عرب ممالک اور ایران کے تعلقات کبھی اچھے نہیں رہے ہیں۔ ایرانی انقلاب کے بعد سے عرب ممالک اور ایران کے درمیان اختلافات اور دوریاں رہی ہیں۔ ان میں ایران کی پالیسیوں اور عرب دنیا کی امریکی قربت کا بھی بہت عمل دخل رہا ہے۔ ایران امریکا مخالف رہا ہے۔ جب کہ عرب دنیا امریکا کے ساتھ کھڑی نظر آئی ہے۔
تاہم حالات بدلے ایران اور سعودی عرب کے درمیان چین کی ثالثی میں سفارتی تعلقات کی بحالی ہوئی۔ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوئے۔ ایران اور متحدہ عرب امارات کے درمیان بہت مالی تعاون نظر آیا۔ ایرانی پر مالی پابندیوں کے باوجود متحدہ عرب امارات ایران کے لیے مالی معاملات کا مرکز رہا۔ قطر اور ایران کے تعلقات بھی بہتر رہے۔
اومان اور ایران کے تعلقات بھی بہتر رہے۔ البتہ بحرین اور ایران کے تعلقات میں کشیدگی ضرور نظر آئی۔ اس لیے ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ گزشتہ چند سال میں ایران اور عرب دنیا کے درمیان تعلقات کی بہتری کی کوششیں بھی نظر آئیں۔ ان سے کافی تعلقات میں نرمی آئی۔ لیکن گرمجوشی نہیں تھی، دوریاں موجود تھیں لیکن مخالفت کم ہوئی۔
حالیہ امریکا ایران جنگ میں بھی عرب دنیا کو ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں اپنے میزائیلوں سے نشانہ بنایا۔ عرب ممالک پر کافی حملے کیے۔ ایک موقع پر امریکا اور اسرائیل یہ چاہتے تھے کہ عرب ممالک ایران کو براہ راست جواب دیں اور عرب ایران جنگ شروع ہو جائے۔ لیکن پاکستان اور دیگر اسلامی ممالک نے عرب دنیا کو سمجھایا کہ یہ ان کے مفاد میں نہیں۔ ایران نے ان پر حملہ کیے ہیں لیکن وہ جواب نہ دیں۔ اس کو امریکا اور ایران جنگ ہی رہنے دیں، اس کو عرب ایران جنگ نہ بننے دیا جائے۔ اسرائیل کی بھی یہی خواہش تھی کہ خطہ کے تمام عرب ممالک ایران کے خلاف جنگ میں اس کے ساتھ شامل ہو جائیں۔
عرب دنیا کا ایک موقف کافی مضبوط تھا۔ ان کا موقف تھا کہ ایران کی جنگ امریکا اور اسرائیل کے ساتھ ہے لیکن ایران اسرائیل کو نشانہ نہیں بنا رہا ہے بلکہ صرف عرب ممالک کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اسے عرب ممالک سے زیادہ اسرائیل کو نشانہ بنانا چاہیے۔ یہ درست ہے کہ اس دفعہ ایران نے اسرائیل کو بہت کم بلکہ نہ ہونے کے برابر براہ راست نشانہ بنایا ہے۔ اسی لیے جنگ کے دوسرے مرحلہ میں اسرائیل نے بھی ایران پر حملے نہیں کیے۔ ایران اور اسرائیل کے درمیان ایک خاموش مفاہمت بھی نظر آئی۔ جب کہ عرب دنیا مشکل میں نظر آئی۔
ایران کا موقف تھا کہ عرب دنیا میں موجود امریکی اڈوں سے اس پر حملہ ہو رہا ہے۔ اس لیے وہ عرب ممالک میں موجود امریکی اڈوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ جس کے بعد عرب دنیا کے کافی ممالک نے امریکا کو اپنے اڈے استعمال کرنے سے روک بھی دیا۔ لیکن پھر بھی ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات ٹھیک نہیں ہوئے ہیں۔ معاملات اب کافی حد تک خراب ہیں۔
بالخصوص حوثیوں کے معاملہ کے بعد ایران اور سعودی عرب تعلقات کافی خراب ہو گئے ہیں۔ پہلے سعودی عرب، عرب ممالک میں ایران کے لیے سب سے زیادہ نرم گوشہ رکھتا نظر آرہا تھا۔ شہید رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی تدفین پر بھی سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا وفد ایران گیا۔ پھر پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر پہلا گروپ بنا جس نے ایران اور امریکا کے درمیان امن کی بات کی۔ سعودی عرب ایران کے حق میں کھڑا نظر آرہا تھا۔ لیکن آج نہیں۔ بالخصوص آبنائے ہرمز کے معاملہ پر بھی عرب دنیا ایران کا موقف درست نہیں سمجھتی۔ ان کا موقف ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے سے امریکا کو کوئی خاص مالی اور فوجی نقصان نہیں۔ نقصان عرب دنیا کا ہے۔ اس لیے آبنائے ہرمز کی بندش دراصل عرب دنیا کے خلاف ایران کا عمل ہے۔
