برقی گاڑیوں کے مالکان ہو جائیں ہوشیار! تحقیق میں اہم انکشاف

تحقیق میں برطانیہ کی 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT آزمائشوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا


ویب ڈیسک September 24, 2026

ایک تازہ ترین تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں میں پہیوں سے متعلق خرابیوں کا امکان پٹرول سے چلنے والی گاڑیوں کے مقابلے میں تقریباً 1.8 گنا زیادہ ہوتا ہے۔

برٹِش وہیکل رینٹل اینڈ لیزنگ ایسوسی ایشن کی جانب سے کی گئی جس میں برطانیہ کی 4 کروڑ 70 لاکھ سے زائد MOT آزمائشوں کے اعداد و شمار کا تجزیہ کیا گیا۔

تحقیق کے مطابق الیکٹرک گاڑیوں میں بھاری بیٹریاں اور الیکٹرک موٹرز کا فوری ٹارک پہیوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔ بعض برقی گاڑیوں کی بیٹری پیک کا وزن تقریباً 299 سے 499 کلوگرام تک ہوسکتا ہے اور یہ گاڑی کے مجموعی وزن کا 25 فیصد تک بنتا ہے۔

پٹرول انجن کے برعکس الیکٹرک موٹر ایکسلریشن کے آغاز ہی میں تقریباً فوری طور پر زیادہ ٹارک فراہم کرتی ہے، جس سے ٹائروں پر زیادہ قوت پڑتی ہے اور ان کے گھسنے یا خراب ہونے کا امکان بڑھ سکتا ہے۔

تحقیق میں یہ بھی سامنے آیا کہ پرانے ماڈلز میں ٹائروں کے مسائل زیادہ نمایاں تھے جبکہ بعض گاڑیوں میں رگڑ سے کام کرنے والے بریکس سے متعلق خرابیاں بھی رپورٹ ہوئیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق بعض الیکٹرک گاڑیوں کے مالکان کو اضافی مرمت اور ٹائر تبدیل کرنے کے اخراجات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ خاص طور پر مہنگے یا پریمیم ٹائروں کی تبدیلی پر سینکڑوں پاؤنڈز خرچ ہوسکتے ہیں۔

رپورٹ میں ٹائروں کی خرابی کی زیادہ شرح کو بنیادی طور پر بیٹری کے اضافی وزن اور فوری کم رفتار ٹارک سے جوڑا گیا ہے۔