امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن کی مشرق وسطیٰ میں طویل تعیناتی کے دوران امریکی فوجی اہلکاروں کی جانب سے خودکشی کی 8 کوششیں سامنے آئی ہیں۔
امریکی حکام نے ان واقعات کی تصدیق کردی ہے، تاہم حکام کے مطابق تعیناتی کے دوران جہاز پر کوئی خودکشی نہیں ہوئی۔
اے ایف پی کے مطابق یہ معلومات امریکی بحریہ کے قائم مقام سیکریٹری ہنگ کاؤ کی جانب سے ڈیموکریٹ سینیٹر کرسٹن گلیبرینڈ کو بھیجے گئے ایک خط میں سامنے آئی ہیں۔ سینیٹر گلیبرینڈ نے جہاز پر فوجیوں کے حالات اور فلاح و بہبود سے متعلق سوالات کیے تھے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ ابراہم لنکن کی تعیناتی کے آغاز سے لے کر اب تک پورے اسٹرائیک گروپ میں خودکشی کی کل 8 کوششیں ہوئیں۔ امریکی بحریہ کے اعلیٰ سویلین عہدیدار نے واضح کیا کہ اس تعیناتی کے دوران جہاز پر خودکشی کا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔
امریکی میڈیا میں اس سے قبل بھی جہاز پر فوجیوں کے رہائشی حالات اور ذہنی صحت سے متعلق مشکلات کی رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔ ابراہم لنکن گزشتہ نومبر سے طویل عرصے سے سمندر میں تعینات ہے، جبکہ مشرق وسطیٰ میں جاری امریکی فوجی کارروائیوں کے باعث اس کی تعیناتی میں بھی توسیع ہوئی ہے۔
رپورٹس میں جہاز پر طویل تعیناتی، مشکل حالات اور فوجیوں کی ذہنی صحت سے متعلق خدشات کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان حالات نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف جنگ اور خطے میں امریکی فوجی پالیسی پر بھی اندرونِ امریکا بحث کو مزید نمایاں کیا ہے۔
امریکی بحریہ کی جانب سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق خودکشی کی کوششوں کے باوجود اس تعیناتی کے دوران جہاز پر کسی فوجی کی خودکشی نہیں ہوئی۔ تاہم یہ اعداد و شمار طویل فوجی تعیناتی کے دوران اہلکاروں کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود سے متعلق مسائل کو اجاگر کرتے ہیں۔