یہ امریکا کے خلاف نہیں ہے۔ ایران آبنائے ہرمز کو ایک سال بند رکھے امریکا کو کو ئی خاص نقصان نہیں۔ لیکن عرب دنیا کو بہت نقصان ہے۔ پھر جب امریکا کہتا ہے کہ امریکا ایران پر حملہ کرے گا تو ایران جواب میں عرب دنیا پر حملہ کرے گا۔ عرب ممالک بالخصوص جی سی سی ممالک کے سول انفرا سٹرکچر پر حملہ کرے گا۔ چاہے ان حملوں میں عرب دنیا اور جی سی سی ممالک کی کوئی معاونت شامل بھی نہ ہو۔ پھر بھی ایران عرب ممالک کو نشانہ بنانے کی دھمکی دیتا ہے۔
حوثیوں کے معاملہ نے ایران اور سعودی عرب کے درمیان بہت دوریاںپیدا کر دی ہیں۔ بالخصوص باب المندب کی بندش نے تو سعودی عرب کو ایران مخالف کیمپ میں لا کر کھڑا کر دیا ہے۔ کھیل ہی بدل دیا ہے۔ شائد ایران کو اندازہ نہیں کہ باب المندب کی بندش نے ایران کو فائدہ کم اور نقصان زیادہ پہنچایا ہے۔ یہ تاثر قائم ہوا ہے کہ ایران عرب دنیا کو تباہ کرنا چاہتا ہے، وہ عرب دنیا کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے، وہ ان کی معیشت کو تباہ کرنا چاہتا ہے۔ ایران عرب دنیا کے لیے ایک خطرہ بن گیا ہے۔ یہ تاثر بہت خطرناک ہے۔ اس نے عرب دنیا کو واپس نہ صرف امریکا کی طرف بلکہ اسرائیل کی طرف بھی دھکیل دیا ہے۔
اب عرب دنیا میں یہ سوچ پیدا ہو رہی ہے کہ اسرائیل ایران سے کم خطرناک ہے۔ اسرائیل نے کبھی ایسے حملہ نہیں کیا جیسے ایران حملہ کرتا ہے۔ اسرائیل کے ساتھ بات ہو سکتی ہے اور ایران کے ساتھ تو بالکل بات نہیں ہوسکتی۔ پاسداران انقلاب کے سخت موقف نے عرب دنیا کو بہت پریشان کر دیا ہے۔ وہ اپنی معیشت کو ایران کی وجہ سے خطرے میں محسوس کر رہے ہیں۔ ایک رائے یہ بھی بن رہی ہے کہ اگر ایران امریکا صلح ہو بھی جائے تو ایران عرب دنیا اور اس کی معیشت کے لیے ایک خطرہ بن چکا ہے جو موجود رہے گا۔ وہ آبی گزر گاہوں کو اپنے مقاصد اور عرب دنیا پر بالا دستی قائم کرنے کے لیے استعمال کرے گا۔
اس لیے اب عرب دنیا اسرائیل کے قریب ہوتی نظر آرہی ہے۔ حال ہی میں نیتن یاہو کا دورہ متحدہ عرب امارات اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ جہاں مختلف عرب ممالک کے نمائندے موجود تھے اور سب نے مل کر اسرائیل سے بات کی۔ عرب دنیا اب ایران کے خلاف اپنے دفاع اور بقا کے لیے اسرائیل کی طرف دیکھ رہی ہے۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان ایک خاموش مفاہمت ہے۔ تو وہ بھی کیوں نہ کریں۔
عراق میں ایران کی پراکسیز عربوں کے لیے ایک مسئلہ ہیں۔ عراق سے امریکی فوجوں کے انخلا کے بعد بھی ایرانی حمائت یافتہ نجی ملیشیاء ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں۔ بحرین میں بھی ایرانی پراکسیز کا مسئلہ ہے۔ سعودی عرب کو ایرانی حمایت یافتہ حوثیوں سے مسئلہ ہے۔ بالخصوص حوثیوں کے مسئلہ اور باب المندب کی بندش کے بعد پاکستان بھی ثالثی کے عمل سے دور نظر آرہا ہے۔
نیو یارک میں قطر اکیلا نظر آیا ہے، پاکستان نہیں تھا۔ پاکستان نے مکہ دفاعی معاہدہ کے ساتھ جانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ترکی نے بھی یہی فیصلہ کیا ہے۔یورپ جوجنگ کے پہلے مرحلہ میں امریکا کے ساتھ نہیں تھا۔ اب باب المندب کے لیے سعودی عرب کے ساتھ حوثیوں سے لڑنے کے لیے تیار ہے۔ یہ بھی ایران کے لیے ایک دھچکا ہے۔ وہ مسلم دنیا اور مغربی دنیا میں حمائت کھو رہا ہے۔ جو ممالک پہلے ساتھ کھڑے تھے اب ساتھ نہیں ہیں۔ ایران کو اس پر سوچنا ہوگا۔ یہ کوئی اچھی پالیسی نہیں ہے۔