اسلام آباد:
پاکستانی صارفین کے لیے مشرق وسطیٰ میں کشیدگی بڑھنے کے باعث قریب ترین مستقبل میں مشکلات میں مزید اضافے کا امکان ہے۔ کشیدگی بڑھنے کے ساتھ ہی ملک کو تیل کی قلت کے خدشات کا بھی سامنا ہے۔
پاکستان تیل کا ایک بڑا حصہ سعودی عرب سے درامد کرتا ہے۔ آبنائے ہرمز پہلے ہی بند ہے اور پاکستان کے پاس بحیرہ احمر کا ایک متبادل راستہ تھا جہاں حوثیوں نے قبضہ کر لیا ہے۔
حکومت نے اگست میں تیل کے تین بحری جہازوں کا بندوبست کیا تھا جنھیں حوثیوں نے روک لیا تھا، تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ نے مداخلت کے لیے ایران سے رابطہ کیا اور حوثیوں نے بعد میں انھیں چھوڑ دیا۔
پاکستان کو مستقبل میں تیل کی زیادہ قیمت ادا کرنے کے لیے مزید ڈالر درکار ہوں گے۔ حکومت اس وقت خلیج کے علاوہ خام تیل کے دیگر ذرائع تلاش کرنے پر غور کر رہی ہے۔
حکومت عمان اور فجیرہ سے فراہمی پر غور کر رہی ہے اور لیبیا، امریکا، مغربی افریقہ اور قازقستان کے آپشنز کا جائزہ لے رہی ہے۔
چونکہ پاکستانی بندرگاہوں میں بہت بڑے خام تیل بردار جہازوں کو لنگر انداز کرنے کے لیے مطلوبہ گہرائی نہیں ہے۔ اس لیے حکام کا پلان ہے کہ عمان میں صحار کے قریب یا حب کے ساحل کے قریب امریکہ سے آنے والے وی ایل سی سی کو کھڑا کیا جائے اور اس کے سامان کو ایک جہاز سے دوسرے جہاز میں منتقل کیا جائے۔
سنرجیکو واحد ریفائنری ہے جو اپنی ایس پی ایم پر دگنے سائز کے جہاز کو لنگر انداز کر سکتی ہے۔ تمام تر چیلنجز کے باوجود پاکستان نے اپنی پیٹرولیم سپلائی چین کو فعال رکھا ہے۔
تاہم حکام اور صنعت نے خبردار کیا ہے کہ نومبر کے لیے تیل کے بحری جہاز حاصل کرنا کہیں زیادہ مشکل اور مہنگا ہو گا۔ آبنائے ہر مز بند ہونے کے بعد بھی پاکستان کو سعودی عرب کی ایسٹ ویسٹ پائپ لائن سے تیل فراہم کیا جاتاتھا۔
اس ماہ یہ پائپ لائن بھی ڈرون حملوں کے باعث بند ہے۔ وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا سعودی سپلائی فی الوقت بند ہے اور ایک پاکستانی بحری جہاز کو سٹینڈ بائی پر رکھا گیا ہے۔
پیٹرولیم ڈویژن کا کہنا ہے کہ ملک کے پاس 20 دنوں سے زیادہ کا سٹاک موجود ہے۔ حکام کے مطابق نومبر کی تیل سپلائی کے لیے منصوبہ بندی جاری ہے۔ پاکستان میں دو ماہ میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 68 روپے اور ڈیزل میں 57 روپے فی لیٹر کا اضافہ ہوچکا۔
انڈسٹری کے حکام نے بتایا کہ مال برداری اور جنگی خطرے کے انشورنس پریمیم میں تین سے چار گنا اضافہ ہوا ہے۔ اس کے باوجود پاکستانی صارفین امریکہ میں موٹر سائیکل یا گاڑی سواروں کے مقابلے میں ڈیزل کی کم قیمت ادا کر رہے ہیں۔
انڈسٹری ذرائع نے بتایا نومبر کے بحری جہازوں کے لیے جو قیمتیں بتائی جا رہی ہیں وہ نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔ تاہم وزیر پٹرولم کو امید ہے کہ متبادل انتظامات ملک کی سپلائی چین کو بلا تعطل برقرار رکھیں گے۔