دوسری عالمی جنگ سے پہلے ہی امریکا بہت طاقتور ملک بن چکا تھا ۔ دونوں عالمی جنگوں میں برطانیہ، فرانس وغیرہ کا بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔یہ کولونیل قوتیں اپنی کالونیوں کی بدولت جرمنی سے جنگ تو جیت گئیں لیکن کنگال اور بہت کمزور ہو گئیں۔ کمزوری کی وجہ سے کالونیوں کو یکے بعد دیگرے آزادی دینی پڑی۔امریکا نے دوسری عالمی جنگ میں یقینی فتح کے لیے ایٹم بم بنا کر جاپان کے دو شہروں، ہیروشیما اور ناگاساکی پر انسانی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایٹم بم گرا کر اپنی بے پناہ قوت و طاقت کا لوہا منوا لیا۔
دوسری عالمی جنگ کے خاتمے تک یورپ لڑائی سے تھک اور برباد ہو چکا تھا۔امریکا نے یورپ کی مدد اور بحالی کے لیے مارشل پلان ترتیب دے کر اور ہوائی برج یعنی ہوائی پل بنا کر یورپ کو دوبارہ پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد کی۔ امریکا ایک وسیع ملک ہے۔اس کے ریسورسز بے پناہ ہیں ۔اس پر آج تک بیرونی حملہ نہیں ہوا۔ساری دنیا سے لوگ اُٹھ کر قسمت آزمائی کے لیے وہاں پہنچے،اس لیے بہترین دماغ وہاں اکٹھے ہو گئے۔امریکی تعلیمی اداروں اور بے پناہ ریسورسز کا استعمال کرکے ان لوگوں نے اپنی قسمت بدلنے کے ساتھ ساتھ امریکا کو ایک بہت غالب قوت میں تبدیل کر دیا۔سوویت یونین سے سرد جنگ کی وجہ سے بہت سی نئی ایجادات ہونے لگیں۔خصوصی طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی میں بہت ترقی ہوئی اور امریکا قوت و ثروت میں سب سے آگے نکل گیا۔
چین دوسری عالمی جنگ تک ایک غریب اور انتہائی پسماندہ ملک تھا۔جناب ماؤزے تنگ کی قیادت نے چین کو یکجا کیا اور ترقی کی راہ پر ڈال دیا۔ڈینگ زیاؤ پنگ نے تعلیمی اور معاشی میدان میں چین کو ایک حیرت انگیز ابھرتے نئے ستارے کی مانند دنیا کے وسیع اسٹیج پر متعارف کروایا۔ اس وقت سے کامیاب پالیسیوں پر عمل درآمد کی بدولت چین نہ صرف ایک معاشی قوت بن گیا بلکہ اس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز ترقی کی۔چین کی ترقی کی وجہ سے اس نے امریکا کو دنیا کی Sole super power یعنی واحد سپر پاورکے مرتبے سے تقریباً محروم کر دیا ۔
چین کے صدر جناب شی جن پنگ نے ابھی چند دن پہلے واشنگٹن امریکا کا دورہ مکمل کیا ہے۔ ان کو اس دورے کی دعوت امریکی صدر ٹرمپ نے اُس وقت دی تھی جب چند مہینے پہلے وہ چین کے دورے پر گئے تھے۔ان کی بیجنگ میں خوب آؤ بھگت ہوئی۔دورے میں صدر ٹرمپ بہت خوش نظر آئے۔امریکی صدر کی دعوت پر جب صدر شی امریکا پہنچے تو انڈریو ایئر بیس پر صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا نے ان کا اور ان کی اہلیہ کا پرجوش استقبال کیا۔یہ امر بہت دلچسپی اور حیرت کا باعث ہے کیونکہ صدر ٹرمپ جب چین پہنچے تھے تو صدر شی خود ان کے استقبال کے لیے ہوائی اڈے پر موجود نہیںتھے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ صدر شی کی ناقابلِ یقین عزت افزائی ہوئی جب ان کے جہاز کی سیڑھیوں کے سامنے سرخ قالین بچھایا گیا اور صدر ٹرمپ خود انھیں اور ان کی اہلیہ کو خوش آمدید کہنے کے لیے موجود تھے۔
