روزنامہ ایکسپریس کے مطابق کراچی میں رواں سال ڈاکوؤں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے شہریوں کی تعداد پچپن ہو گئی جب کہ لاتعداد افراد ڈکیتیوں کے دوران زخمی بھی ہوئے اور کراچی میں رواں سال سگ گزیدگی کے چالیس ہزار کیسز میں 34 افراد جاں بحق ہوئے جب کہ نو ماہ میں سندھ بھر میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ چیف سیکریٹری سندھ کے مطابق کتوں کے کاٹے ہوئے مریضوں کو تقریباً ایک لاکھ 38 ہزار خوراکیں دی گئیں اور 278 اینٹی ریبیز یونٹس میں جدید طبی سہولتیں فراہم کر دی گئی ہیں۔
چیف سیکریٹری کی طرف سے سگ گزیدگی میں ہلاکتوں کی تفصیلات تو منظر عام پر آ گئیں مگر کراچی میں رواں سال ڈاکوؤں کے ہاتھوں قتل ہونے والے 55 شہریوں اور سیکڑوں زخمیوں کی تفصیل سرکاری طور بتائی گئی اور نہ ہی بتایا گیا کہ شہریوں کو ڈکیتیوں سے بچانے کے لیے حکومت اور پولیس نے کیا اقدامات کیے ہیں۔
سال رواں کراچی کی سڑکوں اور گلیوں میں ڈاکوؤں اور کتوں کے ہاتھوں 89 شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد ملک بھر میں سب سے زیادہ رہی اور کتوں کے ہاتھوں انسانی جانوں کے نقصانات میں بھی ڈاکوؤں کے مقابلے میں کتوں کو شاید اس لیے اہمیت ملی کہ بقول خبر کتوں کے ذریعے کاٹنے کی نہیں بلکہ وہ بنتی ہے کہ اگر کوئی انسان کتوں کو کاٹ لے مگر یہ ممکن نہیں ہے بلکہ انسان ڈاکوؤں سے تو مقابلہ کر ہی لیتا ہے مگر کتوں سے نہیں کر سکتا اور انسانوں کو ڈاکوؤں اور کتوں کے ذریعے ہلاکتوں کا مسلسل نشانہ بننا پڑتا ہے۔ کتے بھی ڈاکوؤں کی طرح بلاامتیاز ہی نشانہ بناتے ہیں جن میں خواتین اور بچوں کی تعداد زیادہ رہتی ہے جو کتوں کے کاٹنے کے خوف سے بھاگنے کی کوشش کرتے ہیں مگر ڈاکو بھی کتوں کی طرح بھاگنے والوں کو نہیں بخشتے بلکہ جان بچانے کے لیے بھاگنے والوں پر فائرنگ کر دیتے ہیں۔
کتوں سے شہریوں کو بچانے کی ذمے داری بلدیاتی اداروں کی اور شہریوں کو ڈاکوؤں سے بچانے کی ذمے داری پولیس کی ہے اور یہ دونوں ہی سرکاری ادارے لوگوں کو ڈاکوؤں اور کتوں سے بچانے میں ناکام رہے ہیں جس کا ثبوت کراچی میں سال رواں وہ 89 ہلاکتیں ہیں اور حکومت نے دونوں ہی سنگین معاملات پر سنجیدگی سے توجہ دی نہ لوگوں کی جانیں بچانے کے لیے موثر انتظامات کیے اور غیر محفوظ مارے جا چکے ہیں۔
شہریوں کا پولیس سے زیادہ بلدیاتی اداروں سے واسطہ پڑتا ہے جہاں عوام کے منتخب مگر بے اختیار نمائندے بھی لوگوں کو کتوں کے کاٹے جانے اور پولیس لوگوں کو ڈاکوؤں کی ڈکیتیوں سے بچانے میں ناکام ہیں مگر پولیس عوامی نمائندوں کی طرح بے اختیار نہیں مگر پولیس کی دیگر مصروفیات خاص کر بڑے لوگوں کی حفاظت پروٹوکول ڈیوٹی، کباڑیوں، ریڑھی والوں، پتھاروں سے ہفتہ وصولی پر زیادہ توجہ دیتی ہے کہ رات کو کن ہوٹل والوں نے بلدیاتی سڑکوں پر تجاوزات قائم کر