عام دہشت گردوں کے لیے عدالتیں کھلی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے کیسز ہی نہیں لگتے، انتظار پنجوتھہ

جسٹس عالیہ نیلم بھی خاتون ہیں، آپ کے دور میں خواتین کے ساتھ جو سلوک ہورہا ہے قابلِ مذمت ہے


کورٹ رپورٹر October 01, 2026

لاہور:

چیف آرگنائزر انصاف لائرز فورم انتظار حسین پنجوتہ  نے کہا ہے کہ عام دہشت گردوں کے لیے عدالتیں کھلی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے کیسز ہی نہیں لگتے۔

لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عام دہشت گردوں کے لیے عدالتیں کھلی ہیں لیکن پی ٹی آئی کے کیسز ہی نہیں لگتے، چیف جسٹس عالیہ نیلم بھی خاتون ہیں، آپ کے دور میں خواتین کے ساتھ جو سلوک کیا جا رہا ہے، یہ قابلِ مذمت ہے بہت سے دور آئے، بہت سے مارشل لا لگے، لیکن ایسا دور کبھی نہیں لگا۔

انہوں ںے کہا کہ آصف زرداری اور شہباز شریف کو باور کروانا چاہتا ہوں، بانی پی ٹی آئی  عمران خان کی پوری فیملی پر کیسز ہیں، ان کی تینوں بہنوں کو آپ نے جیلوں میں بند کر رکھا ہے، جو لوگ سیاست نہیں کرتے ان پر بھی کیسز ہیں، ایک وکیل کی والدہ کے لیے آپ سے التماس کرتا ہوں، 30 دن کا ڈیٹینشن آرڈر تھا،ہم یہ ڈیمانڈ کرتے ہیں، آپ انصاف ہوتا ہوا دکھائیں تو سہی۔

انہوں ںے کہا کہ ایک آرڈر کیا گیا جیسے ہمیں بہت ریلیف دیا گیا، ایف آئی آر کا فونٹ بڑا کرنے سے انصاف نہیں ہوگا، ہائیکورٹ میں بلڈنگز بنائی گئی ہیں، ان کا کوئی فائدہ نہیں جب اگر انصاف نہیں دیا تو، عالیہ حمزہ صاحبہ کا کیس پرسوں سماعت کے لیے مقرر تھا، سزائیں فوری طور پر ختم ہو جاتی ہیں لیکن کیس لگایا ہی نہیں جا رہا۔

انتظار حسین نے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کے بہت سے لوگ فوت بھی ہو چکے ہیں، جب ان کے کیسز لگتے ہیں ڈویژن بنچ چھٹی پر ہوتا ہے، ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ انصاف نہیں ہونے دینا، شاہ محمود قریشی، اعجاز چودھری صاحب کے کیسز بھی اسی طرح کے ہیں۔