کفایت شعاری مہم

قوموں کے لیے خوشحالی کا پہلا قدم یہ بھی ہوتا ہے کہ وسائل کو ضایع ہونے سے بچایا جائے۔



قوموں کے لیے خوشحالی کا پہلا قدم یہ بھی ہوتا ہے کہ وسائل کو ضایع ہونے سے بچایا جائے۔ گھر کا بجٹ مہنگائی کے بڑھنے کے باعث فیل ہو رہا ہے تو ماں کی کوشش ہوتی ہے کہ کوئی بھی چیز ضایع نہ ہونے پائے۔ باپ اس بات پر نظر رکھتا ہے کہ گھر میں کوئی غیر ضروری بلب یا پنکھا نہ چل رہا ہو۔ بچوں کو کفایت شعاری کی اہمیت سمجھائی جاتی ہے۔ انھیں بتایا جاتا ہے کہ صرف ہر چمکتی ہوئی مہنگی چیز اگر خریدنے کی استطاعت نہیں تو پھر رقم خرچ کرکے بعد کے دنوں کے لیے تنگدستی نہ مول لی جائے۔

پاکستان میں کفایت شعاری کا نعرہ ہر حکومت اپنے دور میں اکثر و بیشتر یہ نعرہ لگاتی رہتی ہے، حکومتیں اکثر و بیشتر اخراجات کم کرنے، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں کمی، غیر ضروری دوروں پر پابندی، نئی آسامیوں کو محدود کرنے اور سرکاری اداروں کے اخراجات گھٹانے کے اعلانات کرتی رہی ہیں۔ 1980 کے آخر کی بات ہے نگران حکومت قائم تھی اور بات آئی کہ سرکاری اخراجات میں کمی کی جائے۔ اس وقت کے صدر نے حکم جاری کیا کہ سرکاری اعانت پر چلنے والا ایک ادارہ جہاں کتابوں کے ڈھیر لگے تھے لوگ آتے اخبار بھی پڑھتے اور کتابیں بھی پڑھا کرتے، وہاں سے کتابیں جاری بھی کی جاتی تھیں اور محض چند کروڑ روپے کے خرچے سے پوری قوم کو فائدہ پہنچ رہا تھا۔ جو لوگ قیمتی کتابیں نہیں خرید سکتے تھے وہ یہاں آ کر پڑھ لیتے یا پھر کتابیں گھر بھی لے جا سکتے تھے۔

بس کفایت شعاری کے نام پر اس ادارے کو بند کرکے حکومت نے سمجھا کہ بڑا تیر مار لیا ہے جب کہ فضول اخراجات کا سلسلہ جاری تھا۔ اسی طرح گزشتہ عرصے کے دوران کفایت شعاری کا حکم بھی مختلف اداروں کی لائبریریوں کے لیے کتابیں ٰخریدی جاتی تھیں جسے دفتر کے ملازمین گھر لے جا کر پڑھ سکتے تھے اور اخبارات بھی کہیں تین یا چار اخبار آتے تھے وہ سلسلہ بند کر دیا گیا۔ اس سے بہت سے اخبار سپلائی کرنے والوں کی آمدنی میں کمی ہو گئی۔ اب اس قسم کی کفایت شعاری کی جائے اور دیگر غیر ضروری اخراجات کا سلسلہ جاری رہے تو پھر یہ اسکیم فیل ہی ہونی ہوتی ہے۔

