جرمنی کی ایجنسی کے ایف ڈبلیو کے تعاون سے فیصل آباد میں پانی کی فراہمی کے نظام کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا منصوبہ بنایا گیا ہے.
آج پنجاب ڈویلپمنٹ ورکنگ پارٹی کے ساتویں اجلاس میں منصوبہ منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا. سیکرٹری ہاؤسنگ نورالامین مینگل اجلاس میں شرکت کریں گے.
واٹر سپلائی انفراسٹرکچر منصوبے پر تقریباً 14.2 ارب روپے کی لاگت آئے گی۔منصوبے کے تحت گلفشاں واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی بحالی اور اپ گریڈیشن کا کام مکمل کیا جائے گا.
منصوبے کےتحت 4 سال میں شہر کا واٹر سپلائی سسٹم مکمل طور پر اپ گریڈ کیاجائےگا، فیصل آباد شہر میں 10 نئے ٹیوب ویل لگائے جائیں گے.
سمن آباد، بسم اللہ چوک اور گلشن کالونی میں پانی کے بڑے ٹینک بنائے جائیں گے، پانی کی چوری اور ضیاع روکنے کے لیے جدید مانیٹرنگ سسٹم نصب کیا جائے گا.
منصوبے سے فیصل آباد اور گردو نواح کے لاکھوں شہری مستفید ہوں گے، منصوبے کی لاگت کا 5 فیصد "گرین ریزیلینس" کے لیے مختص کیا جائے گا.
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے ویژن کیمطابق شہریوں کو صاف پانی کی دہلیز پر فراہمی کی جائے گی.