ایک سوال آج کل بہت اہم ہو گیا ہے کہ کے پی حکومت کا مستقبل کیا ہے۔ کچھ دوستوں کی رائے میں گورنر راج کی تیاری ہے۔ کچھ دوست ایمرجنسی کااشارہ کر رہے ہیں۔ کیا گورنر راج اور ایمرجنسی لگ رہی ہے۔ یہ ایک اہم سوال ہے۔ تحریک انصاف کی طرف سے بھی ایسے اشارے مل رہے ہیں جیسے وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کے پی اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا سہیل آفریدی کے پی اسمبلی تحلیل کرکے مستعفی ہونگے۔ وہاں نیا وزیر اعلیٰ آئے گا یا کچھ بھی نہیں ہوگا۔
مجھے نہیں لگتا کہ تحریک انصاف کے پی اسمبلی تحلیل کرنے کی طرف جائے گی۔ مجھے نہیں لگتا کہ سہیل آفریدی استعفیٰ دے کر کے پی اسمبلی کو کسی آئینی بحران سے دوچار کریں گے۔ تحریک انصاف ماضی میں اپنی حکومتیں ختم کر کے اور اسمبلیاں توڑ کر دیکھ چکی ہے۔ اس کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ الٹا نقصان ہوا ہے جو وہ آج تک بھگت رہی ہے۔ سب متفق ہیں کہ پنجاب اور کے پی حکومتیں توڑنا ایک سیاسی خودکشی تھی۔ اس لیے اگر کل یہ ایک غلط فیصلہ تھا تو آج بھی ایک غلط فیصلہ ہے۔
اسمبلی توڑنے کے بعد کیا ہوگا۔ کیا انتخابات ہونگے یا نہیں ہونگے۔ دونوں صورت میں تحریک انصاف کو پتہ ہے انھیں کچھ نہیں ملے گا۔ اگر دوباہ انتخابات ہوئے اور تحریک انصاف نے دوبارہ انتخابات ہی لڑنے ہیں تو آج استعفیٰ دینے کا کیا فائدہ ہے اور اگر کوئی مخالف نگران حکومت آگئی تو تحریک انصاف کی سیاسی زندگی کے پی میں مزید مشکل ہو جائے گی۔ اس لیے جیسی بھی حکومت ہے اس کو ختم کرنا تحریک انصاف کے مفاد میں نہیں ہے۔ اس سے چمٹے رہنے میں ہی تحریک انصاف کا مفاد ہے۔ اس کا خاتمہ تحریک انصاف کے لیے سیاسی زندگی مشکل سے مشکل کر دے گا۔
اب دیکھتے ہیں گورنر راج اور ایمرجنسی کے معاملات کو۔ ویسے تو یہ دونوں کام بھی تحریک انصاف کے لیے سیاسی طور پر زہر قاتل ہی ہیں۔ تحریک انصاف کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ حالات اس طرف نہ جائیں کہ گورنر راج لگ جائے یا ایمرجنسی لگ جائے۔ دونوں صورت میں تحریک انصاف کی اقتدار سے چھٹی ہو جائے گا۔اس لیے تحریک انصاف کو سمجھ ہونی چاہیے کہ معاملات کو سلجھانے میں اس کی بقا ہے ورنہ گیم ہاتھ سے نکل جائے گی۔ گورنر راج ان کے لیے کے پی کو بھی پنجاب بنا دے گا، ایمرجنسی ان کے لیے نو مئی سے کم نہیں ہوگی۔
اس لیے دونوں کوئی اچھی خبر نہیں ہیں۔ سہیل آفریدی بے شک کہتے رہیں کہ کل کی بجائے آج لگادیں۔ لیکن انھیں اس کے نقصانات کا اندازہ ہے۔ اسی لیے بیک چینل بات چیت کرتے ہیں اسی لیے لانگ مارچ ملتوی کیا گیا ہے۔ کیونکہ اندازہ ہے کہ اس بار اقتدار چلا جائے گا، اقتدار کا سورج غروب ہو جائے گا۔ لانگ مارچ کی کامیابی کے امکانات تو پہلے ہی کم ہیں لیکن اس کے نتیجے میں اقتدار کا سورج غروب ہونے کے امکانات روز بروز بڑھتے جا رہے ہیں۔
کچھ دوستوں کی یہ بھی رائے کہ ہم فضول بحث میں الجھے ہوئے ہیں۔گورنر راج اور ایمرجنسی لگانے کی کوئی ضرورت نہیں۔ آپ کے پی کے انتظامی حالات کو غور سے دیکھیں تو کیا آپ کو نہیں لگتا کہ سہیل آفریدی کی وزارت اعلیٰ ختم ہو چکی ہے۔ وہاں تحریک انصاف کے رہنماؤں کی گرفتاریاں ہو رہی ہیں۔ وزیر پکڑے جا رہے ہیں ، ارکان اسمبلی پکڑے جا رہے ہیں۔
