سرحدی امن کے لیے کابل کو ذمے داری نبھانی ہوگی

پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ معاملہ صرف سرحدی سلامتی کا نہیں۔


ایڈیٹوریل September 21, 2026

کبھی کبھی سرحد پر کھینچی ہوئی لکیر نقشے سے زیادہ ایک سوال بن جاتی ہے۔ یہ سوال صرف یہ نہیں ہوتا کہ لکیر کے اُس پار کون آباد ہے، بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ اُس پار سے آنے والی گولی، بارود اور نفرت کا جواب کہاں دیا جائے۔ پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ صورتِ حال اسی سوال کی سنگینی لیے ہوئے ہے۔

ایک طرف دو ہمسایہ ملک، مشترک تاریخ، مذہبی قربت، قبائلی رشتوں اور معاشی ضرورتوں سے بندھے ہوئے ہیں، دوسری طرف ایسی دہشت گردی مسلسل مسئلہ بنتی جا رہی ہے جس کے بارے میں پاکستان کا کہنا ہے کہ اس کے مراکز، سہولت کار اور منصوبہ بندی کے ڈھانچے افغان سرزمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی تضاد اب تعلقات کے معمول کے سفارتی پیرائے سے نکل کر قومی سلامتی کے بنیادی مسئلے میں تبدیل ہو چکا ہے۔

 ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا عرب نیوز کو دیا گیا حالیہ انٹرویو اسی بدلتی ہوئی کیفیت کی واضح ترجمانی کرتا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کا افغان طالبان حکومت سے بنیادی مطالبہ یہ ہے کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے۔

انھوں نے دوحہ معاہدے کے وعدوں کی پاسداری پر زور دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ اگر یہ ذمے داری پوری نہیں کی جاتی تو پاکستان کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے۔ یہ بیان محض سخت لہجے کا اظہار نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد کا بحران اب ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں الفاظ سے زیادہ قابلِ عمل اقدامات کی اہمیت ہے۔

 کوہاٹ میں جمعہ کی نماز کے دوران مسجد کو نشانہ بنانا اس بحران کی انسانی قیمت کا ایک اور المناک حوالہ ہے۔ عبادت گاہ میں موجود نمازی اور پولیس اہلکار کسی میدانِ جنگ کا حصہ نہیں تھے۔ ایسے حملے دہشت گردی کے اس تصور کو نمایاں کرتے ہیں جس میں مذہب، عبادت اور انسانی جان کی حرمت سب کو نشانہ بنایا جاتا ہے۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا ہے کہ محض مذمت کافی نہیں، بلکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد نیٹ ورکس، ان کے مبینہ مراکز، بھرتی کے نظام اور معاونت کے ڈھانچوں کے خلاف قابلِ اعتبار اور قابلِ تصدیق کارروائی ضروری ہے۔

یہ نکتہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دہشت گردی کے خلاف کسی بھی حکمتِ عملی کی کامیابی کا پیمانہ بیانات نہیں بلکہ حملوں کی روک تھام، سہولت کاروں کا خاتمہ، مالی و افرادی معاونت کا انقطاع اور سرحدی علاقوں میں امن کا قیام ہے۔ پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی سلامتی اور خودمختاری پر سمجھوتا نہیں کرے گا اور عالمی برادری کو بھی افغان طالبان پر مؤثر دباؤ ڈالنا چاہیے۔

 یہاں دوحہ معاہدے کا حوالہ بھی اہم ہو جاتا ہے۔ افغانستان کے بارے میں بین الاقوامی سفارت کاری میں اس معاہدے نے یہ توقع پیدا کی تھی کہ افغان سرزمین کو دوسرے ممالک کے خلاف دہشت گرد سرگرمیوں کے لیے استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ پاکستان کا استدلال اسی وعدے سے جڑا ہوا ہے، اگر کسی معاہدے کے بنیادی حفاظتی وعدے پر عمل درآمد نہ ہو تو اعتماد کی بنیاد کمزور ہوتی ہے، تاہم اس صورت حال کا دوسرا پہلو بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا کہ معاہدوں کی تعبیر، ذمے داری کے تعین اور کسی مخصوص گروہ کی سرگرمیوں سے ریاستی تعلق ثابت کرنے کے لیے قابلِ تصدیق شواہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ اسی لیے مستقبل کی سفارت کاری میں دعوؤں کے بجائے شواہد، الزام کے بجائے قابلِ جانچ معلومات اور عمومی بیانات کے بجائے مخصوص ذمے داریوں کی زبان زیادہ موثر ہو سکتی ہے۔

پاکستان کے لیے افغانستان کے ساتھ معاملہ صرف سرحدی سلامتی کا نہیں۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت، ٹرانزٹ، انسانی آمدورفت، قبائلی روابط اور معاشی مفادات بھی وابستہ ہیں، اگر دہشت گردی کا مسئلہ مسلسل بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف سیکیورٹی چوکیوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ سرحدی منڈیاں، تجارتی راستے، سرمایہ کاری اور عام شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر ہوتی ہے۔ اس لیے پائیدار حل کا مطلب صرف حملوں کا جواب دینا نہیں بلکہ ایسا ماحول پیدا کرنا بھی ہے جہاں سرحد معاشی رابطے کی راہ بنے، مستقل تصادم کی لکیر نہ بنے۔