رکھی ہیں حالانکہ یہ کام پولیس کا نہیں بلدیاتی اداروں کا ہے مگر پولیس انھی وصولیوں کے ذریعے تھانے اور موبائلیں چلا رہی ہے اور جواز یہ درست ہے کہ حکومت پولیس کی ضروریات پوری نہیں کر رہی اور پولیس کو مجبوری میں یہ وصولیاں بھی کرنا پڑتی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق کراچی میں ڈاکوؤں نے پچپن شہریوں کو قتل کیا مگر ایک دل خراش واقعہ احسن آباد کراچی کے فلیٹ میں ڈاکٹر عمر فیملی کے پانچ افراد کی ہلاکتوں کا بہت زیادہ سنگین مگر پولیس کے مطابق معمولی ہے۔ ستمبر میں ڈاکٹر عمر ان کی اہلیہ اور تین بچیوں سمیت پانچ افراد کی جو لاشیں ملیں ان کی بھی پوری ذمے داری ڈاکٹر عمر سے ڈکیتی کرنے والے ڈاکوؤں اور متعلقہ پولیس کی ہے جن کی وجہ سے پانچ افراد بھوکے مر گئے جن کے گھر میں ایک انڈے کے سوا کھانے کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔ ڈاکوؤں نے پہلے ڈاکٹر عمر سے ان کی موٹر سائیکل چھینی اور چند روز بعد ہی پیدل گھر آنے والے ڈاکٹر عمر سے ان کی وہ آخری تنخواہ اور موبائل لوٹ لیا جس سے انتہائی بیمار ڈاکٹر عمر کو اپنے گھر کا خرچہ چلانا اور علاج کرانا تھا اس طرح ڈاکوؤں نے ان پانچ افراد کا بھی قتل کرکے مرنے والوں کی تعداد ساٹھ تک پہنچا دی۔
ڈاکٹر عمر کی طرح سالوں سے نہ جانے کتنے لوگ ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹے اور مزاحمت پر ہلاک ہوئے اور نہ جانے کتنے ڈاکٹر عمر کی طرح لٹ کر خالی ہاتھ گھر واپس آئے مگر انا نے ڈاکٹر عمر کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کا موقعہ نہ دیا اور ڈاکوؤں کے ہاتھوں دوبارہ لٹنے والے ڈاکٹر عمر نے وہ انتہائی دل خراش فیصلہ کیا کہ تین دن بعد بو پھیلنے پر بلڈنگ والوں کو ان کے فلیٹ سے پانچ افراد کی ہلاکت کا علم ہوا مگر ڈاکو اس سے بھی لاعلم رہے ہوں گے مگر اندرون سندھ ڈکیتی کی ایک مثال موجود ہے کہ ڈاکوؤں نے علم ہونے پر اپنے شکار عبدالستار ایدھی کو لوٹی ہوئی اشیا واپس کرکے انھیں اپنی طرف سے دنیا میں مشہور سماجی شخصیت کو چندہ بھی دیا تھا۔
کراچی ایسا شہر ہے جس کے شہری مکمل غیر محفوظ اور سالوں سے ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹ اور جانوں سے جا رہے ہیں مگر ذمے داری کوئی قبول کرتا ہے نہ حکومت کو بے گناہوں کو ڈاکوؤں اور کتوں سے بچانے کی کوئی فکر ہے۔ کراچی میں سال رواں کے دوران ڈاکوؤں کے ہاتھوں لٹنے اور کتوں سے کاٹے جانے سے 89 لوگ جان سے جا چکے مگر متعلقہ اداروں کو اس لیے فکر نہیں کہ تین کروڑ آبادی کے شہر میں 9 ماہ میں 89 شہریوں کی جانیں کوئی اہمیت نہیں رکھتیں۔ بلدیہ عظمیٰ شاید نصف سنچری اور کراچی پولیس سنچری پوری ہونے کے انتظار میں خاموش ہے۔ کسی کے لیے یہ 89 ہلاکتیں باعث تشویش نہیں اور لوگ مجبور ہیں کہ وہ کس کے ہاتھوں پر 89 لوگوں کا لہو تلاش کریں؟