ہر بار کالم لکھنے سے پہلے جی چاہتا ہے کہ دہشت گردی، بد امنی ، قیامت خیز مہنگائی ، حکومت کے خلاف متنوع احتجاجات ، مسلسل غیر مستحکم ہوتے سیاسی حالات اور افغانستان میں مُلّا مقتدر طالبان ظالمان اور افغانستان میں بھارتی پراکسیز کے علاوہ بھی کسی اور موضوع پر اطمینان سے کچھ لکھا جائے ، مگر یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم بد قسمت پاکستانیوں کی جان مذکورہ دل دہلا دینے والے موضوعات ہی سے نہیں چھُوٹ رہی۔ بگڑتے معاشی ، سیاسی اور سماجی حالات کی وجہ سے ہر پاکستانی مایوسی ، نااُمیدی اور ڈپریشن کے گرداب میں پھنس چکا ہے۔یہ ہلاکت خیز گرداب ہمارے حکمرانوں نے پیدا کیے ہیں ۔
یہ حکمران اور اُن کی آل اولادیں خود تو جملہ تفکرات سے آزاد ہیں ، مگر پاکستانیوں کی اکثریت اپنے حال اور مستقبل سے سخت پریشان ۔ کیسے ممکن ہے کہ وطنِ عزیز کے کسی بھی چھوٹے بڑے شہر میں بم دھماکوں، خود کش حملوں اور دہشت گردوں کی گولیوں سے معصوم پاکستانیوں کے چیتھڑے اُڑ رہے ہوں اور کوئی بھی پاکستانی اِن خونیں اور خونریز سانحات سے لاتعلق بنا بیٹھے رہے ؟ یہ قطعی ممکن نہیں ہے ، اگرچہ یہ بم دھماکے، آئے روز کے خود کش حملے اور دہشت گردوں کی وارداتیں اب ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ بن چکے ہیں ۔ کیسی بد قسمت قوم ہیں ہم ۔ اور کیسے بد نصیب ہیں ہم پاکستانی ۔ اور ہم بد نصیب پاکستانیوں کو کیسے بے حس حکمران میسر آئے ہیں ، جن کی جائیدادیں ، دولت اور آل اولادیں تو غیر ممالک میں محفوظ ہیں اور ہم اکثریتی پاکستانی بے امان و لاوارث بنا دیئے گئے ہیں!
18ستمبر2026 ، بروز جمعہ، خیبر پختونخوا کے پانچویں بڑے شہر، کوہاٹ ، میں دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں نے جو ظلم کمایا ہے ، چار روز گزرنے کے باوجود ہنوز پورا پاکستان افسردہ اور اُداس ہے ۔ ہم سب دلگیر اور دلگرفتہ ہیں۔ ہم سب کو کوئی جائے امان اور جائے پناہ نظر نہیں آ رہی ۔ اٹھارہ ستمبر کے خود کش دھماکے نے کوہاٹ کو لہومیںڈبو دیا ہے ۔ 21 بے گناہ افراد قتل کر دیئے گئے ۔ شہدا میں ، مبینہ طور پر،16پولیس کے جوان اور افسر تھے اور باقی عام شہری ۔ ایک سو سے زائد جو شدید مجروح ہُوئے ہیں ، اُن کا غم اور دُکھ علیحدہ ہے ۔
گویا سیکڑوں خاندان اور خانوادے پلک جھپکتے میں لا مختتم غم اور دکھ میں مبتلا کر دیئے گئے۔ اُجڑنے والے یہ خاندان کبھی اِس خونی سانحہ کو فراموش نہیں کر سکیں گے۔ ہم سب خون کی ندی میں ڈبو دیئے جانے والے کوہاٹیوں کے غم و اندوہ میں زبانی کلامی برابر کے شریک تو ہیں، مگر ہم اُن کے دکھ بانٹنے اور اُن کے جانی نقصانات کو پورا کرنے کے لیے ، عملی طور پر ، کچھ نہیں کر سکتے ۔ ہم سب بے چارگی اور بے بسی میں بس سینہ اور دل تھام کر بیٹھے ہیں اور اپنی اپنی باری کے منتظر ہیں۔
