پشاور؛ پولیس ٹیم پر مسلح افراد کا حملہ، بچوں کی لاشوں سے زیادتی کرنے والا زیرحراست ملزم ہلاک

پولیس ٹیم گرفتار ملزم کو جائے وقوع کی نشان دہی کے لیے لے کرجارہی تھی کہ مسلح ملزمان نے فائرنگ کی اور فرار ہوگئے، پولیس


احتشام خان September 22, 2026
فوٹو: فائل

پشاور کے تھانہ بڈھ بیر کی حدود میں پولیس ٹیم پر نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں قبروں کی بے حرمتی اور کم سن بچوں اور بچیوں کی لاشیں نکال کر مبینہ طور پر ان سے زیادتی کرنے والا زیر حراست ملزم ہلاک ہوگیا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم سلمان ولد افغان کو جائے وقوع کی نشان دہی کے لیے شیخان قبرستان لے کر جارہے تھے، اس دوران 3 موٹر سائیکلوں پر سوار 6 نامعلوم مسلح افراد نے پولیس ٹیم پراچانک فائرنگ کر دی، فائرنگ سے سرکاری گاڑی اور ایک اہلکار کی بلٹ پروف جیکٹ کو بھی نقصان پہنچا تاہم اہلکار بال بال بچ گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ فائرنگ کی زد میں آ کر زیر حراست ملزم سلمان شدید زخمی ہو گیا جس سے اسپتال منتقل کیا جا رہا تھا تاہم وہ راستے میں ہی دم توڑ گیا جبکہ حملہ آور فائرنگ کے بعد فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے، تاہم پولیس نے علاقے میں سرچ آپریشن شروع کرتے ہوئے فرار حملہ آوروں کی تلاش شروع  کردی ہے۔

 

واضح رہے کہ ملزم کو گزشتہ روز شیخان قبرستان میں ایک قبر کی بے حرمتی کی کوشش کے دوران گرفتار کیا گیا تھا، ملزم کو علاقے کے لوگوں نے پکڑ کر پولیس کے حوالے کیا تھا۔

پولیس کے مطابق ملزم نے دوران تفتیش 10 قبروں کی مبینہ بے حرمتی کا اعتراف کیا تھا، جس کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، حملے میں ملزمان کی گرفتاری کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

سفاک ملزم کیا کرتا تھا؟

ملزم کمسن بچیوں کی قبریں کھود کر ویرانے میں لے کر لاشوں کے ساتھ زیادتی کرتا تھا، اس حوالے سے ایک روز قبل ایس پی صدر فدا حسین نے ڈی ایس پی سعید الرحمان کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران بتایا تھا کہ انہیں شیخان قبرستان میں قبر کھود کر پیش آنے والے افسوس ناک واقعے کی اطلاع ملی جس پر بڈھ بیر ایس ایچ او ملنگ جان نے پولیس نفری کے ہمراہ کارروائی کرتے ہوئے واقعہ میں ملوث درندہ صفت ملزم سلمان سکنہ افغانستان حال باڑہ قدیم کو گرفتار کرلیا۔

انہوں نے بتایا تھا کہ قبرکی کھدائی اور بچی کی لاش نکالنے کے دوران وہاں موجود چوکیدار نے اسے دھر لیا تھا، بچوں کی لاشیں نکالنے پر مقامی افراد میں بھی شدید اشتعال پایا گیا اور ملزم کی جان کو خطرہ تھا تاہم پولیس نے موقع پر پہنچ کر ملزم کو ان کی تحویل سے چھڑوایا اوراسے تھانے منتقل کردیا جس کے خلاف چائلڈ پروٹیکشن ایکٹ سمیت دیگردفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ابتدائی تفتیش کے دوران 19سالہ ملزم نے اہم انکشافات کیے اور بتایا کہ ان کا گھر قبرستان کے قریب ہے اور اپنی جنسی خواہشات پوری کرنے کے لیے وہ اس قسم کی گھناؤنی حرکتیں کررہا تھا، ملزم حافظ قرآن ہونے کے ساتھ ساتھ بارھویں جماعت پاس بھی ہے، ملزم نے پولیس کو مزید بتایا کہ وہ اس سے قبل بھی چار مرتبہ قبریں کھود چکا ہے، بچوں کی لاشیں وہیں چھوڑ دیتا تھا جبکہ بچی کی لاش لے کر وہ جنگل نما مقام پر لے جاتا اور اس کی بے حرمتی کرتا تھا۔

پولیس نے بتایا کہ ملزم کی ذہنی حالت درست ہے اور وہ کوئی نشہ بھی نہیں کرتا البتہ بری صحبت کی وجہ سے وہ اس قسم کی گھناؤنی حرکتوں میں پچھلے 3یا 4ماہ سے ملوث رہا ہے۔

ایس پی صدر کے مطابق ملزم بچیوں کو قبروں سے نکالنے کے بعد ان کی لاشیں صاف کرتا، انہیں کپڑے پہناتا اور پھر زیادتی کرتا تھا، ملزم اب تک 4 مردہ بچیوں کے ساتھ زیادتی کرچکا ہے اور پانچویں واردات کے دوران اسے پکڑ لیا گیا۔

فدا حسین کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزم کی شناخت سلمان ولد افغان کے نام سے ہوئی، جو افغانستان کا رہائشی اور باڑہ قدیم میں مقیم ہے اور مقامی لوگوں نے بھی ملزم کو افغان بتایا تھا جبکہ پولیس نے ان علاقوں کی تفصیلات بھی حاصل کرلی ہیں جہاں ملزم وارداتیں کرتا تھا۔