دنیا کی تاریخ میں کچھ ممالک صرف اپنی سرحدوں، اپنی فوج ، اپنی دولت یا اپنی ایٹمی طاقت کی وجہ سے اہم نہیں ہوتے۔ ان کی اصل اہمیت ان خیالات میں ہوتی ہے جنھیں انھوں نے انسانی تاریخ کے سامنے پیش کیا ہوتا ہے، امریکا بھی ان ممالک میں سے ایک ہے۔
اس کی تاریخ میں غلامی ہے، نسل پرستی ہے ،مقامی آبادیوں کے ساتھ ناانصافیاں ہیں، جنگیں ہیں، ویت نام ہے ،عراق ہے ،گوانتانامو ہے، مگر اسی تاریخ میں شہری حقوق کی جدوجہد بھی ہے، غلامی کے خلاف جنگ بھی ہے ،خواتین کے حق رائے دہی کی تحریک بھی ہے ۔مارٹن لوتھر کنگ کی آواز بھی ہے اور یہ تصور بھی کہ ریاست سے زیادہ اہم شہری ہے۔
اسی لیے جب امریکا میں مارشل لا انتخابات پر غیر معمولی اختیارات یا انتخابی عمل کو صدارتی حکم کے ذریعے اپنے تابع کرنے کی باتیں ہونے لگیں تو دنیا کو تشویش ہوتی ہے۔ یہ صرف امریکا کا داخلی مسئلہ نہیں رہتا۔ امریکا نے خود کئی دہائیوں تک دنیا کے دوسرے ممالک کو جمہوریت انسانی حقوق اور آئینی حکمرانی کے سبق دیے ہیں۔ اب دنیا یہ دیکھ رہی ہے کہ وہ خود اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
حالیہ دنوں میں ایک عجیب اور تشویش ناک بحث سامنے آئی ہے۔ پیٹر ٹکٹن جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پرانے ساتھی اور حامی رہے ہیں، نے نومبر کے وسط مدتی انتخابات کے تناظر میں مارشل لا کو ایک ممکنہ راستے کے طور پر بیان کیا۔ یہ ٹرمپ کی طرف سے مارشل لا نافذ کرنے کا اعلان نہیں تھا لیکن اس طرح کا خیال ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی انتخابات کے بارے میں صدارتی اختیارات بڑھانے کی بحث پہلے ہی جاری ہے۔ ستمبر میں سامنے آنے والی رپورٹوں کے مطابق ٹکٹن نے انتخابات کے بارے میں انتہائی غیر معمولی اقدامات کا امکان بیان کیا۔
اس سے پہلے اگست میں ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے دوران میزبان وین آلین روٹ نے ٹرمپ کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ اگر کانگریس انتخابی قوانین کے بارے میں مطلوبہ قانون منظور نہیں کرتی تو صدر قومی سلامتی کی ہنگامی حالت نافذ کرسکتے ہیں۔ اس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا’’Stranger things have happened.‘‘یہ مارشل لا کا اعلان نہیں تھا مگر یہ جواب بھی ایسا نہیں تھا جس سے بحث ختم ہوجاتی۔ یہاں اصل سوال ٹرمپ کی ذات سے کہیں بڑا ہے۔اصل سوال یہ ہے کہ کیا ایک جمہوری ریاست اپنے انتخابات کے بارے میں خوف ہنگامی حالت اور غیر معمولی اختیارات کی زبان کو معمول بننے دے سکتی ہے۔
جمہوریت صرف ووٹ ڈالنے کا نام نہیں۔ جمہوریت اس یقین کا نام ہے کہ اقتدار کسی ایک شخص کی ملکیت نہیں۔ صدر آج طاقتور ہے کل کوئی دوسرا ہوگا۔ آج ایک جماعت حکومت میں ہے کل دوسری ہوسکتی ہے۔ آج جس شخص کو اپنی کامیابی یقینی دکھائی دیتی ہے، کل وہی شخص اپوزیشن میں بیٹھ سکتا ہے۔ اسی لیے آئین بنائے جاتے ہیں ادارے قائم کیے جاتے ہیں اور اختیارات کو تقسیم کیا جاتا ہے۔
