کچن میں پائی جانے والی یہ معمولی چیز ہر انفیکشن کا علاج

اس میں مینگنیز، اومیگا 3 اَن سیچوریٹڈ فیٹس، فائبر اور وٹامنز کی وافر مقدار پائی جاتی ہے


ویب ڈیسک September 23, 2026

لونگ باورچی خانے میں استعمال ہونے والا ایک عام گرم مصالحہ ہے، جو کھانوں کو منفرد ذائقہ اور خوشبو دینے کے لیے مشہور ہے۔ یہ دراصل ایک خشک پھول کی کلی ہے اور صدیوں سے مختلف کھانوں کے ساتھ ساتھ روایتی طور پر صحت سے متعلق مقاصد کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔

لونگ کے بارے میں موجود معلومات کے مطابق اس میں مینگنیز، فائبر، بعض وٹامنز اور صحت مند چکنائیاں سمیت مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں۔ اس میں موجود یوجینول نامی مرکب بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے، جس پر سوزش اور جراثیم کے خلاف ممکنہ اثرات کے حوالے سے تحقیق کی گئی ہے۔

لونگ میں موجود یوجینول کو اس کی ممکنہ اینٹی سوزش خصوصیات کی وجہ سے اہم سمجھا جاتا ہے۔ بعض تحقیق میں اس کے ایسے اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے جو جسم میں سوزش سے متعلق عمل پر اثر انداز ہوسکتے ہیں، تاہم اسے گٹھیا یا کسی دوسری بیماری کا ثابت شدہ علاج قرار دینا درست نہیں۔

لونگ روایتی طور پر درد، خصوصاً دانت کے درد کے لیے بھی استعمال ہوتی رہی ہے۔ اس میں موجود یوجینول کی وجہ سے لونگ کے تیل کو بعض دانتوں سے متعلق مصنوعات میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ تاہم دانت یا جسم کے کسی مستقل درد کی صورت میں طبی معائنہ ضروری ہے اور لونگ کو باقاعدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

اس مصالحے میں اینٹی مائکروبیل خصوصیات بھی پائی جانے کی اطلاعات ہیں۔ لونگ کے تیل میں موجود بعض مرکبات بیکٹیریا اور پھپھوندی کے خلاف اثر دکھا سکتے ہیں، اسی لیے اسے روایتی طور پر منہ، گلے، جلد اور دیگر مقامات سے متعلق بعض مسائل میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔

نظام ہاضمہ کے حوالے سے بھی لونگ کو روایتی طور پر اہمیت حاصل ہے۔ اسے بدہضمی اور معدے کی بعض شکایات میں استعمال کیا جاتا ہے، جبکہ لونگ میں موجود مختلف مرکبات پر معدے کے السر اور ہاضمے سے متعلق ممکنہ حفاظتی اثرات کے حوالے سے تحقیق بھی ہوئی ہے۔ تاہم ان دعووں کو حتمی طبی علاج کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

لونگ میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم میں فری ریڈیکلز سے نمٹنے میں کردار ادا کرسکتے ہیں۔ اسی بنیاد پر اس مصالحے کے جلد کے لیے ممکنہ اینٹی ایجنگ فوائد کا بھی ذکر کیا جاتا ہے، تاہم چہرے کی جھریوں یا باریک لکیروں کو ختم کرنے کے لیے لونگ کو کسی ثابت شدہ علاج کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔

قوتِ مدافعت کے حوالے سے بھی لونگ کے عرق میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس کو ممکنہ طور پر مفید قرار دیا جاتا ہے۔ اس میں پائے جانے والے بعض فعال مرکبات، جن میں بائکورنن اور بیفلورین کا ذکر بھی کیا جاتا ہے، جراثیم اور بیماریوں کے خلاف جسم کے ردعمل سے متعلق تحقیق کا حصہ رہے ہیں۔

یوں لونگ ایک خوشبودار مصالحے کے ساتھ متعدد حیاتیاتی مرکبات کا حامل پودا بھی ہے، لیکن اسے ’ہر انفیکشن کا علاج‘ کہنا درست نہیں۔ صحت کے کسی مخصوص مسئلے کے علاج کے لیے لونگ یا اس کے تیل کو طبی مشورے کے بغیر استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