صدر ٹرمپ کی موجودہ مدتِ صدارت شروع ہونے سے پہلے چین کو ابھرنے اور دنیا بھر میں اثر ورسوخ قائم کرنے سے روکنے کی پالیسی پر بہت شدت سے عمل کیا جا رہا تھا۔چین کے پڑوس میں انڈیا ایک بڑا ملک ہے۔ انڈیا اور چائنہ کا سرحدی تنازعہ بھی چل رہا ہے،اس لیے سمجھا گیا کہ انڈیا کو چین کے راستے میں کانٹے بچھانے کے لیے تیار کیا جائے۔انڈیا کو معلوم ہے کہ وہ چین کے راستے میں رکاوٹ نہیں بن سکتا کیونکہ چین ترقی کرتے ہوئے انڈیا سے بہت آگے نکل چکا ہے لیکن امریکا اور اس کے اتحادی اگر غلط فہمی میں انڈیا کے قریب آتے اور اس کے عزائم کی تکمیل میں مدد گار ہوتے ہیں تو انڈیا بخوشی اس پالیسی کی پذیرائی کرے گا۔انڈیا چین کا تو کچھ نہیں کر سکتا لیکن امریکا اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے ملنے والی جانکاری اور امداد سے پاکستان کو آنکھیں دکھانے کے سپنے تو دیکھ سکتا ہے۔
صدر شی کا دورہ امریکا شروع ہوا تو اس وقت تک مغربی دنیا اور اتحادی ممالک میں یہ سوچ عام تھی کہ امریکا بہت طاقتور ملک اور واحد سپر پاور ہے اور چین کو یہ مقام حاصل کرنے کے لیے ابھی وقت درکار ہے۔ امریکا،اسرائیل کے ایران پر حملے نے امریکی طاقت کا بھرم توڑ دیا اور امریکا کے نیٹو اتحادی کھل کر اس کی مدد کو نہیں پہنچے۔صدر شی کے دورۂ امریکا میں صدر ٹرمپ نے ان کا انتہائی شاندار استقبال کر کے دنیا کو یہ بتا دیا کہ بین الاقوامی میدان میں بہت بڑی تبدیلی آ چکی ہے اور بہت دیر تک چین کو ایک انتہائی اہم ملک کے طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ٹرمپ کے امریکا میں انڈیا اسٹریٹیجک پارٹنر اور چین کو Contain کرنے والا ملک نہیں رہا،اسی لیے یہ ایک فقید المثال استقبال تھا جو موجودہ دور کے امریکی پروٹوکول سے بہت ہٹ کر تھا۔جس بھی زاویے سے دیکھا جائے یہ ہر لحاظ سے ایک سپر پاور ملک کے صدر کا استقبال تھا۔دونوں ملکوں کے درمیان وفود کی سطح پر بات چیت ہوتی رہی اور دونوں صدور بھی وقتاً فوقتاً بات کرتے رہے۔امریکی صدر، صدر شی کو خود وائٹ ہاؤس دکھاتے رہے۔وائٹ ہاؤس میں بنایا گیا نیا ہیلی پیڈ بھی دکھایا۔State dinnerمیں ایلان مسک سمیت تمام بڑی ہائی ٹیک کمپنیوں کے سربراہان شریک تھے۔
بظاہر اس دورے کے نتیجے میں دونوں صدور ایک دوسرے کے بہت قریب آئے اور Personal rapportبہت اچھا دیکھنے کو ملا لیکن دونوں ممالک کے درمیان جو مسائل ہیں وہ بہت حد تک حل طلب ہی رہے۔دونوں کے درمیان ایک ٹریڈ وار چل رہی ہے۔صدر ٹرمپ نے صدارت سنبھالتے ہی بہت سے ممالک پر تجارتی ٹیرف میں بہت اضافہ کر دیا۔چین کو بھی لپیٹا گیا لیکن چین نے بھی جوابی ٹیرف لگائے۔دراصل دونوں ممالک تجارتی لین دین میں ایک دوسرے پر بہت انحصار کرتے ہیں اس لیے صدر ٹرمپ نے چین کے خلاف ٹیرف کو کئی ماہ سے نافذالعمل ہونے سے روکا ہوا ہے۔صدر شی کے دورے میں ٹیرف کے معاملے پر کوئی بریک تھرو نہیں ہوسکا،البتہ معاملے کو دوماہ کے لیے آگے کر دیا گیا،گویا بریک تھرو نہیں ہوا Pause آ گیا تاکہ دونوں فریق مسئلے کو حل کرنے کے لیے مزید کوششیں کر سکیں۔دونوں ممالک کے درمیان ایک اور فلیش پوائنٹ تائیوان ہے۔
