لاہور:
نائب امیر جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر ٹیکسوں کے خلاف 25 ستمبر کو لاہور میں جلسہ عام کیا جائے گا، جس میں حافظ نعیم لانگ مارچ کے لائحہ عمل کا اعلان کریں گے، پُرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور اسلام آباد حکمرانوں کی جاگیر نہیں۔
منصورہ لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیاقت بلوچ نے کہا کہ حکومت کی یقین دہانی پر لانگ مارچ اکتوبر تک مؤخر کردیا گیا ہے تاہم ملتان سے لاہور اور پھر اسلام آباد تک مارچ کی تیاریاں جاری ہیں، بجلی اور گیس کی قیمتیں عوام کے لیے ناقابل برداشت ہوچکی ہیں، جبکہ پیٹرولیم لیوی نے بھی اضافی بوجھ ڈال دیا ہے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں کمی بیشی ہوسکتی ہے لیکن 107 روپے فی لیٹر لیوی قابل قبول نہیں۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے پیٹرولیم لیوی ختم کیا جائے، آئی پی پیز سے ہونے والی بچت عوام کو منتقل کی جائے اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جائے، جماعت اسلامی نے معاشی بہتری کے لیے پالیسی ریٹ 9 فیصد تک لانے سمیت چھ تجاویز حکومت کو دی ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ آئی پی پیز کے خلاف احتجاج کے بعد حکومت نے 10 آئی پی پیز کے خاتمے اور مزید 21 کے معاملات آخری مرحلے میں پہنچنے کی تصدیق کی ہے، جس سے معیشت پر دباؤ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
سیاسی صورت حال پر لیاقت بلوچ نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر سیاسی جماعت کا آئینی حق ہے اور اسلام آباد حکمرانوں کی جاگیر نہیں۔ انہوں نے پی ٹی آئی کارکنوں کی گرفتاریوں، خصوصاً خواتین کی گرفتاریوں کو انسانی حقوق کا معاملہ قرار دیتے ہوئے حکومت سے سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات شروع کرنے کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گورنر راج جیسی صورت حال موجود ہے، اپوزیشن کی مذاکرات کی پیشکش قبول کی جائے اور حکومتی مذاکراتی کمیٹی تشکیل دی جائے۔ لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی مکالمے کی حمایت کرتی ہے۔