مشرق وسطی کے ا پر منظر بدل گیا ہے۔ اب بیشتر توجہ حوثیوں پر ہے یا پھر ان حملوں پر ہے جو سعودی عرب پر ہیں۔ یہ معمولی بات نہیں ہے کہ مسلمانوں کے مرکز عقیدت مکہ المکرمہ پر حملہ کیا گیا ہے؟یہ حملہ کس نے کیا ہے؟ عمومی خیال تو یہی ہے کہ اس کے ذمے دار حوثی ہیں لیکن حوثی اس کی تردید کر چکے ہیں۔ قرین قیاس ہو سکتا ہے کہ یہ حملہ ان کی طرف سے نہ ہوا ہو۔ اس لیے کہ وہ ہیں تو مسلمان۔ حوثیوں کی تردید کو تسلیم کر لیا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حملے کس نے کیے ہیں؟
یہ سوال پیچیدہ ہے لیکن قرائن کی مدد سے اسے سمجھنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بحران کا آغاز تو ایران پر حملے سے ہوا لیکن حالیہ عالمی بحران کا آغاز یہاں سے نہیں ہوا، وینزویلا سے ہوا جہاں اس کے تیل کے ذخائر ہتھیا لیے گئے۔توقع کی جا رہی تھی کہ وینزویلا کی طرح نہیں تو تھوڑی مزاحمت کے بعد ایران ڈھے جائے گا اور ایران کے توانائی کے ذخائر بھی قبضے میں آ جائیں گے۔ یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔
اب سعودی عرب نشانہ ہے اور اس کے تیل کی سہولتوں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ کیا سعودی عرب کے توانائی کے ذخائر پر بھی قبضہ مطلوب ہے؟ اس کا امکان ہوسکتا ہے لیکن کچھ اس سے بڑھ کر بھی ہو سکتا ہے۔ یہ تو کوئی راز نہیں ہے کہ اسرائیل نے آج تک اپنی حدود کا نقشہ جاری نہیں کیا۔ اگر مشرق وسطیٰ کا یہ محاذ گرم ہوتا ہے تو اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے لیے کوئی شرارت کر سکتا ہے۔ اس لیے سعودی عرب پر حملہ محض حوثیوں کی طرف سے گرم کیا جانے والا محاذ نہیں ہے۔ اس میں اور بھی بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے تعاون کے لیے سعودی عرب کی درخواست کو مسترد کیا جانا اور حوثیوں کے امریکا سے رابطوں کاآخر کچھ مقصد تو ہو گا۔
حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے سعودی عرب کے تیل کے ذخائر یقینا خطرے میں ہیں لیکن یہ خطرہ مزید بڑھ جاتا ہے جب ٹرمپ یہ "خوش خبری" دیتے ہیں کہ نومبر تک تیل کی قیمتوں میں ناقابل یقین حد تک کمی ہو جائے گی۔ ایران کا تیل تو سردست ہاتھ سے نکل چکا ہے، اس کے بعد کس ملک کا تیل ہو سکتا ہے جس پر نظر ہو سکتی ہے؟
یہ مختلف نکتے ہیں جنھیں جوڑ کر صورت حال کو سمجھا جا سکتا ہے اور یہ اندازہ بھی لگایا جا سکتا ہے کہ سعودی عرب پر حملوں کے پیچھے کون ہے۔سوال یہ ہے کہ اس صورت حال سے کیسے نمٹا جائے؟ فوری طور پر تو نگاہ مکہ دفاعی اتحاد کی طرف اٹھتی ہے۔
اس ضمن میں جب سوال اٹھائے گئے تو جواب میں کہا گیا کہ یہ صرف دفاعی معاہدہ ہے۔ اس ضمن میں افواج پاکستان کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری کا تازہ بیان خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ یہی بات بعض دیگر اہم شخصیات نے کہی ہے۔ عمومی طور پر اس سے یہ مطلب لیا گیا ہے کہ یہ اتحاد اس کشیدگی سے علیحدہ رہا ہے۔ شاید اس بات کو سمجھنے میں جلدی کی گئی ہے۔ ورنہ بات تو بالکل سامنے کی ہے۔ مکہ اتحاد اگر دفاعی ہے تو اس وقت سعودی عرب کا دفاع ہی تو مطلوب ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب کے دفاع اور مکہ اتحاد کے مقاصد میں کوئی تضاد نہیں ہے۔
اگر اتحاد کے مقاصد اور صورت حال میں کوئی تضاد نہیں ہے تو پھر یہ اتحاد دفاع کے لیے کب متحرک ہو گا؟ اس بارے میں بھی جنرل احمد شریف نے کسی لاگ لپیٹ کے بغیر بتا دیا ہے کہ ایسی حکمت عملی کھلے بندوں ظاہر نہیں کی جا سکتی۔ ایسا کرنا بھی نہیں چاہیے۔ تینوں رکن ملک باہمی مشاورت کے بعد یقینا جلد ہی کوئی مناسب فیصلہ کر لیں گے۔ فیصلہ کیا ہو سکتا ہے، وزیر دفاع خواجہ آصف نے یہ کہہ کر واضح کر دیا ہے کہ یہ معاہدہ سعودی عرب کے دفاع کے لیے متحرک ہو سکتا ہے ۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے بھی اس ضمن میں دو ٹوک بات کہی ہے کہ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے۔