امریکا اور چین اس واحد مسئلے پر دست و گریبان ہو سکتے ہیں۔اسی وجہ سے ساؤتھ چائنا سیSouth China sea میں امریکی فوجی دستے تعینات اور سرگرم ہیں۔ امریکا اور تائیوان کے درمیان تائیوان کو اسلحہ فروخت کا ایک بڑا معاہدہ ہونے جا رہا ہے۔اس کے تحت تائیوان کو14ارب ڈالر کا اسلحہ فروخت ہوگا،بس صدر ٹرمپ کی منظوری کا انتظار ہے۔چین کے صدر نے امریکا کو واشگاف الفاظ میں بتا دیا ہے کہ تائیوان ان کی ریڈ لائن ہے اور بہتر ہوگا کہ اس لائن کو نظر میں رکھا جائے۔
دونوں ممالک کے درمیانAIکی ترقی پر بھی یکساں موقف نہیں ہے۔AIکی بڑھتی بے لگام ترقی کے خلاف ماہرین کی آوازیں اُٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ یہ ترقی انسانیت کی ہلاکت ہے۔یہ وہ عفریت ہے جو قابو سے باہر ہو رہا ہے۔چین یہ سمجھتا ہے اور صدر شی نے چین کی اس رائے کا وائٹ ہاؤس میں دئے گئے State Dinnerمیں برملا اظہار بھی کیا کہ AIکی ترقی کچھ یوں کی جائے کہ یہ انسانیت کے لیے خطرہ نہ بنے۔امریکا یہ سمجھتا ہے کہ اس فیلڈ میں وہ چین سمیت دنیا کے ہر ملک سے آگے ہے،اس لیے اسے کسی کی بات پر کان نہیں دھرنے چاہئیں اور AIکی ترقی اسی رفتار سے جاری رہنی چاہیے۔اس مسئلے پردونوں ممالک اپنے اپنے موقف پر قائم رہے اور حل کے لیے کوئی پیش رفت نہ ہو سکی۔
صدر ٹرمپ نے AIکو سپر انٹیلی جنس کا نام دے رکھا ہے اور وہ کہتے ہیں کہ صدر شی بھی اے آئی کو سپر انٹیلی جنس کہنے کو تیار ہیں یعنی نام رکھنے کی حد تک دونوں میں اتفاق ہے اس سے زیادہ نہیں۔ایک قدیم یونانی تاریخ دان Thucydidesنے طاقتور قوتوں کے درمیان ایک Trapکی بات کی تھی جسے اسی کے نام سے منسوب کرکےThucydides Trapکانام دیا گیا۔اس نے نظریہ پیش کیا تھا کہ طاقتور قوت کے سامنے جب کوئی دوسری قوت ابھرتی ہے تودونوں ایک دوسرے کا ساتھ دینے کے بجائے حریف بن جانے کے Trapمیں پھنس جاتی ہیں۔صدر شی نے وائٹ ہاؤس ڈنر پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم دونوں قوتوں کو حریفانہTrapمیں پھنسنے کے بجائے ایک صحت مند مقابلے کی فضا پیدا کرنی چاہیے۔صدر ٹرمپ نے البتہ اس معاملے پرکوئی واضح بات نہیں کی۔
اس دورے کے شروع ہونے سے پہلے چین کی یہ خواہش تھی کہ یہ حقیقت تسلیم کر لی جائے کہ امریکا اور چین برابر کی قوتیں ہیں۔صدر ٹرمپ نے فقید المثال استقبال کر کے اور ہر جگہ خود ساتھ ساتھ رہ کر صدر شی کو یہ تحفہ البتہ دے دیا اور غیر رسمی طور پرG-2کا اعلان کردیا۔دونوں صدور اگلے تین ماہ میں مختلف جگہوں پر دو مرتبہ ملاقات کریں گے۔