امریکا کے کروڑوں شہریوں نے یہ نظام تحفے میں نہیں پایا۔ امریکی تاریخ میں نسلوں نے اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کی ہے۔ سیاہ فام امریکیوں نے شہری حقوق کے لیے جانیں دیں۔ خواتین نے ووٹ کے حق کے لیے طویل جدوجہد کی۔ مزدوروں نے بہتر اجرت اور کام کے انسانی حالات کے لیے تحریکیں چلائیں۔ لاکھوں لوگوں نے مختلف ادوار میں ریاستی طاقت کے سامنے اپنے بنیادی حقوق کا مطالبہ کیا۔اگر انتخابات میں کوئی مسئلہ ہے تو عدالتیں موجود ہیں، اگر دھاندلی کا کوئی ثبوت ہے تو اسے پیش کیا جائے، اگر انتخابی قوانین ناقص ہیں تو کانگریس ان پر بحث کرے، اگر ریاستی قوانین میں تبدیلی ضروری ہے تو آئینی طریقے سے کی جائے، مگر انتخابی شکست یا انتخابی تنازع کا علاج فوجی طاقت یا غیر معمولی صدارتی اختیار نہیں ہوسکتا۔ یہ بات صرف ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے نہیں ہر امریکی صدر کے لیے ہے۔ریاستی طاقت کا سب سے بڑا امتحان یہ نہیں کہ وہ اپنے مخالف کو کتنا دبا سکتی ہے۔ اصل امتحان یہ ہے کہ وہ اپنے مخالف کو شکست تسلیم کرنے، بولنے ،احتجاج کرنے اور اگلا انتخاب لڑنے کا حق دیتی ہے یا نہیں۔
امریکا اگر اپنے آپ کو دنیا کی قدیم اور مضبوط جمہوریتوں میں شمار کرتا ہے تو اسے یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ جمہوریت کی مضبوطی صرف اس وقت ظاہر نہیں ہوتی جب حکومت جیت رہی ہو۔ جمہوریت اس وقت مضبوط ہوتی ہے جب حکومت کو شکست کا سامنا ہو اور پھر بھی آئینی راستہ اختیار کیا جائے۔یہ بھی درست ہے کہ حالیہ سیاسی ماحول میں ٹرمپ کی مقبولیت کے بارے میں سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
21 ستمبر 2026 کو جاری Reuters سروے میں ٹرمپ کی مجموعی مقبولیت 32 فیصد ریکارڈ ہوئی جو اس سروے کے مطابق ان کی صدارت کی کم ترین سطح تھی۔ اسی سروے میں مہنگائی اور ایران جنگ کے بارے میں بھی عوامی عدم اطمینان سامنے آیا۔مگر یہاں بھی ایک بنیادی اصول ہے مقبولیت کم ہو یا زیادہ حکومت میں کوئی بھی شخص انتخابات کے قواعد کو اپنی سیاسی ضرورت کے مطابق تبدیل کرنے کا حق نہیں رکھتا۔
اگر کوئی حکمران یہ سوچنے لگے کہ عوام اس سے خوش نہیں اس لیے انتخابات کے طریقہ کار کو بدل دینا چاہیے تو پھر انتخابات عوام کی مرضی معلوم کرنے کا ذریعہ نہیں رہتے بلکہ اقتدار برقرار رکھنے کا ذریعہ بن جاتے ہیں اور یہی وہ مقام ہے جہاں جمہوریت اپنی روح کھونا شروع کرتی ہے۔
امریکا نے دنیا کو بارہا بتایا ہے کہ حکومتیں عوام کے سامنے جواب دہ ہوتی ہیں۔ پھر امریکا کو اپنے لیے بھی یہی اصول قبول کرنا ہوگا۔ انتخابات میں کامیابی کا راستہ ووٹ ہے، انتظامی ہنگامی حالت نہیں۔ سیاسی اختلاف کا جواب بحث ہے فوج نہیں۔ انتخابی تنازع کا جواب عدالت ہے مارشل لا نہیں۔ عوام کے عدم اطمینان کا جواب عوام سے مزید دور ہونا نہیں بلکہ عوام کی آواز سننا ہے۔
