تناسب ہے زندگی

زندگی، کائنات اور نظام تناسب سے چلتے ہیں، کسی بھی ایک چیز کی کمی اور زیادتی نظام بگاڑ سکتی ہے


نواز حسین عسکری September 22, 2026

تناسب دنیا کا حسن ہی نہیں بلکہ نظام بھی یہی ہے۔ کیونکہ اللہ نے اس عظیم کائنات کے اندر ہر شے میں تناسب رکھا ہے۔ اگر ہم اپنے جسم، سائنس، فطرت، خوراک، سائنسی ایجادات اور سماجی نظام کا جائزہ لیں تو پتہ چلے گا کہ صحیح تناسب سے چیز میں نکھار آتا ہے نا کہ ایک چیز کی زیادتی سے، برابری سے یا عدم تناسب سے۔

انسانی جسم سب سے بڑی مثال ہے جہاں اس کی آنکھیں کان، ناک، منہ، ہاتھ ایک خاص تناسب سے بنے ہیں۔ اگر یہ اس گولڈن ریشو میں نہ ہوں اور ناک بڑی ہو یا آنکھیں، منہ کا سوراخ بہت چھوٹا ہو یا ہاتھ تو انسانی جسم ایسا خوبصورت نہ دکھے گا، جیسا یہ دکھتا ہے۔ پھول کی پتیاں اور چہرے کے اوپر کئی لوگ بحث کرچکے ہیں کہ یہ ایک آفاقی ریشو کے مطابق ہے۔

ہوا میں اگر نائٹروجن 78 فیصد سے بڑھ کر سو فیصد ہوجائے تو زندگی کا وجود ممکن نہ ہوگا، اور 21 فیصد آکسیجن کو بھی 100 فیصد کرنے سے بھی ہر طرف آگ ہی لگے گی، پر زندگی نہ رہے گی۔ پینے کا صاف پانی جو انسانی صحت کےلیے موزوں ہے، اس میں بھی منرلز ایک تناسب میں موجود ہونے چاہئیں، ورنہ مکمل خالص پانی جس میں سوڈیم پوٹاشیم وغیرہ نہ ہو، قطعاً انسان کےلیے ٹھیک نہیں ہے۔

جب کوئی ایک جز حد سے بڑھ جائے یا کم ہو جائے تو عدم توازن تباہی کا باعث ہے اور جتنا زیادہ تناسب کا بگاڑ ہوتا ہے اتنا ہی جلد بربادی ہوتی ہے۔ اسی لیے انگریزی کی کہاوت کہ ہر شے کی زیادتی بری ہوتی ہے، بھی یہ ہی دلیل ہے۔

یہ تناسب نہ صرف خدائی تخلیق میں ہے بلکہ انسان کی بنائی ہو سادہ اور پیچیدہ اشیاء سب میں ایسا ہی ہے۔ انسانی کھانے میں نمک جس کا ایک چمچ اچھے ذائقے کا ذمے دار ہے، اس کے تین چمچ کھانے کو بدذائقہ کر دیتے ہیں۔ چائے کی پتی جس کے ایک چمچ سے ’چائے‘ ہے اور اس کی عدم موجوگی سے یہ چائے نہ رہے گی۔ پیچیدہ اشیاء میں اگر کسی گاڑی میں شاندار انجن کے ساتھ بریکس نہیں تو یہ گاڑی کتنی بھی لگژری ہو، بے فائدہ ہے۔ انسان جو چیز بنانا چاہتا ہے اس میں بھی ایک چیز کچھ نہیں کرسکتی، حتیٰ کہ خالص سونے کو بھی زیور نہیں بنایا جاسکتا۔ جو بھی نظام یا چیزیں اللہ نے دیں یا انسان نے اس کے حکم سے بنائیں سب میں ’تناسب‘ کا قانون عمل پیرا ہے۔

ریاستی نظام بھی اس نظام سے مستثنیٰ نہیں۔ مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ، بیوروکریسی، افواج، میڈیا، ہر ایک کا ملک کو چلانے میں اپنا اپنا کردار ہے اور ایک تناسب میں ہے۔ نہ صرف ان سب کا وجود ضروری ہے، بلکہ اگر کوئی ایک ادارہ دوسرے کی جگہ لے گا تو تناسب بگاڑ پیدا کرے گا۔

باقی ادارروں کی حکومت اور گورننس کے اندر تناسب پر بحث بھی الگ موضوع ہے اور اس کے ساتھ وفاقی حکومت، صوبائی حکومت اور بلدیاتی حکومت میں عدم تناسب بھی موجودہ بیڈ گورننس کی ایک وجہ ہے، جو کہ موجودہ صوبوں کی تقسیم پر بحث کی وجہ بھی ہے۔ جب وفاقی حکومت جس کا کام مثلاً دفاع، خارجہ امور اور معیشت کو چلانا ہے، اگر وہ عوام کے ایسے مسائل میں الجھ جائے جو کہ صوبائی حکومت کو کرنے ہیں یا کہ صوبائی حکومت وہ کام کرے جو بلدیاتی یا وفاقی حکومت کے ہیں تو نہ صرف اس کی اپنی کارکردگی بھی متاثر ہوگی بلکہ وہ بہتر انداز میں وہ کام کر بھی نہ پائیں گے۔ جب صوبائی حکومت گلی، نالی اور صفائی کی کمپینز کی خود قیادت کرے گی تو کام تو ہوجائے گا مگر بلدیتی ادارے اس کو نہ صرف بہتر انداز میں کر پائیں گے بلکہ اس کی دیکھ بھال بھی کریں گے، جو کہ بصورت دیگر مشکل ہوگا۔ اس طرح ہر سطح کی حکومت اپنے دائرے میں رہتے ہوئے اپنا کام احسن طریقے سے انجام دے گی۔

کامیاب ریاستیں، حکومتیں، بڑے پرائیویٹ کاروباری ادارے یا سرکاری ادارے، ہر سطح کو مناسب اختیارات دینے ہیں تاکہ ہر کوئی اپنا کام کرے اور اچھے طریقے سے اپنے فرائض سر انجام دے۔ جیسے جسم میں خون میں شکر کی ایک خاص مقدار چاہیے، اس سے کم یا زیادہ جسم کی کارکردگی متاثر کرتی ہے یا جس طرح دل پورے جسم کو نہیں چلا سکتا اور جگر، معدہ، دماغ کا کردار چاہیے۔

ہر سطح پر مناسب اختیارت دینے اور ان کو استعمال کرنے سے ہی جسم، ایلون مسک کا کاروبار، حکومتیں اور دیگر بڑے کاروبار چلتے ہیں، نہ کہ اختیارات کے عدم تناسب کی تقسیم سے۔ بااختیار بلدیاتی حکومت کی جگہ بیوروکریسی اور صوبائی اور وفاقی حکومتیں پوری نہیں کرسکتیں۔ اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے ساتھ ساتھ بلدیاتی حکومتوں کا ہونا اس تناسب کو پورا کردے گا، جو مملکت پاکستان کے جسم کو چلانے کےلیے چاہیے۔ مختصراً، زندگی، کائنات اور نظام تناسب سے چلتے ہیں نہ کہ صرف ایک چیز سے ورنہ بل گیٹس بھی ہر ونڈو انسٹال کرنے خود آتا۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
نواز حسین عسکری
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