بات اگرچہ بظاہر چھوٹی سی لگتی ہے لیکن یہی چھوٹی سی بات بہت موٹی بھی ہو سکتی ہے بلکہ بہت بڑی مصیبت بھی بن سکتی ہے، آفت بھی بن سکتی ہے اوربلائے عظیم بھی بن سکتی ہے کہ ایک معمولی سی چنگاری پورے خرمن کو بھی جلا سکتی ہے۔ مثلاً اس ’’ٹرمپوا‘‘ کو لے لیجیے، یہ بھی کسی زمانے میں جب بچہ ہوگا تو کچھ بھی نہیں ہوتا ہوگا، لوگ اسے سرخ چیونٹی، لال بیگ اور بھڑ کہتے ہوں گے، یہ نرگس، مدھوبالا، ہیمامالنی، مادھوری، انجلینا جولی، سکارلٹ جانسن بھی بچپن میں بہتی ناکوں والی معمولی بچیاں ہی ہوں گی لیکن وقت کے ساتھ کیا سے کیا بن گئیں، اسی لیے تو کسی دانا نے کہا ہے کہ
مگس کو باغ میں جانے نہ دینا
کہ ناحق خون پروانے کا ہوگا
چھوٹا سا ایٹم جو نظر نہیں آتا تھا، ہیروشیما اور ناگا ساکی کے لیے قیامت بن گیا تھا، مطلب یہ کہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ہی بڑی بن جاتی ہیں۔ چنگیز، ہلاکو، قبلائی ، اٹلا، تورمن، الکھن، تیمور، ہٹلر وغیرہ بھی کبھی نادان بچے رہے ہوں گے۔
وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ایک انگریز ڈاکٹر نے شہنشاہ جہانگیر کی ایک بیٹی کا علاج کیا تو شہنشاہ نے پوچھا، مانگ کیا مانگتا ہے۔ کوئی پاکستانی ہوتا تو نہ جانے کیا مانگتا لیکن وہ انگریز تھا، اپنے لیے سوچنے کے بجائے قوم کے لیے سوچنے والا چنانچہ اس نے بنگال کے ساحل پر ایک کوٹھی مانگی اور پھر وہ کوٹھی ایسی بلا بن گئی کہ جس نے پورے ہندوستان کو اس کے شہنشاہ سمیت نگل لیا۔ اور اب ہمیں جس بلا کا ڈر ہے، وہ بھی آیندہ ، خطرہ چارسو چالیس… آٹھ سو اسی… گیارہ ہزار یا ایک لاکھ ثابت ہو سکتا ہے لیکن لوگوں کا دھیان ذرا بھی اس کی طرف نہیں جارہا ہے… سب کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں:
سب سمجھتے ہیں اور سب چپ ہیں
کوئی کہتا نہیں کہ تم سے کہیں
ہمارا اشارہ ان کالی بلاؤں کی طرف ہے جو دکان کی چھتوں پر بڑی تیزی سے ابھر رہی ہے، لوگ انھیں بڑی خوشی خوشی شمسی شمسی اور سولر سولر پکار رہے ہیں اور ہمیں اس سے کسی گہری سازش کی بو… بلکہ بدبوآرہی ہے۔ کیوں کہ سورج پہلے پڑوسی دشمنوں کے پاس آتا ہے، وہاں کافی دیر تک رہتا ہے کیا پتہ ان لوگوں نے اس پر کوئی جنتر منتر کر کے ہمارے خلاف اور اپنے حق میں کر لیا ہو۔
اگر آپ کو یاد ہو۔ خیر یہ تو ہماری خوش فہمی تھی، ہو سکتا ہے کہ آپ کے پاس ’’یادداشت ‘‘ یا حافظہ نام کی کوئی ’’چیز‘‘ بھی ہوگی کیوں کہ جہاں تک ہم نے دیکھا ہے آپ کی یادداشت فلم گجنی کے عامر خان سے بھی کم ہے، ابھی ابھی کسی کو زندہ باد کر رہے ہوتے ہیں کہ اچانک مردہ باد پر اتر آتے ہیں لیکن ہمارے یاد دلانے پر یاد آجائے گا کہ امریکا کے صدرکلنٹن نے وہاں چارپانچ دن گزارے تھے اور یہاں ہمارے پاس صرف چھ گھنٹے کے لیے آیا تھا، اس پر بھی ہم مہینوں مونچھوں کو تاؤ دے کر اتراتے پھرتے تھے کہ صاحب نے ہمارے ہاں قدم رنجا فرما کر ہمیں ’’اپنا‘‘ بنا لیا ہے۔
قتل ہوں گے ترے ہاتھوں سے خوشی اس کی ہے
آج اترائے ہوئے پھرتے ہیں مرنے والے
کلنٹن کی طرح یہ سورج جو ابھی پہلے وہاں خوب خوب جلوے دکھاتا ہے اور وہاں سے پھر تھوڑی دیر ہمیں بھی جلوہ دکھا جاتا ہے۔ خطرہ یہ ہے کہ اگر یہ سورج اسی طرح ہمارے ہاں کالے شیشے لگوانے لگا تو ہمارے کتنے لاڈلے وسائل سے محروم ہو جائیں گے، یہ جو واپڈا،باپڈا، شابڈا اور نپرا، ٹپرا اوگرہ ، بوگرہ، جوگرہ قسم کے ’’ادارے‘‘ پائے جاتے ہیں جنھیں ہماری حکومتوں نے بڑی محنت سے تیار کیا ہوا ہے اور قوم کی خدمت کر رہے ہیں، یہ بچارے کہاں جائیں گے۔
آئے ہے بے کسی ’’ عیش‘‘ پہ رونا غالب
کس کے گھر جائے گا ’’سیلاب بلا‘‘ میرے بعد
یہ بجلی کی کمپنیاں، ان کے ساتھ ہمارے خدمت گاروں کی ساجھے داریاں۔ ففٹی ففٹی اور دو تیریاں، دو میریاں۔
یہ سوچ کر کلیجہ منہ کو آتا ہے کہ حکومتیں کتنی محنت سے یہ ادارے بناتی ہیں اور ان میں اپنے اپنے خدمت گار بٹھاتی ہیں اورسب سے بڑی بات یہ کہ کالانعاموں کو ان کے آگے باندھ کر ڈالا ہوا ہے، وہ سب کچھ ختم ہو جائے گا ۔کالانعام ’’آزاد ‘‘ ہو جائیں گے تو کتنے خدمت گار بیروزگار ہوجائیں گے۔ کتنا بڑا مسئلہ ہے ،کبھی سوچا ہے کسی نے کہ ان لاڈلوں پر کیا گزرے گی؟ ابھی سے اس سورج اور اس کے کالے شیشوں کا کچھ کرناچاہیے، اس ملک کی لائق فائق حکومتوں نے کس حسن انتظام سے ڈیموں وغیرہ کے نہ بننے میں کتنی محنت کی ہے، وہ سب رائیگاں چلی جائیں گی، روکیے، روکئیے ورنہ یہ ’’روشن چہرہ‘‘ اور تاریک شیشے، ہمارا سب کچھ دریا برد کر دیں گے۔