پراسرار حقیقت

تابوت سکینہ ایک ایسا پراسرار صندوق جسے طاقت کا سرچشمہ کہا جاتا ہے


شہلا اعجاز September 27, 2026

اسرائیلی آباد کار وزیر اعظم نیتن یاہو نے مسجد اقصیٰ میں داخل ہو کر اپنے سیکڑوں اسرائیلی سمیت فوج کی حفاظت میں دیوار براق کے احاطے میں اپنی مذہبی رسومات ادا کیں، ان کے ہمراہ متعدد وزرا بھی تھے۔

یہ مذہبی رسومات یہودی مذہبی تہوار یوم کپور سے ایک روز قبل کا واقعہ ہے جو پیر کی رات تک جاری رہا۔بنیامن نیتن یاہو نے مسجد اقصیٰ کے قریب زیر زمین سرنگوں کا دورہ بھی کیا،اس موقع پر ان کے ساتھ ان کی اہلیہ بھی شامل تھیں جس کی ویڈیو بھی وائرل ہو چکی ہے۔

اس ویڈیو میں انھوں نے کہا ہے کہ وہ اپنی تاریخ کی بنیاد کو چھونے کے احساس کے قریب ہیں اور یہاں ہمیشہ موجود رہیں گے۔ان کے اس عمل نے عرب اور دیگر مسلم ممالک میں ایک اضطراب کی سی کیفیت پائی گئی اور مذمت بھی کی گئی لیکن نیتن یاہو کا یہ خواب ان کے اکیلے کا نہ تھا، یہ پراسرار سرگرمی تو صدیوں سے کسی نہ کسی صورت میں جاری رہی ہے اور وہ سرگرمی ہے کیا۔

آخر سرنگیں کھود کر کیا ڈھونڈا جا رہا ہے، کیا کریدا جا رہا ہے؟ تابوت سکینہ ایک ایسا پراسرار صندوق جسے طاقت کا سرچشمہ کہا جاتا ہے یہودیوں کے عقائد کے مطابق یہ بابرکت صندوق اگر مل جائے تو انھیں دنیا بھر میں اپنا تسلط قائم رکھنے میں غیب کی جانب سے مدد فرمائے گا۔

اس لکڑی کے بنے ہوئے صندوق میں روایات کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا، ان کی جوتیاں، حضرت سلمان علیہ السلام کی انگوٹھی، حضرت ہارون علیہ السلام کا عمامہ، تورات کی تختیوں کے کچھ ٹکڑے اور من و سلویٰ۔

ان باتوں میں کس حد تک صداقت ہے کہا نہیں جا سکتا لیکن قرآن شریف میں اور تورات میں بھی تابوت سکینہ کا ذکر آیا ہے۔بنی اسرائیل میں تابوت سکینہ کی بڑی اہمیت تھی، یہ ہر جنگ میں اپنے ساتھ رکھا جاتا تھا، کفار کے خلاف لڑنے والی جنگوں میں بنی اسرائیل کو فتح نصیب ہوتی اسے تابوت سکینہ کی برکت سے منسوب کیا جاتا۔

صرف یہی نہیں جب بنی اسرائیل میں کوئی جھگڑا ہوتا تو فیصلے کے لیے اسے درمیان میں رکھ دیا جاتا۔بنی اسرائیل کی سرکشی کا ذکر قرآن مجید میں موجود ہے جو حد سے بڑھ گئی تو اللہ نے قوم عالقہ کے ذریعے انھیں حملہ کرکے تباہ و برباد کر دیا اور صندوق کو اپنے ساتھ اٹھا کر لے گئے لیکن وہ اس کی تعظیم نہ کر پائے اور اسے گندگی کے ڈھیر میں پھینک دیا۔

نتیجہ یہ نکلا کہ ان پر طرح طرح کی مصیبتیں آنے لگیں وہ ان سے خوفزدہ ہوگئے اور سمجھ گئے کہ یہ سب اس بے ادبی کا نتیجہ ہے جو اس بابرکت مقدس صندوق سے منسوب ہے سو انھوں نے اس صندوق کو بیل گاڑی میں رکھ کر ان کو بنی اسرائیل کی بستیوں کی طرف ہنکا دیا۔اس وقت بنی اسرائیل کا کوئی بادشاہ نہ تھا یہ زمانہ حضرت شموئیل کا تھا۔

