یوٹیوبر مسٹر بیسٹ نے بچوں کو غیر قانونی مزدوری سے بچانے کےلیے پورا گاؤں تعمیر کردیا

جمی ڈونلڈسن المعروف مسٹر بیسٹ نے گھانا میں ’ابنا ڈکوا ولیج‘ کے نام سے یہ بستی تیار کی ہے


ویب ڈیسک September 21, 2026

یوٹیوب کی دنیا میں بڑے اور غیر معمولی منصوبوں کے لیے مشہور مسٹر بیسٹ نے ایک بار پھر سب کی توجہ حاصل کرلی، لیکن اس بار کسی چیلنج یا انعام کے باعث نہیں بلکہ افریقی ملک گھانا میں تقریباً ایک کروڑ ڈالر کی لاگت سے پورا گاؤں بسا کر کیا ہے۔

جمی ڈونلڈسن المعروف مسٹر بیسٹ نے گھانا میں ’ابنا ڈکوا ولیج‘ کے نام سے یہ بستی تیار کی ہے، جس کا مقصد کوکوا کی غیر قانونی صنعت میں مزدوری کرنے والے بچوں کو اس ماحول سے نکال کر دوبارہ اسکول پہنچانا ہے۔ یوٹیوبر کے مطابق یہ اب تک کا ان کا سب سے بڑا انسانی خدمت کا منصوبہ ہے۔

اس منصوبے کی تیاری میں تقریباً ایک سال منصوبہ بندی اور آٹھ ماہ تعمیر میں لگے۔ مسٹر بیسٹ نے نئی یوٹیوب ویڈیو میں منصوبے کی تفصیلات بتاتے ہوئے انسٹاگرام پر لکھا کہ انہوں نے بچوں کو غیر قانونی مشقت سے نکالنے میں مدد کے لیے ایک ’حقیقی شہر‘ تعمیر کیا ہے اور انہیں اس منصوبے کے ممکنہ اثرات پر فخر ہے۔

ابنا ڈکوا ولیج میں 300 سے زیادہ بچوں کے لیے اسکول بنایا گیا ہے، جبکہ اساتذہ کے لیے 10 گھر بھی فراہم کیے گئے ہیں۔ بستی میں طبی مرکز، مارکیٹ، لائبریری، صاف پانی کی سہولت اور تفریحی مقامات بھی شامل ہیں، یعنی بچوں کے لیے صرف اسکول نہیں بلکہ ایک مکمل رہائشی ماحول تیار کیا گیا ہے۔

گاؤں کو زیادہ خودکفیل بنانے کے لیے شمسی توانائی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ فارم، مچھلیوں کے ٹینک اور مرغیوں کا فارم بنایا گیا ہے تاکہ خوراک کی پیداوار کے ساتھ مقامی سطح پر معاشی خود انحصاری کو بھی فروغ دیا جاسکے۔

اس منصوبے کے ساتھ بچوں کے لیے مفت کھانے کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔ راک فیلر فاؤنڈیشن نے بیسٹ فلانتھروپی کے ساتھ شراکت داری کے تحت آئندہ پانچ برس تک اسکولوں میں مفت کھانے کی فراہمی میں تعاون کا اعلان کیا ہے۔ وسیع پروگرام کے تحت گھانا اور کینیا میں تقریباً 4 ہزار بچوں کو ہفتے میں پانچ دن دوپہر کا کھانا فراہم کیے جانے کی توقع ہے۔

مسٹر بیسٹ کا کہنا ہے کہ صرف اسکول بنادینے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا، کیونکہ بھوکے بچے تعلیم پر توجہ نہیں دے سکتے اور اپنی صلاحیتوں کو پوری طرح بروئے کار نہیں لا پاتے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کے ذریعے ہزاروں بچوں کو کھانا فراہم کرنے کے ساتھ مقامی کسانوں کی مدد اور بچوں کی صحت کو پائیدار انداز میں بہتر بنانے کی کوشش بھی کی جارہی ہے۔

یہ منصوبہ ’1 بلین فالوورز سمٹ‘، ’ورکی فاؤنڈیشن‘ اور ’محمد بن راشد المکتوم گلوبل انیشی ایٹوز‘ کے تعاون سے تیار کیا گیا۔ ’1 بلین ایکٹس آف کائنڈنس‘ مہم کے تحت منتخب کیے گئے 10 کانٹینٹ کری ایٹرز بھی گھانا پہنچے اور اس منصوبے میں حصہ لیا۔

مسٹر بیسٹ نے صارفین پر بھی زور دیا کہ وہ چاکلیٹ بنانے والی کمپنیوں سے بچوں سے غیر قانونی مشقت کے معاملے پر جواب دہی کا مطالبہ کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی چاکلیٹ کمپنیاں اس وقت تک بڑے پیمانے پر جاری چائلڈ لیبر کی پروا نہیں کریں گی جب تک صارفین خود اس معاملے پر آواز نہیں اٹھاتے۔

مسٹر بیسٹ اس سے قبل فکشن کی دنیا میں بھی قدم رکھ چکے ہیں اور معروف تھرلر مصنف جیمز پیٹرسن کے ساتھ مل کر اپنا پہلا ناول ’دی موسٹ ڈینجرس گیمز‘ بھی تحریر کرچکے ہیں۔