی ہندوستان کے پس ماندہ ترین خطے اور اپنی روایات میں راسخ مسلمانوں اور ہندوؤں کی دھرتی سندھ کے شہر حیدرآباد کا باسی ہے اور وہیں سے اپنی فکر کا پرچار شروع کرتا ہے۔
یہ تھے دادا لیکھ راج خوب چند کرپلانی، اور ان کی تحریک کا نام تھا ’’اوم منڈلی‘‘ جو بعد میں ’’برہماکماریز‘‘ کے نام سے آگے بڑھی اور آج بھارت سمیت دنیا کے ایک سو دس ممالک تک پھیل چکی ہے۔
15 دسمبر 1876 کو حیدرآباد، سندھ جنم لینے والے دادا لیکھ راج خوب چند کرپلانی سونے کا کاروبار سے وابستہ تھے، وہ ایک اسکول ٹیچر کے بیٹے تھے۔ متوسط طبقے کے خاندان سے تعلق رکھنے والے لیکھ راج نے سنار اور جوہری کا پیشہ اپنایا اور اپنی محنت اور ذہانت کے باعث سندھ کے امیر ترین افراد میں شمار ہونے لگے۔
اور پھر سب کچھ بدل گیا، اور کسی روحانی تجربے سے پہلے اس بدلاؤ کا سبب بنیں عورتیں، ان کا درد، ان کی کہانیاں، ان کی تنہائی۔
برطانوی دورِ حکومت میں حیدرآباد کے ہندو تاجر سماج اور سرمائے کی دنیا میں اپنی الگ پہچان رکھتے تھے، انھیں ’’بھائی بند‘‘ کہا جاتا تھا، وہ ترقی کی راہ پر آگے بڑھتے ہوئے اپنا کاروبار دیگر ممالک تک پھیلاچکے تھے۔ ان کا دنیا کے مختلف حصوں میں پھیلی ہوئی کاروباری فرموں کا ایک بین الاقوامی نیٹ ورک بن گیا تھا۔ انھیں ’’سندھ ورکیز (Sindworkies) بھی کہا جاتا تھا، یعنی وہ لوگ جو سندھ سے وابستہ اشیا کی تجارت کرتے تھے۔ ان میں سے بہت سے لوگ دنیا بھر میں کام کرنے والی سندھ ورک فرموں سے وابستہ ہوگئے تھے اور کاروباری سلسلے میں کئی کئی برس بیرونِ ملک گزارتے تھے، جب کہ ان کے بیوی بچے پیچھے گھروں میں رہ جاتے تھے۔
ہندوستانی سماج پر گہری نظر رکھنے والے ماہر بشریات لارنس باب نے اپنے مضمون بہ عنوان ’’ایک جدید ہندو فرقے میں مقامی نسوانیت‘‘ میں لکھا ہے:
’’اگر سندھ ورک کے مردوں کے لیے دنیا بہت وسیع تھی تو ان کی بیویوں اور بیٹیوں کے لیے صورتِ حال بالکل مختلف تھی۔ عورتوں کی دنیا گھر کی چار دیواری تک محدود تھی، جہاں ان میں سے بیشتر پردے میں اور تنہائی کی زندگی گزارتی تھیں۔‘‘
شاید یہی تنہائی اور یہ احساس کہ مردوں کے بغیر گھروں میں پیچھے چھوڑ دی گئی ہیں، خواتین کو ایسے راستے تلاش کرنے پر آمادہ کرتا تھا جن کے ذریعے وہ اپنی زندگی کو زیادہ بامقصد اور روحانی معنویت سے بھرپور بنا سکیں۔
ایسے میں دادا لیکھ راج اور ان کی تعلیمات سامنے آئیں۔
دادا لیکھ ہندو دھرم کے فرقے’’راج ولبھ اچاریہ ویشنو مت‘‘ کے پیروکار تھے۔ کچھ دیگر پیشوں کی طرح ایک سنار کا خواتین سے براہ راست واسطہ رہتا ہے۔ اپنے کاروبار کے سلسلے میں انھیں بھی بہت سی خواتین سے ملاقات اور گفتگو کا موقع ملتا تھا اور وہ ان کے نامساعد سماجی حالات کا مشاہدہ کرتے تھے۔
وہ عورت کو سمجھ رہے تھے، اور اس کے ذریعے زندگی کا گیان حاصل کر رہے تھے۔
پھر ساٹھ سال کی عمر میں ایک دن انھوں نے اعلان کیا کہ انھیں روحانی مکاشفات ہورہے ہیں اور دیوتاؤں کی طرف سے انھیں ہدایات موصول ہورہی ہیں۔
