چین کا 2028 تک مریخ کا مکمل ارضیاتی نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ

نقشہ سازی کے لیے مصنوعی ذہانت کی مدد سے مریخ سے حاصل ہونے والے ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا


ویب ڈیسک September 30, 2026

چین نے 2028 کے اختتام تک پورے مریخ کا تفصیلی ارضیاتی نقشہ تیار کرنے کا منصوبہ بنا لیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت مریخ کی سطح، چٹانوں اور مختلف ارضیاتی خصوصیات کا جامع مطالعہ کیا جائے گا۔

چینی اکیڈمی آف سائنسز کے ماہر اور تیان وین-3 مشن کے چیف سائنس دان ہو زینگ چیان کے مطابق حاصل ہونے والے نئے سائنسی ڈیٹا کی بنیاد پر ماہرین مریخ کے ارضیاتی ادوار کی درجہ بندی کے لیے چین کا اپنا نظام بھی تیار کریں گے۔

چین کے ژورونگ روور سے حاصل ہونے والی تحقیق نے انکشاف کیا ہے کہ تقریباً 3.5 ارب سال قبل مریخ پر برِ اعظمی سطح کا ایک قدیم سمندر موجود تھا۔ سائنس دانوں کو تقریباً 1.6 ارب سال قبل آنے والے ایک مختصر دورانیے کے ممکنہ سیلاب کے شواہد بھی ملے ہیں۔ یہ معلومات مریخ کے نئے ارضیاتی نقشے کی تیاری میں استعمال کی جائیں گی۔

اس منصوبے میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) بھی اہم کردار ادا کرے گی۔ مصنوعی ذہانت کی مدد سے مریخ سے حاصل ہونے والے ریموٹ سینسنگ ڈیٹا کا تجزیہ کیا جائے گا اور سیارے کی مختلف ارضیاتی خصوصیات کی نشاندہی کی جائے گی۔

چین مستقبل میں اسی طریقہ کار کو چاند، زہرہ اور مختلف سیارچوں کی نقشہ سازی کے لیے بھی استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

واضح رہے مریخ کی تحقیق کے مقصد سے بنایا جانے ولا تیان وین-3 مشن 2028 میں روانہ کیا۔