ٹیچر آف دی ریولیشن علی شریعتی

شاہ کی پولیس کو اس خطرے کی بو پہلے ہی آچکی تھی۔ انھوں نے تہران ایئر پورٹ پر شریعتی کو گرفتار کر لیا۔


زمرد نقوی September 21, 2026
www.facebook.com/shah Naqvi

شاہ کی پولیس کو اس خطرے کی بو پہلے ہی آچکی تھی۔ انھوں نے تہران ایئر پورٹ پر شریعتی کو گرفتار کر لیا۔ یہ تھا ان کا ایران میں استقبال ۔ لیکن کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ جسے قید کیا گیا ہے اس کے پاس ایک طاقت ایسی ہے جسے جیل کی دیواریں بھی نہیں روک سکتیں۔ وہ نکلے گا اور اس کی آواز مشہد سے تہران تک گونجے گی۔ علی شریعتی کہتے تھے کہ ہمارے نزدیک رہبری کا نظریہ یہ نہیں ہے کہ اخلاقی رہبری کا فریضہ تو مسیح کے ہاتھوں میں دے دیا جائے اور سیاسی رہبری قیصر کے ہاتھوں سپرد کر دی جائے۔

اسی طرح زندگی کا بھی نظریہ یہ نہیں ہے کہ ہم اپنی اخروی زندگی کے لیے تو دین کو اساس بنائیں لیکن ہماری دنیاوی زندگی کی اساس عقلیت پسندی پر ہو۔ علی شریعتی کو جیل سے رہائی کے بعد مشہد یونیورسٹی بھیج دیا گیا۔ پھر کچھ عرصے بعد ان کا ٹرانسفر دوبارہ تہران کر دیا گیا۔ شاید یہ سوچ کر کہ انھیں یہاں کنٹرول کرنا آسان ہوگا۔ لیکن یہاں تو انھیں وہ اسٹیج مل گیا جس نے تاریخ ہی بدل دی۔ یہ تھا حسینیہ ارشاد۔

ایک ایسا ادارہ جو سمجھیں ایک لیبارٹری تھی۔ جہاں اسلام ماڈرن ازم کا فیوژن ہو رہا تھا۔ ذرا شریعتی کو دیکھیں یہاں وہ ممبر پر نہیں بیٹھتے تھے۔ کھڑے ہو کر بولتے تھے۔ سر پر عمامہ نہیں تھری پیس سوٹ اور ٹائی پہن کر آتے تھے۔ آیتیں نہیں سناتے تھے، تجزیے کرتے تھے۔ سامنے کون بیٹھتے تھے۔ مدرسے کے طالب علم نہیں یونیورسٹی کے نوجوان۔ وہ لڑکے جو مارکسزم سے انسپائرڈ تھے جو مغرب سے مرعوب ہو رہے تھے، جو مذہب سے دور ہو رہے تھے۔ شریعتی نے ان کی نبض پر ہاتھ رکھا۔ پھر وہ نظریہ پیش کیا۔ جس نے ایران میں ایک زلزلہ بپا کر دیا۔

 اصل میں شریعتی نے وہ باب کھولا تھا جو صدیوں سے بند تھا۔ انھوں نے کہا کہ شیعت کی تاریخ 700 سال تک مزاحمت کی تاریخ تھی۔ یہ انقلابیوں کا مذہب تھا۔ جسے علی شریعتی نے سرخ شیعت کہا۔ پھر 1501 میں یہ ہوا کہ ایران میں صفوی سلطنت قائم ہو گئی۔ صفویوں نے سب کچھ بدل دیا۔

 شریعتی انقلابی تھے۔ نوجوانوں کو لگا کہ جیسے انھیں نئی زندگی مل گئی۔ شریعتی کی آواز ٹیپ کیسٹ کے ذریعے پورے ایران میں پھیل گئی۔ یہی اس دور کا سوشل میڈیا تھا۔ یونیورسٹی کے ہاسٹل میں گھروں کے تہہ خانوں میں دلوں میں دماغوں میں شریعتی گونج رہا تھا۔ وہ نظریہ جو کل تک نوجوانوں کو غیر دلچسپ لگتا تھا۔ اب ان کے لیے ایک ہتھیار بن چکا تھا وہ جو کل تک مغرب کی طرف دیکھ رہے تھے، اب وہ اپنی روٹس پر اپنے کلچر پر فخر کر رہے تھے۔

