یوکرین کو ہتھیار دینے والی یورپی فیکٹریاں روس کے نشانے پر ہیں، ماسکو کی سخت وارننگ

نیٹو اور متعدد یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ یوکرین کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے فوجی امداد جاری رکھیں گے


ویب ڈیسک October 01, 2026

روس نے خبردار کیا ہے کہ یورپی ممالک میں یوکرین کے لیے ہتھیار تیار کرنے والی فیکٹریاں روس کے لیے ممکنہ فوجی اہداف بن سکتی ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے کہا ہے کہ ان فیکٹریوں کو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ یوکرین کی سرزمین سے باہر ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہیں گی۔

زاخارووا نے ماسکو میں ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ یورپی ممالک یوکرین کو مسلسل فوجی مدد فراہم کرکے جنگ میں براہِ راست شامل ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق یورپ میں اسلحہ ساز فیکٹریاں قائم کرنا اور مشترکہ دفاعی منصوبے شروع کرنا جنگ میں یورپی شمولیت کو مزید بڑھا رہا ہے اور روس کے مطابق اس سے جنگ کے خاتمے کی کوششیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں۔

روسی ترجمان کا یہ بیان ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے کہ پولینڈ یوکرین کے لیے پیٹریاٹ میزائلوں کے انٹرسیپٹرز تیار کرنے والی ایک فیکٹری کی میزبانی کے لیے تیار ہے۔ نیٹو اور متعدد یورپی ممالک کا مؤقف ہے کہ وہ روسی حملوں کے مقابلے میں یوکرین کی دفاعی صلاحیت مضبوط کرنے کے لیے فوجی امداد جاری رکھیں گے۔

دوسری جانب نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک روٹے نے کہا ہے کہ روس کی جانب سے نیٹو کی سرزمین کے لیے فوری خطرے کے کوئی شواہد نہیں ہیں۔ ان کے مطابق روس کے حوالے سے نیٹو کا خطرے کا جائزہ گزشتہ چند ہفتوں، مہینوں اور ایک سال کے مقابلے میں بنیادی طور پر تبدیل نہیں ہوا۔

یہ بیان روس کی جانب سے کالینن گراڈ کے معاملے پر نیٹو کو دی گئی وارننگ کے بعد سامنے آیا۔ روسی دستاویز کے مطابق اگر مغربی اتحاد نے بالٹک سمندر میں واقع روسی علاقے کالینن گراڈ کو الگ تھلگ کرنے کی کوشش کی تو ماسکو جوہری ہتھیار استعمال کرنے پر غور کرسکتا ہے۔ کالینن گراڈ روس کا ایک علیحدہ خطہ ہے جو پولینڈ اور لیتھوانیا کے درمیان واقع ہے۔

مارک روٹے نے روس کی جوہری دھمکی کے جواب میں کہا کہ نیٹو ایک دفاعی اتحاد ہے اور امریکا یورپ کے دفاع کے لیے روایتی اور جوہری دونوں صلاحیتوں کے ساتھ موجود رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو یوکرین کی حمایت اور اپنی دفاعی صلاحیتوں میں سرمایہ کاری جاری رکھے گا۔

روٹے نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کے حوالے سے یہ بھی کہا کہ انہیں فی الحال ایسا محسوس نہیں ہوتا کہ روسی صدر یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات پر آمادہ ہیں۔ تاہم یہ ان کا سیاسی جائزہ ہے، جسے نیٹو کے مؤقف کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