ہماری مغربہ سرحد کے پار ، مُلّا افغان طالبان کی شکل میں ، ہمیں جو کوڑھ مل چکا ہے ، اِس سے مفر اور نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی ۔ حقیقت مگر یہ بھی ہے کہ یہ لعنت اور کوڑھ ہم نے خود خریدا ہے : ایہہ ہنجو میرے آپ خریدے ، مَینوں جان تو پیارے نیں! ماضی قریب میں مذکورہ شرپسند عناصر کو جب ہمارے اپنے ملک میں( پہلے سوویت رُوس اور پھر امریکا کے خلاف) جو سرپرستی فراہم کی جا رہی تھی،تب شائد ہمیں ادراک ہی نہیں تھا کہ اِس سرپرستی کے باطن میں ، زیرِ احسان عناصر کی شکل میں ، کیسا خوں آشام عفریت پَل رہا ہے ! اِس عفریت نے دُنیا کے دہشت ناک اور تباہ کن عناصر سے مصافحہ کر لیا ہے۔ یہ عفریت آج پاکستان کے ازلی دشمن، بھارت، کو اپنا ہی ڈی این اے قرار دے کر پاکستان کو ہر مقام اور ہر لمحہ زَک اور تکلیف پہنچانے کے دَرپے ہیں۔
اِس عفریت نے پاکستان کے سبھی احسانوں کو پسِ پشت ڈال دیا ہے ۔ یہ کھل کر پاکستان اور پاکستانیوں کے خلاف خونخوار اور خونریز کھیل کھیل رہا ہے۔ اور ہماری بے حسی ملاحظہ کیجئے کہ جب ہماری حکومت نے اسی عفریت کی آل اولادوں کو پاکستان میں زیر تعلیم بے دستاویز افغان میڈیکل اسٹوڈنٹس کو نکال باہر کرنے کا فیصلہ کیا تو ہمارے اندر ہی سے متعدد ایسی آوازیں اُٹھیں کہ اِنہیں مت نکالا جائے۔
ہماری ایک بڑی عدالت نے تو ان کے حق میں فیصلہ تک صادر فرما دیا ۔ یہ فیصلہ دراصل مذکورہ عفریت اور اُن کی خوں آشام اولادوں کے حق میں تھا ۔ ایسی لاتعداد بد قسمت مثالیں ہمارے سامنے آ چکی ہیں کہ پاکستان ہی سے تعلیم حاصل کرنے والے متعدد افغان طلبا واپس افغانستان گئے اور جاتے ہی دہشت گرد افغان طالبان ظالمان حکومت کی فراہم کردہ بندوقیں اُٹھائیں اور پاکستان پر حملہ آور ہو گئے ۔18ستمبر کو جس عفریت نے کوہاٹ پر خونریز حملہ کیا ہے ، اِس میں بھی کچھ بدمعاش اور دہشت گرد افغان شہری تھے ۔
کوہاٹ کو بد معاش افغان دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں نے پہلی بار خونم خوں نہیں کیا۔ ماضی قریب پر نگاہ دوڑائی جائے تو ایسے کئی سانحات کوہاٹ میں دکھائی دیتے ہیں ۔ 2009 میں خود کش حملے میں 35کوہاٹی شہید کر ڈالے گئے۔ اگلے سال ، اپریل 2010 میں، پھر کوہاٹ پر ، دو دنوں میں ، یکے بعد دیگرے، دو خود کش حملے کیے گئے۔ اِن میں مجموعی طور پر52کوہاٹی بد نصیب شہری شہید کر دیئے گئے ۔ ستمبر2010 میں پھر کوہاٹ ہی میں خود کش حملہ ہُوا اور 20معصوم شہری موت کے گھاٹ اُتر گئے۔
