وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، وزیراعلیٰ کے پی

پولیس کا دھیان دہشت گردی سے ہٹاکر سیاسی جماعت کی طرف کرنے نہیں دینگے، پولیس ایکٹ میں مزید ترامیم لائی جاسکتی ہیں


اسٹاف رپورٹر September 24, 2026

پشاور:

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ وفاق اگر پولیس کو سیاسی انتقام کیلئے استعمال کریگا تو صوبائی حکومت اقدامات تو کرے گی، دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔

صوبے میں امن و امان کے حوالے سے اجلاس سے خطاب میں وزیراعلیٰ نے کہا کہ 22 سال سے خیبرپختونخوا پولیس اور عوام مسلسل دہشت گردی کا مقابلہ کر رہے ہیں، پولیس اور عوام کی قربانیوں کے نتیجے میں 2018ء سے 2022ء تک عمران خان کی حکومت کے دور میں خیبرپختونخوا میں امن قائم ہوا، 2022ء میں رجیم چینج آپریشن اور ریاست کی غلط پالیسی کی وجہ سے خیبرپختونخوا میں دوبارہ دہشت گردی لائی گئی،ہم نے ہر فورم پر آواز اٹھائی کہ دہشت گردوں کو دوبارہ آباد نہ کیا جائے، آج ریاست کی غلط پالیسی کے باعث فوجی جوان، پولیس اہلکار اور عام شہری شہید ہو رہے ہیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ جب تک امن نہیں ہوگا تب تک ترقی اور خوشحالی نہیں آسکتی، 15 اکتوبر 2025ء کو حکومت سنبھالنے کے بعد پولیس کے لیے تاریخ میں بے مثال فنڈز فراہم کیے، گزشتہ سال سالانہ بجٹ سے ہٹ کر پولیس کو 35 ارب روپے اضافی دیے گئے،
رواں سال پولیس کا بجٹ 80 ارب روپے سے بڑھا کر 190 ارب روپے کیا ہے، پولیس فرنٹ فٹ پر دہشت گردی کا مقابلہ کر رہی ہے، ان کی قربانیوں کا احساس ہے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ خیبرپختونخوا عوام اور پولیس کی قربانیوں کی وجہ سے اسلام آباد، راولپنڈی اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امن ہے، پولیس کے شہداء پیکیج میں اضافہ کیا ہے اور جدید آلات کے لیے بھی فنڈز فراہم کیے پیں، ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا فوج کے ماتحت ہے، گزشتہ سال سے ادائیگی کے باوجود خیبرپختونخوا کی اے پی سیز اب تک نہیں آئیں،
اسلام آباد کے لیے جدید اے پی سیز تیار کرکے دے دی گئیں لیکن خیبرپختونخوا پولیس کو اے پی سیز نہیں ملیں، میں نے ان سے کہا کہ اسلام آباد کو دی جانے والی اے پی سیز صرف پی ٹی آئی کے خلاف استعمال ہوں گی، یہ خیبرپختونخوا پولیس کو دی جائیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ NRTC کو جیمرز اور اینٹی ڈرونز کی ادائیگیاں بھی خیبرپختونخوا حکومت کر چکی ہے، NRTC اور HIT سے مطالبہ ہے کہ جیمرز، اے پی سیز اور دیگر آلات جلد از جلد فراہم کیے جائیں، دہشت گردی کے خاتمے کے بجائے پی ٹی آئی کو ختم کرنا اور عمران خان کو جھکانا ترجیح بن گیا ہے، 15 اکتوبر 2025ء کو حلف اٹھانے کے بعد کسی پولیس افسر کو کوئی غلط حکم نہیں دیا، کسی پولیس افسر کو سیاسی یا ذاتی انتقام کا نشانہ بنانے اور غلط ایف آئی آر کا حکم نہیں دیا، جب میں بطور چیف ایگزیکٹو پولیس کو غلط احکامات نہیں دیتا تو کسی اور کو بھی غلط احکامات دینے کا حق نہیں، کسی پولیس افسر کا فرض نہیں کہ وہ کسی کا غلط حکم مانے۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ہمارا مفاد کسی سیاسی جماعت کو ختم کرنا نہیں، ہماری ترجیح دہشت گردی سے نمٹنا ہے، اگر پولیس کا مفاد بھی سیاسی جماعت کو ختم کرنا بن جائے تو خیبرپختونخوا کے عوام کہاں جائیں گے، عمران خان کے ویژن کے مطابق پولیس کو سیاسی مداخلت سے آزاد رکھا، نہ کبھی پولیس کے معاملات میں مداخلت نہیں کی اور نہ پوسٹنگ ٹرانسفر میں عمل دخل کیا۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ گزشتہ چار پانچ دنوں سے جو کچھ ہو رہا ہے انتہائی افسوس ناک ہے، پولیس مزاحمت کرے، 8 فروری 2024ء کو پولیس اور سول انتظامیہ نے غلط احکامات ماننے سے انکار کرکے عوامی مینڈیٹ کی حفاظت کی، آج بھی پولیس غلط احکامات کی مزاحمت کرے، ہم کوئی مسلح جدوجہد یا یلغار کرنے نہیں جا رہے، ہم پُرامن احتجاج کرنے جا رہے ہیں، پُرامن احتجاج روکنے کا حکم دینے والوں سے کہیں کہ آئین سے رائٹ ٹو اسمبلی کی شق نکال دیں، جب تک آئین میں رائٹ ٹو اسمبلی موجود ہے ہم احتجاج کریں گے۔

سہیل آفریدی نے کہا کہ کل کابینہ سے پولیس ایکٹ منظور کیا، اسمبلی میں اس میں مزید ترامیم کی جا سکتی ہیں، اگر کوئی وفاقی ادارہ پولیس کو سیاسی انتقام کے لیے استعمال کرے گا تو صوبائی حکومت اس معاملے پر اقدامات کرے گی، دہشت گردی کی جنگ سے پولیس کا دھیان ہٹا کر کسی سیاسی جماعت کی طرف موڑنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی، اگر کسی اور کی طرف سے غلط حکم آئے تو پولیس کو انکار کرنا سیکھنا ہوگا۔