بنی اسرائیل کے لیے تابوت سکینہ بہت اہمیت رکھتا ہے جب کہ مسلمانوں کے لیے یہ ایک صندوق ہے جو طالوت کے دروازے پر پہنچ گیا، لہٰذا بنی اسرائیل نے انھیں اپنا بادشاہ مان لیا۔

اس صندوق کی حفاظت کے لیے حضرت سلیمان علیہ السلام نے خدا کا گھر بنانا شروع کیا، جو ہیکل سلیمانی کہلایا کیونکہ یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کے عہد میں مکمل ہوا تھا یہاں اس صندوق کو بڑے ادب و احترام کے ساتھ رکھا گیا اور یہ مقام یہودیوں کے لیے مقدس مقام بن گیا۔

بعد میں بابل کے بادشاہ نے ہیکل سلیمانی کو بہت نقصان پہنچایا اور تابوت سکینہ اپنے ساتھ لے گیا اس وقت سے آج تک کچھ نہیں پتا کہ تابوت سکینہ کہاں ہے۔یہودی اور عیسائی تحقیق کاروں نے بہت زور لگایا لیکن کچھ علم نہیں کہ یہ تابوت گیا کہاں؟

یہودیوں کے لیے اس کا تقدس دنیا بھر میں حکمرانی کے خلیفے سے جڑا ہے، لہٰذا اسے پانے اور کھوجنے کے لیے وہ صدیوں سے جتے ہوئے ہیں لیکن بار بار حکومتوں، زمانوں اور بادشاہوں کی رکاوٹوں نے اس عظیم صندوق کو ڈھونڈنے سے روکے رکھا۔

یہاں تک کہ آج 2026 کے ستمبر کے مہینے میں نیتن یاہو اپنی بیگم کے ساتھ تاریخ کے اس بند باب کے سرے پھر سے کھوجنے پر بہت خوش نظر آ رہے تھے۔1994 میں اردن اور اسرائیل کے درمیان ایک امن معاہدہ طے پایا تھا جس کی رو سے اسرائیل نے بیت المقدس کے تمام مقدس اسلامی مقامات کی سرپرستی کا حق اردن کو دے رکھا تھا۔

معاہدے میں یہ بھی لکھا تھا کہ مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی غرض سے داخل نہیں ہو سکتے لیکن ایسا ہوا نہیں اور یہودی آباد کار معاہدے کی خلاف ورزی کرتے رہے اور اپنی تلمودی تعلیمات کے مطابق عبادات کرتے رہے تھے جب کہ اسرائیلی فورس ان کو سیکیورٹی فراہم کرتی رہی۔

تابوت سکینہ کی تلاش میں فلسطینی شہریوں کی اس شکایت کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ یہودی آثار قدیمہ اور دوسرے حیلے بہانوں سے ان کے گھروں کے باغات اور دیگر مقامات کی کھدائی کرتے رہے ہیں جس سے ان کے گھروں کو خطرات لاحق تھے اب جب کہ جنگ نے ایک دنیا کو بدل دیا ہے تو اب اردن کی حیثیت کے ساتھ اسرائیل امریکا کے ساتھ مل کر اتنا منہ زور ہو چکا ہے کہ مسجد اقصیٰ میں اب انھیں عبادت کی اجازت مل چکی ہے، لہٰذا اسے اردن کی اجازت کی بھی ضرورت نہیں۔

لہٰذا نیتن یاہو اب کھل کر اپنے اس خواب کی تعبیر دیکھنا چاہ رہے ہیں جس کے تانے بانے ہیکل سلیمانی اور تابوت سکینہ کی گمشدگی سے جڑے ہیں۔ ایک دنیا کی آنکھ میں دھول جھونکنے والے امریکا کی آشیرباد کے ساتھ اسرائیل کی ساری سرگرمی اسی صدیوں پرانے کھوئے تابوت سکینہ کو ڈھونڈنے اور دنیا بھر میں حکمرانی کرنے کے خواب سے جڑی ہے۔

خود غرض حکمران اپنی کم عقلی اور لاعلمی سے لاکھوں لوگوں کو بے گھر اور جانی نقصان پہنچا چکے ہیں، کیا اس حماقت کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے؟ لیکن جنونی مذہب پرست جو مسلمانوں کو دہشت گرد اور شدت پسند کہہ کر مطعون کرتے رہے ہیں،اپنے اس جنون کو کیا نام دیں گے کہ بھول بیٹھے ہیں کہ جو ہستی تابوت سکینہ کو مقدس قرار دے سکتی ہے اور غائب کر سکتی ہے وہ اور کیا کچھ کر سکتی ہے کون جانے؟