آج اگر کوئی امریکی صدر یہ تصور کرے کہ قومی سلامتی داخلی بحران یا انتخابی بے یقینی کے نام پر غیر معمولی اختیارات حاصل کیے جاسکتے ہیں تو اسے ایک لمحے کے لیے امریکا کی اپنی تاریخ کی طرف دیکھنا چاہیے۔ وہ تاریخ اسے بتائے گی کہ آزادی کسی ایک صدر کی عطا نہیں تھی۔ یہ ایک طویل انسانی جدوجہد کا نتیجہ تھی اور انسانی حقوق بھی کسی حکومت کے احسان کا نام نہیں وہ انسان کا حق ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ مارشل لا کا لفظ بھی احتیاط سے استعمال ہونا چاہیے۔ ایک ایسی قوم میں جس نے دنیا کے سامنے آئینی جمہوریت کا تصور پیش کیا ہو، اقتدار کے لیے فوجی طاقت کے استعمال کی بات محض سیاسی بیان نہیں رہتی۔ اس کے اثرات سرحدوں سے باہر تک جاتے ہیں۔
دنیا کے کمزور ممالک میں جب کوئی فوجی حکمران آئین معطل کرتا ہے تو امریکا اکثر جمہوریت کا حوالہ دیتا ہے۔ اب دنیا کی نظریں امریکا پر ہیں کہ وہ اپنے آئین اپنے انتخابات اور اپنے شہریوں کے حقوق کے بارے میں کیا مثال قائم کرتا ہے۔
ٹرمپ کو کوئی حق نہیں کہ امریکا کے عوام نے جو جمہوریت کے لیے قربانیاں دی ہیں وہ اس کو ملیامیٹ کریں۔ ان کو اپنی سیاست کا دفاع کرنے کا پورا حق ہے، اپنے مخالفین پر تنقید کرنے کا بھی۔ انتخابی قوانین تبدیل کرنے کے لیے کانگریس سے مطالبہ کرنے کا بھی مگر وہ امریکا کے شہریوں کے جمہوری حق کو سلب کرکے سیاسی کامیابی کا ذریعہ نہ بنائیں۔مڈٹرم انتخابات جیتنے یا ہارنے سے کہیں زیادہ اہم ایک چیز ہے ،کیا امریکی شہری آزادانہ طور پر اپنا فیصلہ کرسکتے ہیں،اگر جواب ہاں ہے تو جمہوریت زندہ ہے۔اگر اقتدار بچانے کے لیے عوام کے فیصلے سے خوف آنے لگے تو مسئلہ انتخابات کا نہیں جمہوریت کے تصور کا ہے۔
امریکا نے تاریخ میں بہت کچھ حاصل کیا ہے۔ اس نے غلطیاں بھی کی ہیں ،جنگیں بھی کی ہیں ،دوسروں کے حقوق پامال بھی کیے ہیں ،مگر اس کے باوجود اس کے آئینی اور جمہوری ادارے دنیا کے سیاسی تصور پر گہرا اثر رکھتے ہیں۔ اس ورثے کو کسی بھی صدر کی سیاسی مہم سے بڑا ہونا چاہیے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ وائٹ ہاؤس سے لے کر کانگریس تک اور عدالتوں سے لے کر عام شہری تک سب ایک ہی بات کہیں انتخابات عوام کا حق ہیں۔ آئین کسی فرد کی ملکیت نہیں۔
امریکا کو جمہوریت کے سفر پر پیچھے نہیں آگے جانا چاہیے۔ جن حقوق کے لیے نسلوں نے قربانیاں دی ہیں، انھیں ایک سیاسی لمحے کی فتح یا شکست کے لیے خطرے میں ڈالنا کسی بھی ملک کے لیے بہت بھاری قیمت ہوسکتی ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی یہی ہے کہ اقتدار آتا ہے اور چلا جاتا ہے، اگر جمہوری اصول چلے جائیں تو انھیں واپس لانے میں نسلیں لگ سکتی ہیں۔