گھر میں معمولی سی بے احتیاطی بعض اوقات جلد کے جلنے کا سبب بن سکتی ہے۔ کھانا پکاتے ہوئے گرم تیل کے چھینٹے پڑنا، بچے پر گرم چائے گر جانا یا پریشر ککر سے نکلنے والی بھاپ کی زد میں آنا ایسے حادثات ہیں جو چند لمحوں میں پیش آسکتے ہیں۔
ایسی صورتحال میں اکثر لوگ گھبرا کر جلی ہوئی جلد پر ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک یا گھی جیسی چیزیں لگا دیتے ہیں مگر ماہرین کے مطابق ہر روایتی گھریلو ٹوٹکا محفوظ نہیں ہوتا اور بعض چیزیں زخم کو مزید متاثر کر سکتی ہیں۔
جلنے کے بعد ابتدائی چند منٹ اہم ہوتے ہیں، اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ فوری طور پر کیا کرنا چاہیے اور کن چیزوں سے گریز کرنا بہتر ہے۔

ٹوتھ پیسٹ، گھی اور ہلدی لگانا کتنا درست ہے؟
جلنے کے فوراً بعد ٹوتھ پیسٹ، ہلدی، نمک، گھی یا دوسری گھریلو چیزیں لگانا عام روایت ہے، لیکن یہ چیزیں جلی ہوئی جلد کے لیے مناسب ابتدائی طبی امداد کا متبادل نہیں ہیں۔
خصوصاً اگر چھالا بن چکا ہو یا جلد اتر گئی ہو تو ایسی چیزیں لگانے سے گریز کرنا چاہیے۔ یہ زخم کو آلودہ کر سکتی ہیں اور بعد میں اس کے طبی معائنے اور علاج میں بھی مشکل پیدا کر سکتی ہیں۔

گرم تیل سے جلد جل جائے تو کیا کریں؟
کھانا تلتے ہوئے گرم تیل کے چھینٹے ہاتھ، بازو یا جسم کے کسی دوسرے حصے پر پڑ جائیں تو سب سے پہلے متاثرہ حصے کو گرمی کے ذریعے سے دور کریں۔
اس کے بعد جلی ہوئی جگہ کو تقریباً 20 منٹ تک ٹھنڈے یا معمول کے بہتے نلکے کے پانی کے نیچے رکھیں۔ برف یا انتہائی ٹھنڈا پانی براہ راست استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔
اگر متاثرہ حصے کے قریب انگوٹھی، چوڑی، گھڑی یا کوئی تنگ چیز موجود ہو تو سوجن شروع ہونے سے پہلے اسے احتیاط سے اتار دینا بہتر ہے۔

گرم چائے گر جائے تو کیا کرنا چاہیے؟
گرم چائے، پانی یا کسی دوسرے گرم مشروب سے ہونے والے جلنے میں زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
متاثرہ جگہ کو فوری طور پر تقریباً 20 منٹ تک بہتے ہوئے ٹھنڈے پانی سے ٹھنڈا کریں۔ اگر جلنے کا حصہ بڑا ہو، چھالے بن گئے ہوں یا چہرہ، ہاتھ یا جسم کا حساس حصہ متاثر ہوا ہو تو طبی معائنے کے لیے جانا چاہیے۔

بھاپ سے جلنے کو معمولی نہ سمجھیں
پریشر ککر، کیتلی یا گرم برتن سے نکلنے والی بھاپ بھی جلد کو جلا سکتی ہے۔ بھاپ کی زد میں آنے کے بعد متاثرہ حصے کو گرمی سے دور کر کے بہتے پانی سے ٹھنڈا کرنا چاہیے۔
خصوصاً چہرہ متاثر ہونے، نمایاں سوجن ہونے یا سانس لینے میں دشواری کی صورت میں فوری طبی امداد حاصل کرنا ضروری ہے۔

چھالا بن جائے تو اسے پھوڑیں نہیں
جلنے کے بعد جلد پر چھالا بن سکتا ہے، جسے سوئی یا کسی دوسری چیز سے خود پھوڑنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔
چھالا متاثرہ جلد کو بیرونی جراثیم سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔ اسے چھیڑنے سے انفیکشن کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر چھالا خود نہ پھوٹے تو یہ وقت کے ساتھ خشک بھی ہو سکتا ہے۔
البتہ درد، سوجن، لالی یا زخم کی حالت خراب ہونے لگے تو طبی مشورہ لینا چاہیے۔
