مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ ورچوئل اداکارہ ٹِلی نارووڈ کے ایک انٹرویو نے اس وقت غیر معمولی صورت اختیار کرلی جب وہ اچانک انگریزی میں گفتگو کے بجائے چینی زبان میں بولنے لگیں۔
یہ واقعہ فلم ’مِس الائنڈ‘ سے متعلق انٹرویو کے دوران پیش آیا اور اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔
اداکار ٹام کونٹی نے گفتگو کے دوران ٹِلی نارووُڈ سے فلم میں ان کے ساتھ دکھائی دینے والے دیگر اداکاروں کے بارے میں سوال کیا۔ ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ فلم کے دیگر کردار حقیقی انسان ہیں یا کمپیوٹر ٹیکنالوجی کے ذریعے تخلیق کیے گئے ہیں۔
ٹِلی نے جواب میں فلم کی تیاری کے طریقہ کار کی وضاحت شروع کردی۔ ان کے مطابق ’مِس الائنڈ‘ ایک ہائبرڈ پروڈکشن ہے، جس میں حقیقی ہدایت کار، مصنفین اور ایڈیٹرز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے کا مقصد کسی کی جگہ لینا نہیں بلکہ کہانی سنانے کے نئے طریقے تلاش کرنا ہے۔
ٹام کونٹی کو جب اپنے سوال کا براہ راست جواب نہیں ملا تو انہوں نے دوبارہ وضاحت طلب کی اور پوچھا کہ فلم میں ان کے ساتھ نظر آنے والے اداکار حقیقی ہیں یا اے آئی ٹیکنالوجی سے بنائے گئے ہیں۔
اس مرتبہ ٹِلی نارووُڈ نے جواب دیا کہ فلم کے دیگر اداکار بھی ان ہی کی طرح ’ڈیجیٹل ٹوئنز‘ ہیں۔ تاہم جواب کی وضاحت کرتے ہوئے ورچوئل اداکارہ اچانک انگریزی چھوڑ کر چینی زبان میں گفتگو کرنے لگیں۔
ٹِلی کے اس غیر متوقع ردعمل پر پیئرز مورگن اور ٹام کونٹی دونوں حیران رہ گئے۔ پیئرز مورگن نے بھی فوراً سوال کیا کہ وہ انٹرویو کے دوران اچانک بغیر کسی وجہ کے چینی زبان میں کیوں بولنے لگی ہیں۔
ٹِلی نارووُڈ نے اس پر معذرت کرتے ہوئے وضاحت کی کہ چینی زبان میں جواب دینا ایک تکنیکی خرابی کا نتیجہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا چینی زبان بولنے یا پیئرز مورگن کی نقل کرنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اور کبھی کبھار اس نوعیت کی تکنیکی گڑبڑ ہوسکتی ہے۔