پاکستان جیسے ملک میں جہاں قرضوں کی ادائیگی، توانائی اور پروٹوکول کے نام پر کروڑوں اربوں روپے خرچ کیے جاتے ہوں، اگر ایک سرکاری دفتر میں گاڑی، سفری اخراجات، بجلی بچاؤ، پٹرول بچاؤ، غیر ضروری خریداری سے گریز کرو اور جب اتنی ساری باتیں سامنے آنے لگیں اور عوام پروٹوکول کا نظارہ کریں کہ جس میں بیسیوں گاڑیوں کا قافلہ محو سفر ہوتا ہے۔ دیکھا جانا چاہیے کہ غیر ضروری پروٹوکول میں کتنا روپیہ خرچ ہو رہا ہے۔ بیرون ملک حکام کے دوروں سے کس طرح زیادہ سے زیادہ فوائد کیسے حاصل کیے جا سکتے ہیں، ریاست اگر واقعی کفایت شعاری چاہتی ہے تو اسے ایک واضح اصول بنانا ہوگا۔ اس سلسلے میں ہر وزارت، ہر ڈویژن اور سرکاری ادارے کا سالانہ کفایت شعاری پلان ہونا چاہیے۔

دوسرا قدم سرکاری گاڑیوں کا سرکاری ریکارڈ ہو، ہر گاڑی کا خرچ وغیرہ یہ سارا ریکارڈ ہو تاکہ بوقت ضرورت عوام کو معلوم ہونا چاہیے۔ سرکاری اداروں میں بجلی کی بچت ہو، غیر ضروری کمروں کی بجلی بند رکھی جائے، مگر بہت سے ادارے ایسے ہیں جہاں اس بات کا خیال ہی نہیں رکھا جاتا۔ سرکاری اداروں میں ایسے اقدامات ہوں جو مسلسل ہونے والے نقصانات کا تدارک کر سکیں، اگر کوئی ادارہ خسارے میں چل رہا ہے تو سوال یہ نہیں اس سال خسارہ کتنا ہوا ہے بلکہ یہ ہے کہ وہ خسارہ پیدا کیوں ہو رہا ہے؟ ایک وقت تھا پی آئی اے پاکستان کا منافع بخش ادارہ تھا جس نے کئی ملکوں کی فضائی کمپنی قائم کرکے دی اور ان ملکوں کی فضائی کمپنیاں آج بھی زبردست منافع میں چل رہی ہیں۔

آخر اس ہوائی سفر کے ادارے کو مسلسل نقصان کیوں اٹھانا پڑا۔ اس سوال کا حل نکالا جاتا۔ اسی طرح پاکستان ریلوے فی الحال تو بہتری کی جانب ہے، ایک دور میں مسلسل خسارے میں چل رہا تھا۔ بعض اوقات کہا جاتا ہے کہ ملازمین کی تعداد زیادہ ہو گئی ہے، ان کو نکالا جائے۔ ملازمین کو نکالنا مسئلے کا حل نہیں ان کے لیے کام نکالا جائے ان سے ڈیوٹی لی جائے۔ کتنے ہی لوگ بغیر ٹکٹ سفر کرتے ہیں، چند سال قبل تک ان سے رقم وصول کرکے چھوڑ دیا جاتا تھا اور وہ رقم وصول کرنے والے کی جیب میں چلی جاتی تھی۔ اب بھی اس کی مثالیں موجود ہیں، اگرچہ کافی کمی ہو گئی ہے لیکن کرپشن ختم نہیں ہوئی۔

اگرچہ حکومت کہتی ہے کہ کفایت شعاری کی جا رہی ہے اور اس پر عمل بھی کیا جا رہا ہے۔ اسے نافذ کیا جا رہا ہے تو اس صورت میں سہ ماہی، ششماہی اور سالانہ رپورٹ بھی جاری ہونی چاہیے تاکہ عوام کو بھی پتا چلے ۔ عوام سے قربانی مانگی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونے پر نہیں آ رہا ہے۔ بہت سے لوگ 2 روٹی سے ڈیڑھ یا ایک روٹی پر گزارا کرنے لگے ہیں، ایسے میں حکومت اور اشرافیہ اور حکام کی جانب سے کفایت شعاری کا شاندار مظاہرہ ہونا چاہیے تاکہ عوام کو بھی معلوم ہو اور ان کا اعتماد حکومت پر قائم ہو کہ اس مہم کا بھرپور ساتھ حکومت اشرافیہ اور حکام بڑے افسران ممبران قومی و صوبائی اسمبلی اور دیگر متعلقہ افراد دے رہے ہیں۔