شریعتی نے انھیں ایک نئی پہچان دی۔ روشن فکر۔ ایک ایسا مسلمان جو ماڈرن بھی ہے اور مومن بھی۔ جو نماز بھی پڑھتا ہے اور سامراج کے خلاف لڑتا بھی ہے۔ جب آپ اتنی اونچی آواز میں سچ بولتے ہیں۔ چاہے کسی کا بھی نام نہ لیں تو آپ کے دشمن بن ہی جاتے ہیں۔

علی شریعتی نے اپنے دو دشمن بنا لیے۔ ایک وہ جو تخت پر بیٹھا تھا دوسرا وہ جو ممبر پر بیٹھا تھا۔ ایک طرف شاہ کی خفیہ پولیس ۔ اور دوسری طرف سخت گیر ملا۔ شریعتی بیک وقت اب ایران کی دو بڑی پاورز سے ٹکڑا رہے تھے۔ اور دونوں نہیں ختم کرنا چاہتے تھے۔ اب ایک خطرناک کھیل شروع ہو چکا تھا۔ ایک طرف شاہ ایران اس کی خفیہ پولیس تھی جو شریعتی کو اسلامی مارکسٹ سمجھتی تھی۔ انھیں ڈر تھا کہ وہ نوجوانوں کو مسلح بغاوت کی طرف لیجا رہے ہیں۔ خفیہ رپورٹ میںا نہیں حکومت کا نمبر ون دشمن قرار دیا گیا۔

لیکن دوسری طرف روایتی مذہبی طبقہ بھی ان کا دشمن بن چکا تھا۔ کیوں؟ کیونکہ شریعتی نے کہا تھا کہ اسلام سمجھنے کے لیے تمہیں کسی ملا کی ضرورت نہیں ۔ خود قرآن پڑھو۔ خود سمجھو۔ ایک جگہ لکھا کہ قرآن استخارہ نکالنے کے لیے ہے۔ یا چیزوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے وقت حصول برکت کے لیے ہے۔

کیا تبرک وسیلے۔ محفل نکاح کا شگون اور بچے اور گلے کے بازو میں باندھنے کے لیے ہے۔ یہ بات تو روایتی ملاؤں کے پیٹ میں لات مارنے کے برابر تھی۔ انھوں نے شریعتی پر کفر کے فتوے لگانے شروع کر دیئے۔ انھیں کمیونسٹ کہا۔ یہ تک کہا کہ شریعتی تو سوشیالوجسٹ ہے۔ وہ عالم نہیں کہ مذہبی معاملات پر بات کرے۔ ذرا اس المیے کو دیکھیں۔ سیکولر طبقہ انھیں ملا سمجھ کر نفرت کرتا تھا۔ اور ملا انھیں سیکولر اور کمیونسٹ سمجھ کر نفرت کرتے تھے۔ علی شریعتی دونوں کے لیے اجنبی تھے۔ وہ آؤٹ سائیڈر تھے۔ شریعتی نے ایک بار لکھا تھا کہ یہ لوگ جو مجھے عقل کے ذریعے قرآن کے متن میں تازہ معنی تلاش کرنے کا حق نہیں دیتے۔ خود بے دھڑک ہر طرح کی تاویلات کرتے رہتے ہیں۔ لیکن مجھے حق نہیں دیتے کہ قرآن مجید کے روشن ترین اور صالح ترین مفہوم کو بیان کروں۔

 ڈاکٹر علی شریعتی (متوفی 1977 ) ایران کی ایک جانی پہچانی شخصیت ہیں اور ان کی کئی کتب اردو میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ ڈاکٹر علی شریعتی کا تعلق خراسان کے ایک تصوف زدہ خاندان سے تھا۔ ان کے پڑدادا ملا قربان علی حکیم کو اہلِ علاقہ نے دینی رہنمائی کے لیے مزینان آنے کی دعوت دی تھی۔ وہ اپنے دور میں ملا صدرا کے فلسفے پر یقین رکھنے والے چنیدہ علما میں سے تھے۔ علی شریعتی نے اپنی کتاب ’’کویر‘‘ میں اپنے پڑدادا سے منسوب ’’کرامات‘‘ بیان کی ہیں۔ ان کے مطابق ان کے پڑدادا پر ’’جذبہ‘‘ کی حالت طاری ہوتی تھی اور قصبے والے انھیں ’’ولی اللہ‘‘ سمجھتے تھے۔