ان کے ماننے والوں کا کہنا ہے کہ ابتدائی طور پر الہام یا خواب کے ذریعے انھوں نے جو مناظر دیکھے، ان کے معنی انھوں نے دنیا کے جلد خاتمے کی صورت میں لیے، لیکن کچھ عرصے بعد انھیں ایک نہایت خوب صورت منظر کا نظارہ ہوا اور انھوں نے آتما یا انرجی کو اترتے اور ایک دیوی کے روپ میں ڈھلتے دیکھا۔ اس منظر کی تعبیر انھوں نے یہ کی کہ دنیا بدل رہی ہے۔ یہ بدلتا روپ ایک دیوی کی صورت میں تھا، شاید یہی وجہ ہے انھوں نے اس عظیم بدلاؤ کے لیے عورت کو راہ نمائی اور قیادت کا مستحق گردانا۔ ان مکاشفوں کے بعد انھوں نے اپنے گھر میں ایک چھوٹا سا روحانی اجتماع منعقد کرنا شروع کردیا، جہاں آنے والے افراد ’’ست سنگ‘‘ (سچوںکی سنگت) میں شریک ہوتے، مذہبی گیت گاتے اور ’’بھگوت گیتا‘‘ کا مطالعہ کرتے تھے۔
اس اجتماع میں زیادہ تر خواتین اور بچے شرکت کرتے تھے۔ بالخصوص ہندو تاجروں یا بھائی بند برادری کی وہ خواتین اس کی طرف زیادہ متوجہ ہوئیں جن کے شوہر اور گھر کے مرد کاروباری سلسلے میں بیرونِ ملک یا دوسرے شہروں میں رہتے تھے۔ انھیں ان مذہبی سرگرمیوں میں روحانی سکون اور اطمینان ملنے کے ساتھ بے مصرف رہنے کے بجائے کچھ کرنے اور مقصدیت کا احساس بھی ہوتا تھا۔ بے مصرفی کا یہ تصور کارمعاش یا چولہاچکی میں مصروف غریب گھرانوں کی ہندو خواتین کے پاس پھٹکتا بھی نہیں تھا، چناں چہ وہ دادا لیکھ راج کی طرف متوجہ نہیں ہوئیں۔
رفتہ رفتہ دادالیکھ راج کی شخصیت روحانی پیشوا کی حیثیت اختیار کرگئی۔ ان پر اعتماد کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ وہ اپنا چلتا کاروبار اور مال ودولت تج کر روحانیت کی طرف آئے تھے۔ ان اجتماعات میں لفظ ’’اوم‘‘ کا جاپ کیا جاتا تھا، لہٰذا لیکھ راج کیپیروکار انھیں ’’اوم بابا‘‘ کہنے لگے اور ان کے قائم کردہ گروہ کا نام ’’اوم منڈلی‘‘ پڑ گیا۔ وقت گزرنے کے ساتھ اوم منڈلی کی سرگرمیاں وسیع ہوتی گئیں اور اس کی رکنیت بھی بڑھتی چلی گئی۔
دادا لیکھ راج کی تعلیمات دنیا سے بے رغبتی پر مبنی تھیں۔ ان کا زور تجرد کی زندگی اور پاک دامنی پر تھا۔
’’اوم منڈلی‘‘ کے قیام کے تین برس بعد دادا لیکھ راج نے خواتین کے کردار پر خاص زور دینا شروع کردیا اور ذات پات کے نظام کی پابندی سے بھی گریز کیا۔ یہ دونوں انقلابی اقدامات ہندو سماج کے ٹھیکے داروں کے لیے ناقابل برداشت تھے۔ یوں لگتا ہے کہ دادا لیکھ راج ’’مدر سری سماج‘‘ کے تصور کی طرف رجعت کے قائل تھے اور دھیرے دھیرے اس سمت قدم بڑھا رہے تھے۔ انھوں نے ’’برہما کماری‘‘ کے نام سے ایک کمیٹی بنائی، جس کی صدر ایک 22 سالہ خاتون، رادھے پوکرداس راجوانی، جنھیں ’’اوم رادھے‘‘ کہا جاتا تھا، کو مقرر کردیا۔ ان کی انتظامی کمیٹی میں مزید آٹھ خواتین شامل تھیں، جب کہ کسی بھی ذات سے تعلق رکھنے والے افراد کو اجتماعات میں شرکت کی اجازت تھی۔ دادا لیکھ راج کا کہنا تھا کہ نوجوان خواتین کو شادی نہ کرنے کا حق حاصل ہے، جب کہ شادی شدہ خواتین کو بھی تَجَرّد یا ازدواجی تعلقات سے گریز کی زندگی اختیار کرنے کا حق ہونا چاہیے۔ روایات کی پابند ہندوستانی معاشرت میں عورت کی ذاتی زندگی کے بارے میں فیصلے کرنے کا اختیار بھی عموماً صرف مردوں کو حاصل تھا، تو کسی عورت کو اپنی مرضی سے شوہر سے جسمانی طور پر لاتعلق ہوجانے کا اختیار کیسے گوارا کیا جاسکتا تھا!