 بلوچستان کی صورتِ حال اس مسئلے کی پیچیدگی میں مزید اضافہ کرتی ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر کے مطابق دہشت گرد عوامی حمایت سے محروم ہیں اور بندوق کے زور پر اپنا نظریہ مسلط کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، جب کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ بیرونی عناصر اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان سرگرمیوں کو تقویت دی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں ایک بنیادی حقیقت یہ ہے کہ دہشت گرد تنظیمیں صرف اسلحے سے نہیں بلکہ بیانیے، خوف، مقامی محرومیوں اور معلوماتی انتشار سے بھی فائدہ اٹھاتی ہیں، لہٰذا سیکیورٹی کارروائی کے ساتھ ساتھ بلوچستان میں سیاسی شمولیت، معاشی مواقع، مقامی سطح پر ریاستی اعتماد اور موثر اطلاعاتی حکمت عملی بھی ضروری ہے۔ بندوق کسی علاقے کو خاموش کر سکتی ہے۔

 دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی میں مذاکرات کے سوال پر بھی حالیہ بیان نے ایک واضح رخ دکھایا ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ مذاکرات کو خارج از امکان قرار دیا۔ یہ موقف ریاستی سطح پر اس سوچ کی نمائندگی کرتا ہے کہ ایسے گروہ جو شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، انھیں سیاسی عمل کا فریق بنانے سے ریاستی رٹ متاثر ہو سکتی ہے۔

تاہم دہشت گردی کے خاتمے کی وسیع حکمت ِ عملی میں مذاکرات سے انکار کے ساتھ ساتھ ان عناصر کے لیے قانونی راستہ، جو تشدد ترک کر کے ریاستی قانون کو قبول کریں اور عام شہریوں کو شدت پسند تنظیموں سے الگ رکھنے کی حکمت عملی بھی اہم رہتی ہے۔ ریاست کی قوت اسی وقت مکمل موثریت اختیار کرتی ہے جب اس کے پاس طاقت کے ساتھ قانون، انصاف، ترقی اور سیاسی تدبر بھی موجود ہو۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان موجودہ کشیدگی میں ایک اور اہم پہلو سرحدی نظم و نسق ہے، اگر حملہ آور سرحد پار سے آتے ہیں تو محض نگرانی کافی نہیں، آمدورفت کے ریکارڈ، معلومات کا تبادلہ، سرحدی نگرانی، قانونی تجارت کے راستوں کی حفاظت اور غیر قانونی نقل و حرکت کی روک تھام ایک مربوط نظام کا تقاضا کرتی ہے۔ دونوں جانب ایسے میکانزم قائم کیے جا سکتے ہیں جن میں مخصوص واقعات کی مشترکہ تحقیقات، فوری رابطہ اور شواہد کی بنیاد پر کارروائی شامل ہو۔ اس سے کم از کم یہ فائدہ ضرور ہو سکتا ہے کہ ہر واقعے کے بعد الزام تراشی کا دائرہ وسیع ہونے کے بجائے ذمے داری کے تعین کا کوئی عملی طریقہ موجود ہو۔

افغانستان کے لیے بھی یہ مسئلہ محض پاکستان کا مطالبہ نہیں ہونا چاہیے، اگر افغان سرزمین پر مختلف مسلح گروہ سرگرم رہتے ہیں تو اس کا خطرہ صرف ایک ہمسایہ ملک تک محدود نہیں رہتا۔ خطے میں انتہا پسند نیٹ ورک سرحدوں، قومیتوں اور ریاستی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی حالیہ بحث میں پاکستان نے بھی افغانستان سے نکلنے والی دہشت گردی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا اور بتایا کہ گزشتہ تین برس میں ہزاروں پاکستانی اس نوعیت کی دہشت گردی میں شہید ہو گئے ہیں۔

اب فیصلہ کن مرحلہ یہ ہے کہ کابل اپنے الفاظ کو عملی اقدامات سے کس حد تک جوڑتا ہے اور اسلام آباد اپنی سلامتی کی ضروریات کو سفارتی، قانونی اور علاقائی سطح پر کس طرح آگے بڑھاتا ہے۔ پاکستان کو اپنے دفاع کے حق کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنانا ہوگا کہ ہر اقدام واضح شواہد، متعین اہداف اور وسیع تر علاقائی مفاد کے تناظر میں ہو۔ افغانستان کے ساتھ تعلقات واضح شرائط کے ساتھ ہونے چاہیے اور بات چیت اگر جاری رہے تو وہ محض رسمی ملاقاتوں کے بجائے قابلِ پیمائش نتائج سے وابستہ ہونی چاہیے۔

آخرکار پاک افغان تعلقات کا مستقبل کسی ایک بیان سے نہیں بلکہ اس سوال کے جواب سے متعین ہوگا کہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف مسلح کارروائی واقعی رکتی ہے یا نہیں؟ اگر دہشت گرد نیٹ ورک، ان کی قیادت، تربیت، مالی معاونت اور سرحد پار نقل و حرکت کا سدباب ہوتا ہے تو اعتماد کی بحالی کی گنجائش پیدا ہوگی، اگر حملے جاری رہتے ہیں تو ہر نیا واقعہ دونوں ملکوں کے درمیان پہلے سے موجود خلیج کو مزید گہرا کرے گا۔ خطے کو ایک ایسی سرحد کی ضرورت ہے جہاں تجارت خوف پر غالب آئے، سفارت کاری بندوق سے آگے ہو اور ریاستی ذمے داری محض الفاظ میں نہیں بلکہ عملی نتائج میں دکھائی دے۔

پاکستان کے لیے امن کا راستہ کمزوری سے نہیں بلکہ واضح قومی مفاد، مضبوط دفاع، موثر سفارت کاری اور قانون کی بالادستی سے گزرے گا، جب کہ افغانستان کے لیے پائیدار استحکام اسی وقت ممکن ہوگا جب اس کی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف مسلح گروہوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ نہ بننے پائے۔