آئی جی حکومت کی بات ہی نہیں مان رہے ۔ چیف سیکریٹری بھی اپنے انتظامی فیصلے کر رہے ہیں۔ اس دن سیکیورٹی تھریٹ پر صوبائی سیکریٹریٹ بند کر دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ کو علم ہی نہیں تھا، وہ حیران تھے۔ اس لیے انتظامیہ اور پولیس پر سہیل آفریدی کا عملی طور پر کنٹرول ختم ہو چکا ہے۔ حکومت تب تک ہی ہوتی ہے جب تک آپ کا حکم مانا جا رہا ہو۔ جب آپ کے حکم کی کوئی وقعت ہی نہ رہے تو حکومت ختم ہو جاتی ہے۔
اس وقت سہیل آفریدی کے پی کے ایک بے اختیار اور ڈمی وزیر اعلیٰ ہیں۔ جن کے کسی حکم کی کوئی وقعت نہیں۔ اسی لیے لانگ مارچ ملتوی بھی کیا گیا ہے ملتوی کرنے کی کوئی سیاسی وجوہات نہیں ہیں۔ واحد وجہ یہ ہے کہ تیاریاں نہیں ہیں۔ ماضی کے لانگ مارچز میں جیسے حکومتی وسائل کا تعاون حاصل ہوتا تھا وہ اب نہیں ہے۔ ماضی میں انتظامیہ جیسے سہولت کاری کرتی تھی وہ اب نہیں ہو رہی۔ حکومت ساتھ نہیں۔ سیاسی جماعت میں تو نہ پہلے دم تھا نہ آج ہے۔ سارا کھیل ہی حکومتی وسائل کا تھا۔ وہ مل نہیں رہے۔
سب سے اہم ٹرانسپورٹ نہیں مل رہی۔ ماضی میں انتظامیہ ٹرانسپورٹر سے ٹرانسپورٹ لے کر دیتی تھی۔ وہ اب نہیں لے کر دے رہی۔ ارکان اسمبلی اپنی گاڑیاں لے کر جانے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ انھیں اندازہ ہے کہ اٹک کا پل کراس کرتے ہی کیا ہونا ہے۔ اس لیے سب سے بڑامسئلہ ٹرانسپورٹ کا ہے۔
اس میں حکومتی وسائل کا کلیدی کردار ہوتا تھا۔ وہ اب ممکن نہیں۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ سہیل آفریدی کے لیے بہت سی ان دیکھی مشکلات پیدا کر گیا ہے۔ ان کا صرف سہیل آفریدی کو ہی اندازہ ہے۔ وہ اپنے مسائل بتانے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہیں۔ اسی لیے مالا کنڈ میں انھوں نے کہا ہے کہ موٹر سائیکلوں میں جائیں گے۔ کیونکہ اب اندازہ ہوگیا ہے کہ ٹراسپورٹ نہیں۔ بغیر ٹرانسپورٹ کے لانگ مارچ ممکن نہیں۔ اس لیے ملتوی ہونے کی بنیادی وجہ کو سمجھیں۔
ماضی میں گنڈا پور ٹھیکیداروں کا بہت استعمال کرتے تھے۔ کرینیں ان کی ہوتی تھیں۔ اس دفعہ ویسے تو زیادہ تر ٹھیکیداروں کی سہیل آفریدی نے اس لیے چھٹی کروادی تھی کہ وہ گنڈا پورکے ٹھیکبدار تھے۔ جو بچ گئے ہیں انھوں نے حالات کا ر خ دیکھا ہے اور تعاون نہیں کر رہے ہیں۔ نہ تو ٹھیکیداروں کی مشینری ملی ہے نہ ہی ان کے وسائل مل رہے ہیں۔ وہ بھی سہیل آفریدی کو چکر دے رہے ہیں۔ ان کے کنٹریکٹ کینسل کرنے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ لیکن وہ سمجھدار ہیں، انھیں پتہ ہے کہ اصل اختیار انتظامیہ کا ہے اور وہ کدھر کھڑی ہے۔ اس لیے سمجھیں تیاریاں نہیں ہیں۔ اسی سے 4اکتوبر کی صورتحال بھی آپ سمجھ سکتے ہیں۔
اس وقت لانگ مارچ کی صورتحال تحریک انصاف کے لیے ایسے کمبل کی ہے۔ جس سے تحریک انصاف جان تو چھڑانا چاہتی ہے تو لیکن جان چھوٹ نہیں رہی۔ اس لیے ملتوی کی کہانی سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جو تیاریاں 26ستمبر کو نامکمل تھیں وہ 4اکتوبر کو بھی نامکمل ہی ہوں گی۔ بلکہ روز بروز کمزور ہوتی جائیں گی۔
روز بروز سہیل آفریدی کی رٹ ختم ہو رہی ہے، وہ کمزور سے کمزور ہو رہے ہیں، وہ اپنا اختیار ختم کر رہے ہیں۔ یہ تحریک انصاف کے لیے بہت خطرناک ہے۔ کے پی میں جو سیاسی مفرور اور اشتہاری اس لیے بیٹھے ہیں کہ وہاں تحریک انصاف کی مضبوط حکومت ہے، انھیں خطرہ لا حق ہو گیا ہے کہ وہ غیر محفوظ ہو گئے ہیں۔ اب کے پی محفوظ نہیں وہ گرفتار ہو سکتے ہیں۔ پولیس انھیں گرفتار کر سکتی ہے۔ اس لیے کھیل بدل گیا ہے۔