لارنس باب کے مطابق اس تحریک کی ابتدائی خاص بات یہ تھی کہ خواتین محض پیروکار نہیں تھیں بلکہ تحریک کی اجتماعی اور مذہبی زندگی میں مرکزی حیثیت اختیار کرتی چلی گئیں۔ یہی پہلو آگے چل کر اسے عام ہندو مذہبی تنظیموں سے ممتاز کرنے لگا۔ لارنس باب دادالیکھ راج کے فلسفے کو ایسی نسوانی فکر سمجھتے ہیں جس کی جڑیں مغربی فیمنزم میں نہیں بلکہ ہندو مذہبی تصورِ زندگی میں پیوست ہیں۔
یہاں ایک اہم بات یہ تھی کہ عورتیں اس سرگرمی میں صرف سامع یا تابع حیثیت میں نہیں رہیں۔ رفتہ رفتہ انھوں نے اس مذہبی جماعت کی زندگی میں مرکزی کردار حاصل کرنا شروع کیا۔ یہی تبدیلی آگے چل کر برہما کماری تحریک کی نمایاں خصوصیت بن گئی۔ عورتوں کو یہاں صرف عبادت کا موقع نہیں ملا بلکہ ایک ایسی ’’اجتماعی شناخت‘‘ بھی ملی جس میں وہ اپنے آپ کو محض کسی مرد کی بیوی، بیٹی یا بہو کے طور پر نہیں بلکہ ایک روحانی شخصیت کے طور پر دیکھ سکتی تھیں۔ ان عورتوں کو صرف اجتماعی شناخت ہی نہیں ملی، بلکہ رادھے پوکر داس راجوانی اور ان جیسی کئی خواتین نے اس تحریک سے وابستہ ہوکر اپنی انفرادی شناخت بھی بنائی۔
اوم منڈلی کی تعلیمات کا سب سے زیادہ متنازع پہلو ’’ازدواجی تعلق اور جنسی زندگی کے بارے میں اس کا تصور‘‘ تھا۔ تحریک کے پیروکاروں کے نزدیک روحانی ترقی کے لیے پاکیزگی اور تجرد بنیادی اہمیت رکھتے تھے۔ اس لیے شادی شدہ مرد و عورت کو بھی جنسی تعلق سے گریز کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہ تصور اس معاشرے کے لیے انتہائی غیرمعمولی تھا، کیوںکہ روایتی ہندو خاندانی نظام میں شادی نہ صرف ایک سماجی ادارہ تھی بلکہ خاندان کے تسلسل اور مذہبی فرائض سے بھی جڑی ہوئی تھی۔ چناںچہ جب کچھ شادی شدہ خواتین نے اوم منڈلی سے وابستہ ہوکر ’’جنسی پرہیز اور روحانی زندگی‘‘ اختیار کرنے کی کوشش کی تو اس کا براہِ راست اثر ان کے شوہروں اور خاندانوں پر پڑا۔

یہی وہ مقام تھا جہاں ایک چھوٹا سا مذہبی اجتماع ’’سماجی مناقشے‘‘ میں تبدیل ہونے لگا۔
دادالیکھ راج کے ہاں عورت کی آزادی کا تصور مغربی نسوانی تحریک سے مختلف تھا۔ مغربی فیمنزم میں عورت کی آزادی کو عموماً تعلیم، ملازمت، سیاسی حقوق، معاشی خودمختاری اور موجودہ سماجی اداروں کی تبدیلی سے جوڑا جاتا ہے۔ لیکن برہما کماریوں کے ہاں آزادی کا راستہ بنیادی طور پر ’’روحانی پاکیزگی، دنیاوی خواہشات سے نجات اور جسمانی شناخت سے اوپر اٹھنے‘‘ سے گزرتا ہے۔ یعنی ان کے نزدیک مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ عورت پر مرد کا اختیار ہے؛ بلکہ اس سے بھی گہرا مسئلہ ’’جسم، خواہش اور دنیاوی وابستگی‘‘ تھی۔ لگتا یہ ہے کہ بہ طور سنار اور جوہری انھوں نے عورتوں میں سونے اور زیورات کی محبت دیکھتے ہوئے انھوں نے یہ راز پالیا کہ درحقیقت یہ خواہشات کی دلدل ہی ہے جس میں پھنس کر ’’مہیلائیں‘‘ اپنی زندگیاں اور ہر اختیار مرد کے حوالے کردیتی ہیں، سو ان کے نزدیک دنیاوی خواہشات سے نجات مرد یا سماجی روایات کی غلامی کا طوق اتار پھینکنے کا راستہ قرار پائی۔ اس ’’لیکھ راجی فیمنزم‘‘ کا دوسرا نکتہ سماج میں عورت کو مرکزی حیثیت دینا ہے، جو صنفی برابری کے تصور کے بھی پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
