انکل کو جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے؛ زیادتی کی شکار بچی کا جج سے مطالبہ

بھارتی عدالت نے 7 سالہ بچی کو زیادتی کا نشانہ بنانے والے سفاک درندے کو عمر قید کی سنادی


ویب ڈیسک September 29, 2026
عدالت نے متاثرہ بچی کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے معاوضہ مقرر کیا ہے۔

بھارت کی دہلی ہائی کورٹ میں 10 سالہ بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کے ہولناک واقعے کے کیس نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔

بھارتی میڈیا کے مطابق یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب سات سال کی عمر میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی بچی نے عدالت سے کہا تھا کہ جس شخص کو وہ ’انکل‘ کہتی تھی، اسے اس وقت تک جیل میں رکھا جائے جب تک وہ بوڑھا نہ ہوجائے۔

روہنی کی خصوصی پوکسو عدالت کی جج رجنی رنگا نے سفاک مجرم کو عمر قید سزا سناتے ہوئے زیادتی کی شکار معصوم بچی کے نام ایک ذاتی پیغام بھی لکھا۔

جج نے بچی کو ایک بہادر فرد قرار دیتے ہوئے کہا کہ عدالت نے آپ کی بات سنی اور آپ کی درخواست منظور کرلی۔ وہ مجرم اب ساری عمر پنجرے میں قید رہے گا۔

بچی کے نام اپنے پیغام میں جج نے مزید کہا کہ آپ بھی اپنی زندگی آگے بڑھائیں، اسکول جائیں، دوست بنائیں، کھیلیں اور اپنے خواب پورے کریں۔

دہلی ہائی کورٹ نے شمال مغربی دہلی ڈسٹرکٹ لیگل سروسز اتھارٹی کو ہدایت کی ہے کہ جج کا یہ پیغام پرنٹ کرکے بچی یا اس کے اہل خانہ تک دو ہفتوں میں پہنچایا جائے اور ساتھ ہی معاوضے کی رقم بھی دلوائی جائے۔

دہلی ہائی کورٹ کی عدالت نے 22 ستمبر کے حکم میں بتایا کہ متاثرہ بچی کے لیے 10 لاکھ 50 ہزار بھارتی روپے معاوضہ مقرر کیا گیا ہے۔

مجرم سمیت شکایت کنندہ کی اپیل پر عدالت نے سزا معطل کرکے فوری ضمانت دینے سے بھی انکار کردیا۔

عدالت نے کہا کہ دستیاب شواہد اور فرانزک ثبوتوں کو دیکھتے ہوئے اس مرحلے پر سزا معطل کرنے کی کوئی بنیاد نہیں۔ مجرم کو آخری سانس تک قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

مجرم کا نام سُمِت شکلا ہے۔ وہ بچی کا محلہ دار تھا بلکہ اور بچی اسے انکل کہہ کر پکارتی تھی۔ عدالت کی رپورٹ میں اسے بچی کے ساتھ جنسی زیادتی کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔

واقعہ 23 جولائی 2023 کو دہلی میں پیش آیا تھا۔ اس وقت بچی کی عمر 7 سال تھی جبکہ اب وہ 10 سال کی ہے۔

کیس بدھ وہار پولیس اسٹیشن میں درج کیا گیا تھا اور کارروائی بھارت کے پاسکو قانون کے تحت ہوئی۔