یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے روس کے ساتھ بھارت کی تیل کی تجارت کو ختم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ماسکو کی معیشت اپنی اقتصادی ترقی کے لیے بھارت، چین اور ترکیہ پر بہت زیادہ انحصار کرتی ہے۔
زیلنسکی نے یہ ریمارکس امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لِنڈسے او گراہم کی جانب سے روس اور ایران پر پابندیوں کے قانون پر دستخط کرنے کے چند دن بعد دیے۔
یہ قانون ٹرمپ کو روس کے تیل کے بڑے خریداروں بشمول بھارت، چین ، سلوواکیہ، ہنگری اور آذربائیجان پر محصولات عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
ہندوستان ٹائمز کے مطابق زیلنسکی کو امید ہے کہ پابندیوں کے نئے اقدامات سے روس پر جنگ کے خاتمے کے لیے دباؤ بڑھے گا۔
وال اسٹریٹ جرنل کے ساتھ ایک انٹرویو میں زیلنسکی نے کہا کہ روس اپنی معیشت کو کبھی بھارت، کبھی ترکیہ اور کبھی چین پر کھڑا کر رہا ہے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ اگر یہ لوگ روس کے ساتھ اپنی توانائی کی تجارت بند کر دیتے ہیں ، تو روس کو جنگ لڑنا بند کرنا پڑے گا۔
ہندوستان ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ یوکرین کے ڈرون حملوں سے سپلائی متاثر ہونے کے بعد ترکی نے درآمدات میں کمی کر دی ہے۔