1930 کی دہائی کے آخری برسوں میں جب اوم منڈلی کی سرگرمیاں بڑھنے لگیں تو خاندانوں اور معاشرے میں اس کے خلاف ردعمل بھی پیدا ہوا۔ خاص طور پر شوہروں اور خاندان کے دوسرے مرد ارکان کو یہ بات ناقابلِ قبول لگنے لگی کہ خواتین ایک ایسے مذہبی حلقے سے وابستہ ہوں جو انہیں روایتی ازدواجی کردار سے الگ راستہ اختیار کرنے کی ترغیب دے رہا تھا۔
یوں اوم منڈلی کا مسئلہ محض مذہبی اختلاف نہیں رہا بلکہ خاندان، شادی، عورت کی خودمختاری اور مردانہ اختیار کا مسئلہ بن گیا۔
’’برہما کماریز‘‘ سے تعلق رکھنے والی بی کے شیوانی کا کہنا ہے کہ اپنی تشکیل سے قیام پاکستان تک اوم منڈلی صرف ساڑھے تین سو خواتین اور مردوں پر مشتمل چھوٹا سا گروہ تھا، لیکن اس قلیل تعداد کے باوجود یہ گروہ ہندو اشرافیہ خاص طور پر ’’بھائی بند‘‘ کہلانے والوں کے لیے خطرہ بن چکا تھا، جن کی خواتین تیزی سے دادا لیکھ راج کی تعلیمات کی طرف مائل ہورہی اور ان سے ناتا جوڑ رہی تھیں۔ عورتوں کو آگے لانے کے ساتھ جب انھوں نے 1937میں اپنی تمام دولت اوم منڈلی میں مرکزی حیثیت رکھنے والی ’’آٹھ بہنوں‘‘ کے ٹرسٹ کے حوالے کردی، تو گویا یہ اس بات کا اظہار تھا کہ لیکھ راج، جو اب ’’اوم بابا‘‘ کے بعد ’’برہمابابا‘‘ کہلانے لگے تھے، عورتوں کو انتظامی ذمے داریاں ادا کرتے دیکھنے بلکہ انھیں انتظامی قیادت سونپنے کے متمنی ہیں۔ سو عورتوں کے لیے ان کے افکار مزید پُرکشش ہوگئے۔ ان کی یہ روایت آگے بڑھتی رہی اور بی کے شیوانی کے مطابق آج لگ بھگ مساوی تعداد پر مشتمل ’’برہماکماریز‘‘ کے زیادہ تر اداروں کی سربراہی عورتوں یا ’’بہنوں‘‘ کے پاس ہے۔
دادا لیکھ راج کی بڑھتی مقبولیت اور ہندو خواتین کے ان کی طرف بڑھتے قدموں نے سندھ کی ہندو برادری میں ہلچل مچادی۔ آخر بھائی بند برادری کے بااثر ارکان کی سربراہی میں ایک کمیٹی اوم منڈلی کی مخالفت میں تشکیل دی گئی، جو ’’اینٹی اوم منڈلی کمیٹی‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ ایک طرف احتجاج کے ذریعے دادا لیکھ راج کے خلاف برہمی کا اظہار کیا جانے لگا، دوسری طرف سیاسی اثرورسوخ استعمال کرتے ہوئے اس وقت کے وزیراعلیٰ سندھ اللّہ بخش سومرو پر زور دیا جانے لگا کہ وہ اوم منڈلی پر پابندی لگائیں۔