اب ایک اہم بات۔ ایران سے حوثیوں کے بارے میں پاکستان نے بات کی تھی جس پر ایران نے ان سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے۔ ایران کے مؤقف کا احترام ہے لیکن یہ بات اتنی سادہ نہیں ہے۔ ایران کے حوثیوں سے ماضی میں جو روابط رہے ہیں، انھیں ضرور بروئے کار آنا چاہیے تا کہ سعودی عرب کو جنگ کا میدان بنا کر اسرائیل کے لیے راستہ ہموار کرنے کی سازش ناکام بنائی جا سکے۔ اس صورت حال میں اسرائیل کے بارے میں شبہات اور وجہ سے بھی بڑھ جاتے ہیں۔ یہ وجہ حوثیوں کا ایک اعلان ہے جس میں انھوں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ اسرائیل کے بحری جہازوں پر حملہ نہیں کریں گے۔
ویسے اس ضمن میں ساری تنقید کا ہدف ایران کو بنانا مناسب نہ ہو گا کیوں کہ حوثیوں کے امریکا سے رابطوں کے انکشاف کے بعد بہت کچھ بدل چکا ہے تاہم ایک ذمے داری ایران کی ہے۔ ایران پر حملے کے دوران اسے سعودی عرب سے لڑانے کی بہت سی کوششیں ہوئیں جنھیں سعودی عرب نے اپنے تحمل سے ناکام بنا دیا۔ اب یہی ذمے داری ایران کی ہے۔
سبب یہ ہے کہ حوثیوں کے حملوں کی وجہ سے سعودی عرب دو طرف سے گھر گیا ہے اور اس کی تیل کی برآمدات رک چکی ہیں۔ تیسرا راستہ نہر سویز کا ہے جو طویل ہے۔ اس لیے اس راستے سے برآمدات کے لیے وقت اور اخراجات دونوں بڑھ جاتے ہیں۔ یہ صورت حال سعودی عرب کے لیے اسی قسم کا خطرہ بن چکی ہے جیسا خطرہ ماضی قریب میں ایران کو درپیش تھا۔
اس صورت حال میں ایران کیا کر سکتا ہے؟ چین نے ایران کو یہ بتا دیا ہے۔ اس ہفتے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی صاحب بیجنگ پہنچے تو اس موقع پر چین نے جو کچھ کہا، وہ غیر معمولی ہے۔ چین نے یہ تاثر برقرار رکھا کہ وہ ایران کی حمایت جاری رکھے گا لیکن اس کے ساتھ ہی ایران کو مشورہ دیا کہ حوثی جو کچھ کر رہے ہیں، وہ انھیں اس سے باز رکھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ باب المندب کھلا رکھا جائے اور سعودی عرب کی برآمدات کا راستہ بند نہ کیا جائے۔ یہی بات پاکستان نے بھی ایران سے کہی تھی۔
سوال یہ ہے کہ اب ایران کیا کرے گا؟ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مشرقِ وسطی کے تازہ بحران کی چابی ایران کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔ جنگ سے قبل چین کے ذریعے ایران اور سعودی عرب کے تعلقات میں بہتری آ گئی تھی۔ جنگ کے دوران ایران سے سعودی عرب میں امریکی اڈوں پر حملے کیے گئے جو اس نے تسلیم کیے لیکن کچھ حملے اس کے علاوہ بھی ہوئے جن کا الزام ایران پر لگایا گیا جس کی اس نے تردید کی۔ بعد میں یہ ثابت بھی ہو گیا کہ یہ حملے ایران کے نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ایران اور سعودی عرب کو لڑائی میں الجھانا تھا۔ یہ سازش سعودی عرب کے تحمل کی وجہ سے ناکام ہو گئی۔ اس سے ایران نے کیا سیکھا؟
یہی اصل سوال ہے۔ سیدھی سی بات یہ ہے کہ ایران پر آزمائش کے وقت سعودی عرب نے دانش مندی سے کام لیا اور وہ عرب و عجم کے تعصبات سے اوپر اٹھ گیا۔ اب سعودی عرب پر آزمائش آئی ہے تو ایران کو بھی یہی کرنا چاہیے۔ اسی میں خطے کی بھلائی ہے اور خود ایران کی بھی۔ کیا وہ ایسا کرے گا؟
حوثیوں کے پیدا کردہ بحران میں امریکا اور اسرائیل بھی کود پڑے ہیں۔ اس لیے سعودی عرب کے لیے باب المندب کے فوری طور پر کھلنے میں رکاوٹیں پیدا کی جا سکتی ہیں۔ اس کا حل یہ ہے کہ ایران سعودی عرب کے لیے آبنائے ہرمز کا راستہ فوری طور پر کھول دے۔ وہ ایسا کرتا ہے تو مشرق وسطی کا منظر نامہ دیکھتے ہی دیکھتے بدل جائے گا اور بہت سی سازشیں دم توڑ جائیں گے۔ اب ایران کے تدبر کا امتحان ہے۔