پاکستانی ریاست کے چند بڑے چیلنجز میں ایک بڑا مسئلہ سیکیورٹی اور دہشت گردی سے جڑے مسائل پر مبنی ہے۔یہ مسائل داخلی ،علاقائی اور عالمی نوعیت پر مبنی پالیسیوں سے بھی جڑے ہوئے ہیں۔اگرچہ ہمارا دعوی ہے کہ ہم نے دہشت گردی سے نمٹنے یا اسے ختم کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔
لیکن یہ اعتراف بھی کرنا ہوگا کہ ہم آج بھی دہشت گردی کے سائے میں موجود ہیں اور دہشت گرد مسلسل ہماری ریاستی یا داخلی رٹ کو چیلنج کرکے نظام کو کمزور کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
یہ دعوی بھی درست نہیں کہ دہشت گرد کم تعداد میں ہیں کیونکہ ہم جتنے بھی دہشت گردوں کا خاتمہ کررہے ہیں تو اتنی ہی بڑی تعداد میں نئے دہشت گرد پیدا ہورہے ہیں۔اس لیے مسئلہ اتنا آسان نہیں اور اس سے ہم کو نمٹنے کے لیے آج کے مقابلے میں نئی حکمت عملی اور موثر غیر معمولی اقدامات کی ضرورت ہے۔حالیہ دنوں کوہاٹ سمیت دیگر علاقوں میں ہونے والی دہشت گردی اور ہمارے سیکیورٹی جوانوں کی شہادت ہمیں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے نئی فکر مندی کی دعوت دیتی ہے۔
اگرچہ ہم پچھلے کئی دہائیوں سے سیکیورٹی کے برے حالات سے دوچار ہیں اور اس نے عملی طورپر ہمارے مجموعی ریاستی نظام کو بھی کمزور کیا ہے۔اصل میں اصولی طور پر ہم ہونے والی دہشت گردی کا ردعمل کے طور پر تو جواب دیتے ہیں اور دہشت گردوں کا خاتمہ بھی کرتے ہیں۔
لیکن ہمیں بنیادی طور پر دہشت گردی کے تناظر میں ایسے اقدامات کی ضرورت ہے کہ ایسے حالات ہی پیدا نہ ہو جو دہشت گردی کے واقعات کا سبب بنتے ہیں۔کیونکہ یہ تنقید موجود ہے کہ دہشت گرد کس طرح آزادانہ بنیادوں یہاں دہشت گردی کے واقعات کرتے ہیں۔کیا یہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیوں کی ناکامی ہے یا اس کی دیگر سیاسی اور داخلی یا حکومتی وجوہات ہیں۔
کیونکہ بہت سے لوگ یہ اتفاق کرتے ہیں کہ دہشت گردی سے جڑے مسائل کو محض انتظامی بنیاد پر نمٹنے سے ممکن نہیں ہوتا بلکہ اس کے بیشتر سیاسی،سماجی،مذہبی اور گورننس سے جڑے مسائل سمیت ملک کا مجموعی سیاسی عدم استحکام کا پہلو ہے جسے ہماری طاقت ور سیاسی اشرافیہ اور حکمران طبقات آسانی سے نظر انداز کردیتے ہیں جو نئے مسائل کو پیدا کرتا ہے۔ہمارے یہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ کو عملا سیاسی تنہائی میں دیکھا جاتا ہے۔جب کہ اس کا سب اداروں کی معاونت اور عملی اقدامات سے جڑا ہوا ہے۔
ایک ایسی ریاست جو اس وقت سیاسی،معاشی ، گورننس،ادارہ جاتی،سیکیورٹی اور دہشت گردی سمیت ریاست اور عوام کے درمیان گہری خلیج کا شکار ہو توایسے میں دہشت گردی سے جڑے مسائل سے نمٹنا اور زیادہ مشکل ہوجاتا ہے۔
کیونکہ جب دہشت گرد اپنی دہشت گردی کے نظریاتی راستہ نکالتے ہیں تو وہ ہماری ہی داخلی کمزوریوں کا فائدہ بھی اٹھاتے ہیں۔اس وقت پاکستان کے دو صوبے بلوچستان اور خیبر پختون خواہ براہ راست دہشت گردی کی لپیٹ میں ہیں۔ان دونوں صوبوں میں ہونے والی دہشت گردی کو بھارت اور افغانستان کی معاونت حاصل ہے۔
افغانستان سے ہمارا مسئلہ بہتر ہونے کی بجائے مسلسل بگاڑ کا شکار ہے اور داخلی دہشت گردی میں افغان فیکٹر نمایا ں ہے اور اس میں جہاں افغان حکومت سمیت ٹی ٹی پی شامل ہیں وہیں افغان سطح پر جو ہونے والی لڑائیاںوہ بھی حالات کو خراب کرنے کا سبب بن رہی ہیں ۔