21 جون 1938کو اس اوم منڈلی کے مخالفین نے اس کے مرکز کے باہر احتجاجی دھرنا دیا، دھرنا دینے والوں نے تنظیم کو ارکان کو مرکز کے اندر داخل ہونے سے روکا اور برادری میں خاصی ہلچل پیدا کردی۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دادا لیکھ راج کی مذہبی و روحانی نشستوں میں شریک ہونے والی خواتین کو زبانی بدسلوکی اور گھریلو تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ مرکز کی عمارت کو آگ لگانے کی کوشش بھی کی گئی، جس پر پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا۔
وزیراعلیٰ سندھ پر شدید دباؤ تھا کہ اوم منڈلی کی سرگرمیوں کی روک تھام کی جائے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مقصد کے لیے ہندو برادری کے زعما نے نے مختلف بااثر سیاسی شخصیات سمیت جی ایم سید کے ذریعے بھی وزیراعلیٰ کو پیغامات بھجوائے اور کابینہ کے ہندو وزیروں نے دھمکی دی کہ اگر اوم منڈلی کے خلاف کارروائی نہ کی گئی تو وہ مستعفی ہوجائیں گے۔ اس سے قطع نظر کے واقعات کس ترتیب سے پیش آئے، اس دور کے سندھ میں اوم منڈلی کا معاملہ بہت اہمیت اختیار کرگیا اور سیاسی عدم استحکام کا باعث بن چکا تھا۔ اس سب کے دوران کراچی کے مجسٹریٹ کی عدالت میں ایک درخواست دی گئی، جس میں الزام لگایا گیا کہ دادالیکھ راج نے ایک خاندان کی دو بارہ سے تیرہ سال کی بچیوں کو حبسِ بے جا میں رکھا ہوا ہے، جنھیں ان کے ماں باپ سے ملنے تک نہیں دیا جارہا۔ درخواست گزار نے مطالبہ کیا گیا کہ ان بچیوں کو بازیاب کرواکے والدین کے حوالے کیا جائے۔ دادالیکھ راج پر جادوگر ہونے، خواتین کو باغی بنانے، انھیں آوارگی کے راستے پر لے آنے اور ان کے جنسی استحصال کے الزامات بھی لگائے جانے لگے۔ ان کے خلاف سندھ کی ہندوبرادری کی بڑی بڑی اور نہایت اثرورسوخ کی حامل شخصیات آواز اٹھا رہی تھیں، ساتھ ہی اخبارات میں مضامین اور پمفلٹوں کی اشاعت کے ذریعے بھی ان کی مخالفت میں مہم چلائی جارہی تھی، تاہم وزیراعلیٰ سندھ دادا لیکھ راج اور اوم منڈلی کے خلاف کسی کارروائی سے گریزاں تھے، جس کا سبب یہ بتایا جاتا ہے کہ دادالیکھ راج کو کانگریس سے وابستہ کچھ بااثر شخصیات کی حمایت حاصل تھی۔
آخرکار احتجاج، ہنگامے اور سیاسی دباؤ کے نتیجے میں دونوں گروہوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہوگئی۔ 16 اگست 1938کو مقامی ضلعی مجسٹریٹ نے حکم دیا کہ اوم منڈلی کو اجتماعات منعقد کرنے سے روک دیا جائے۔ تاہم، سندھ کے عدالتی کمشنر کی عدالت میں اپیل کے بعد 21 نومبر 1938کو یہ پابندی ختم کردی گئی۔
اپنے گھیراؤ اور پُرتشدد واقعات کے بعد دادا لیکھ راج نے حیدرآباد چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور 1938کے دوسرے نصف میں اپنی اوم منڈلی سمیت کراچی منتقل ہوگئے۔