جنوری 2011 میں معروف کوہاٹ ٹنل پر افغان طالبان نے حملہ کیا اورنصف درجن پاکستانی ، کوہاٹی شہری موت کے منہ میں دھکیل دیئے گئے ۔ فروری2014 میں کوہاٹ شہر سے باہر دہشت گردوں نے پھر حملہ کیا اور 12 کوہاٹی شہید ، مار ڈالے گئے ۔ اکتوبر 2014 میں ایک بار پھر کوہاٹ پر افغان دہشت گردوں اور امن و پاکستان دشمنوں نے حملہ کیا اور 6افراد لقمہ اجل بن گئے ۔ 2017 میں پھردہشت گرد حملے میں 5کوہاٹی پولیس اہلکار شہید کر دیئے گئے ۔ اور اب 18ستمبر2026 کے خود کش حملے میں دہشت گرد تقریباً12گھنٹے تک پرانی کوہاٹ پولیس لائن میں قتل و غارت کرنے کے ساتھ ساتھ 12گھنٹے تک کوہاٹی پولیس اور دیگر پاکستانی فورسز کے خلاف گولیاں چلاتے رہے ۔ حملہ آور دہشت گرد خود بھی ، سات کی تعداد میں ، جہنم واصل کر دیئے گئے ۔
کوہاٹ میں مبینہ طور پر ہی نہیں ، یقینی طور پر افغان طالبان و افغان دہشت گردوں نے قیامت برپا کی ہے ۔ دہشت گردوں کے جس خوں آشام لیڈر ( گل بہادر) نے ذمے داری قبول کی ہے ، وہ بھی تو افغان طالبان ظالمان کی زیر سرپرسی افغانستان میں بیٹھا ہے۔ افغان طالبان حکومت کو اِس حملے سے کسی بھی طرح بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ اٹھارہ ستمبر کو جب یہ خونریز حملہ ہُوا ، اُس سے چند گھنٹے قبل ہی افغان طالبان ظالمان کے ترجمان ، ذبیح اللہ ( نام نہاد) مجاہد، نے ایک انٹرویو میں کہا تھا: ’’ہم پاکستان کو Crushing Deadly Response دینے والے ہیں ‘‘۔ ذبیح اللہ کے اِس بیان کے ٹھیک دو گھنٹے بعد افغان طالبان نے کوہاٹ میں 21پاکستانیوں کو ذبح کر دیا ۔
بھارت ،افغان طالبان کے اِس ظلم پر سب سے زیادہ خوش اور خورسند ہے ۔ افغان طالبان ظالمان بھارتیوں کے ساتھ رَل مل کر پاکستان کے خلاف بروئے کار آ چکے ہیں ۔ طالبان کاافغانستان آج بھارتی پراکسیز کا گڑھ بن چکا ہے۔افواجِ پاکستان کے ترجمان ،لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری صاحب، نے 19ستمبر کو ایک عرب میڈیا کو جو تفصیلی انٹرویو دیا ہے، اِس میں بھی اُنھوں نے ایک بار پھر کھل کر اور بالتفصیل بتایا ہے کہ طالبان کاافغانستان آج فتنہ الخوارج اور بھارتی پرکسیز کا مرکز بن چکا ہے ۔ کوہاٹ کا یہ خونریز حملہ اُس وقت ہُوا ہے جب ترکیے کے انٹیلی جنس چیف افغانستان اور پاکستان کے دَورے پر تھے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ افغان طالبان نے ترکیے کے چیف انٹیلی جنس افسر کی پرواہ کی نہ نمازِ جمعہ کی عظمت و تقدیس کی ۔ دُکھے دل کے ساتھ ہم سب پاکستانی یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ آج مقتدر افغان طالبان بد معاشی ، بداخلاقی اور بداصولی کے عروج پر کھڑے ہیں ۔