افغان حکومت کا مسلسل ٹی ٹی پی کے بارے میں اختیار کیے جانے والا نرم گوشہ بھی پاکستان سے بہتر تعلقات میں رکاوٹ ہے۔ افغانستان کا حل ابھی تک ہم نے علاقائی ممالک سے بھی جو نکالنے کی کوشش کی اس کے بھی خاطر خواہ نتائج نہیں نکل سکے ہیں۔
حال ہی افغان سفیر کے بقول ہم علاقائی ممالک سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ دونوں ممالک کے تعلقات کی بہتری میں کردار ادا کرے گا۔لیکن یہ سب کچھ لفاظی کی بنیاد پر کیا جارہا ہے اور عملی اقدامات کی بنیاد پر افغان حکومت خاموش ہے۔
اصل مسئلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کمی کا ہے اور دونوں عملا ایک دوسرے کے مخالف کھڑے ہیں۔ایسے میں دونوں ممالک کے درمیان برف کیسے پگھلے گی، اس کا سب کو انتظار ہے۔جنگ کوئی آپشن نہیں اور خود بھارت میں ان کی حکومت پر سخت تنقید ہورہی ہے کہ اس آخری جنگ کی مہم جوئی کی وجہ سے بھارت کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔
دہشت گردی کے خاتمہ میں بھارت، افغانستان اور پاکستان کے درمیان بات چیت کا آغاز کنجی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی مدد کے بغیر نہ تو تعلقات بہتر ہوسکیں گے اور نہ دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔کیونکہ دہشت گردی کے خاتمہ کے مشترکہ فریم ورک اور مشترکہ حکمت عملی سمیت ایک دوسرے پر اعتماد کے ماحول کی ضرورت ہے۔
یہ کام ابتدائی طور پر بڑے بڑے اقدامات سے نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے دو طرفہ اقدامات سے ممکن ہے۔پاکستان کے لیے یہ سب کچھ بہت ضروری ہے کیونکہ دہشت گردی کی وجہ سے ہم داخلی طور پر جہاں سیکیورٹی کے عدم تحفظ کا شکار ہیں، وہیں ہمارا سیاسی اور معاشی استحکام بھی کمزور ہورہا ہے۔
اس لیے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے دونوں محاذوں یعنی داخلی اور علاقائی سطح پر حکمت عملی کو ترتیب دینا ہوگا۔یہ حکمت عملی جہاں انتظامی اور سیکیورٹی کی بنیاد پر ترتیب دی جائے گی وہیں اس کا علاج سیاسی سمیت سفارت کاری اور ڈپلومیسی کے محاذ پر بھی تلاش کرنا ہوگا۔
پاکستان کی سطح پر دہشت گردی کی جنا سے نمٹنے میں جو سیاسی تقسیم نظر آتی ہے اس کا علاج بھی تلاش کرناہوگا۔کیونکہ جب تک سیاسی استحکام اور اتفاق رائے پر مبنی سیاست کو تقویت نہیں دی جائے گی کچھ بہتر نہیں ہوسکے گا۔دہشت گردی ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے ۔
ہم بطور پاکستانی جہاں اپنی زندگی کا تحفظ چاہتے ہیں وہیں ایک بہتر سیاسی و معاشی زندگی کا خواب بھی رکھتے ہیں۔لیکن دہشت گردی کے سائے ہم پر بڑھتے جارہے ہیںاور اس میں کچھ ہماری داخلی پالیسیوں کا بھی عمل دخل بھی ہوگا۔
اس لیے ہمیں اس بحران سے نمٹنے کے لیے مجموعی طور پر اپنی داخلی پالیسیوں کا جائزہ لینا ہوگاتاکہ ہم کچھ اپنی بھی اصلاح کرسکیں یا بہتری کا راستہ تلاش کرسکیں۔دہشت گردی سے نمٹنے کا علاج داخلی محاذ پر ایک دوسرے سے الزامات کی سیاست سے ممکن نہیں اور یہ کہنا کہ فلاں فلاں دہشت گرد ہے یا ان کی سرپرستی کرتا ہے یہ بھی درست حکمت نہیں۔
پاکستان کے جو دو صوبے براہ راست دہشت گردی کا شکار ہیں وہاں جو جوان شہید ہورہے ہیں یا جو سویلین بھی شہادت حاصل کررہے ہیں، ہمیں یقینی طور پر ان کی قربانیوں پر فخر ہے ۔لیکن اب موجودہ بڑھتی ہوئی دہشت گردی کے تناظر میں ہمیں جہاں اس جنگ کا مقابلہ کرنا ہے وہیں اب تک کی اختیار کی جانے والی پالیسی میں بہت کچھ خود بھی تبدیل کرکے آگے بڑھنے کی پالیسی اختیار کرنا ہوگی۔