31 مارچ 1939 کو حکومت نے اوم منڈلی کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے لیے ایک ٹریبونل مقرر کیا۔ ٹریبونل نے جب اپنی رپورٹ اور نتائج جاری کیے تو اوم رادھے نے اس کے جواب میں ’’کیا یہ انصاف ہے؟‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب مرتب کی، جس میں انھوں نے ٹریبونل پر تنقید کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ اس کے قیام کی کوئی آئینی بنیاد نہیں تھی اور اس نے اوم منڈلی سے ثبوت حاصل کیے بغیر اپنے نتائج مرتب کیے تھے۔ مئی 1939 میں حکومتِ سندھ نے ٹریبونل کے نتائج کو بنیاد بنا کر اوم منڈلی پر پابندی کو عملاً دوبارہ نافذ کردیا اور 1908کے ’’کرمنل لا ایمینڈمنٹ ایکٹ‘‘ کی دفعہ 16 کے تحت اوم منڈلی کو ’’غیرقانونی تنظیم‘‘ قرار دے دیا۔ اس کے باوجود اوم منڈلی نے اپنے ’’سَت سنگ‘‘ جاری رکھے اور حکومت نے پابندی کو عملی طور پر نافذ نہیں کیا۔
ان دنوں میں دادا لیکھ راج کے مخالفین نے انھیں قتل کروانے کے لیے ایک اجرتی قاتل کا سہارا لیا، لیکن یہ قاتلانہ حملہ ناکام ہوگیا۔
وقت کا پہیا چالیس کی دہائی میں تیزی سے گھوما، قیام پاکستان کا غلغلہ بلندا ہوا، اور سندھ کی ہندو برادری سب بھول بھال کر مستقبل کی فکر میں کھوگئی۔ تقسیم کے بعد مئی 1950 میں دادالیکھ راج کے ساتھ اوم منڈلی نے کراچی سے نقل مکانی کی اور بھارتی ریاست راجسھتان کے پہاڑی مقام ماؤنٹ ابو‘‘ میں سکونت اختیار کرلی۔ بھارت میں اوم منڈلی نے بہت تیزی سے خود کو منظم کیا اور پھیلایا۔ اب اس تنظیم کی شناخت اوم منڈلی کی جگہ ’’برہماکماری‘‘ ہوچکی تھی۔ پچاس کی دہائی میں برہما کماری نے بھارت کی سرحدوں سے نکل کر بین الاقوامی سطح پر اپنی سرگرمیوں کو پھیلانے کا پروگرام شروع کیا۔ دادالیکھ راج 18 جنوری 1969کو دنیا سے کوچ کرگئے، لیکن ان کی تحریک جاری رہی۔1970کی دہائی میں یہ تحریک لندن اور پھر مغربی دنیا کے دیگر حصوں تک پھیل گئی۔
حیدرآباد میں جنم لینے والی یہ تنظیم آج دنیا بھر میں متحرک ہے، جس کی سب سے نمایاں سرگرمیوں میں اس کے ’’روحانی عجائب گھر‘‘ شامل ہیں، جو بھارت کے بیشتر بڑے شہروں میں قائم کیے گئے ہیں۔1980 میں برہما کماریز نے اقوامِ متحدہ کے محکمۂ برائے عالمی مواصلات کے ساتھ ایک غیر سرکاری تنظیم (NGO) کے طور پر رجسٹریشن حاصل کی۔ 1983میں برہما کماریز کو اقوامِ متحدہ کے محکمہ برائے اقتصادی و سماجی امور کے ساتھ مشاورتی حیثیت حاصل ہوگئی۔
برہما کماریز کی تحریک کی قیادت اور اس کی رکنیت آج بھی بنیادی طور پر خواتین پر مشتمل ہے۔ برطانیہ میں اس کے 42 مراکز میں سے صرف ایک تہائی مراکز مرد چلاتے ہیں، جب کہ تنظیم کی مجموعی رکنیت میں خواتین کا تناسب تقریباً 80 فی صد ہے۔
دنیا بھر میں اس تنظیم کے ارکان کی تعداد ایک اندازے کے مطابق 2000 میں تقریباً 4 لاکھ 50 ہزار ہوچکی تھی۔
دادا لیکھ راج پر الزامات، ان کے مکاشفوں کی حقیقت اور ان کے عقیدت مندوں کے دعووں سے قطع نظر، وہ سندھ کی تاریخ کا ایک دل چسپ اور نہایت اچھوتا اور انقلابی فکرکا حامل کردار ہیں۔ محض چند سو افراد، جن میں نصف سے زیادہ عورتیں تھیں، کی سنگت میں گھرانوں سے ایوانوں تک کھبلی مچادینے والا یہ روحانی فیمنسٹ سندھ کی تاریخ کا ایک انوکھا باب ہے۔