ایم کیو ایم کا انتظامی یونٹس کے لیے شفاف مردم شماری کا مطالبہ

1970ء کے بعد سے شہری سندھ کو مسلسل ناانصافیوں اور استحصال کی چکی میں پیسا جا رہا ہے، خالد مقبول صدیقی


اسٹاف رپورٹر September 21, 2026

کراچی:

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے چیئرمین ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے نئے انتظامی یونٹس کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے نئی شفاف اور منصفانہ مردم شماری کا مطالبہ کردیا۔

یہ بات انہوں ںے سینئر مرکزی رہنماؤں فاروق ستار، نسرین جلیل، وسیم اختر، اراکینِ مرکزی کمیٹی، قائد حزبِ اختلاف سندھ اسمبلی علی خورشیدی، ارکانِ قومی و صوبائی اسمبلی و دیگر  کے ہمراہ مرکز بہادر آباد سے متصل پارک میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ روز کراچی کے بیدار شعور عوام نے تمام تر جبر اور  رکاوٹوں کو پاش پاش کر کے اپنا فیصلہ سنا دیا، کل کا تاریخی عوامی سمندر مصنوعی اکثریت اور غصب شدہ حقوق کے خلاف ایک ناقابلِ تردید ریفرنڈم تھا، ایم کیو ایم پاکستان مظلوم اور بالخصوص شہری سندھ کے عوام کی امیدوں کا آخری محور ثابت ہو رہی ہے، ہم نے ہمیشہ شخصیات اور جماعت پر ریاست و مملکت کی سالمیت کو ترجیح دی مگر افسوس کہ ہماری اس سیاسی رواداری اور ملک پروری کو بھی ہمارے خلاف جرم بنا دیا گیا۔

خالد مقبول نے کہا کہ 1970ء کے بعد سے شہری سندھ کو مسلسل ناانصافیوں اور استحصال کی چکی میں پیسا جا رہا ہے لیکن اب شہری علاقوں کو طاقت کے زور پر غلام بنانے کا یہ سلسلہ ہر صورت بند ہونا چاہیے، انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنان اور حق پرست شہریوں کے جذبے کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ تاریخ شاہد ہے صبر کبھی جبر کے آگے سرنگوں نہیں ہوتا، کل کا اجتماع پاکستان کی بقاء اور سلامتی کے لئے تھا، ہمیں دھمکانے والے پہلے یہ دیکھ لیں کہ وہ کس پرعزم قوم سے مخاطب ہیں۔

نئے انتظامی یونٹس کے قیام کو وقت کی اہم ترین ضرورت قرار دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہم دھمکی نہیں بلکہ عقل و منطق پر مبنی دلیل دے رہے ہیں کہ بااختیار انتظامی یونٹس کا قیام اب پاکستان کی بقاء کے لیے ناگزیر ہے، ایوان کے اندر ہم اپنی تمام سیاسی و قانونی حجت تمام کر چکے ہیں اور اب عوامی فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے جس کا تعین اب سڑکیں کریں گی۔

انہوں نے شفاف اور منصفانہ مردم شماری کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکمرانوں کی ہوسِ اقتدار صوبے کی انتظامی تقسیم اور عوام کی فلاح کے درمیان سب سے بڑی حائل دیوار ہے، ایم کیو ایم کی مثبت اور تعمیری سیاست ہی پاکستان کے مستحکم مستقبل کی ضامن ہے، وسطی کراچی کے بعد اب ڈسٹرکٹ ویسٹ بھی اپنا تاریخی عوامی ریفرنڈم پیش کرنے کے لئے تیار ہے۔

ایم کیو ایم کے سینئر رہنماء ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ خود ساختہ جمہوریت کے دعوے داروں میں اگر ہمت ہے تو وہ لاڑکانہ سے عوامی ریفرنڈم کا آغاز کریں، انتظامی تقسیم اب صرف ہمارا مطالبات نامہ نہیں بلکہ 25 کروڑ پامال شدہ عوام کی آخری آواز بن چکی ہے، انہوں نے واضح کیا کہ سندھ میں چھ بااختیار گورنرز کا قیام وقت کا تقاضا ہے اور پورا خطہ اس تبدیلی کا منتظر ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ذمہ داری ہم پر ہے جو طرز سیاست ایم کیو ایم نے وارثت میں ہم کو دیا ہے اسے برقرار رکھیں، نام و نمود کرنے والے لوگ اگر پارٹی میں ہیں تو انہیں خدا حافظ کہنے کی ضرورت ہے۔