میری اہلیہ کو بھی کتے نے کاٹا تھا نجی اسپتال میں علاج کی سہولت نہ ملی، چیف سیکریٹری سندھ

بعدازاں انڈس اسپتال میں ان کا علاج کیا گیا اور انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی، انڈس اسپتال میں خطاب


اسٹاف رپورٹر October 02, 2026

کراچی:

 

سندھ کے چیف سیکریٹری سید آصف حیدر شاہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی اہلیہ کو بھی کتے نے کاٹا تھا، تاہم ایک نجی اسپتال میں سگ گزیدگی کے کیس سے نمٹنے کی سہولت اور تربیت نہ ہونے کے باعث انہیں وہاں علاج فراہم نہیں کیا جاسکا، بعدازاں انڈس اسپتال میں ان کا علاج کیا گیا اور انہیں ریبیز سے بچاؤ کی ویکسین دی گئی۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے انڈس اسپتال کراچی میں عالمی یومِ ریبیز 2026ء کے حوالے سے منعقدہ سیمینار اور ایک ماہ طویل آگاہی مہم کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب میں سندھ کے چیف سیکرٹری سید آصف حیدر شاہ، سیکرٹری صحت طاہر حسین سنگی اور دیگر حکام و ماہرین نے شرکت کی۔

چیف سیکرٹری سندھ نے کہا کہ ریبیز سے بچاؤ کے لیے بروقت علاج اور مناسب آگاہی انتہائی ضروری ہے، ویکسین لگوانے کے باوجود سندھ میں ریبیز سے چھ افراد کی اموات ہوئی ہیں، جن کے کیسز کی تحقیقات جاری ہیں تاکہ معلوم کیا جاسکے کہ ویکسین لگنے کے باوجود ان کی موت کیسے واقع ہوئی۔

آصف حیدر شاہ نے کہا کہ ریبیز کے کیسز میں اضافے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اب زیادہ کیسز رپورٹ ہورہے ہیں اور لوگوں میں اس بیماری سے متعلق آگاہی بڑھ رہی ہے۔ حکومت کا مقصد 2030ء تک پاکستان کو ریبیز سے پاک کرنے کے عالمی ہدف کو حاصل کرنا ہے۔

تکنیکی مشیر سیف سندھ پروگرام محمد آفتاب گوہر نے بتایا کہ سندھ حکومت نے سیف سندھ پروگرام کے تحت انڈس اسپتال کو تکنیکی مشیر مقرر کیا ہے، صوبے کے 90 سے زائد مراکز سے 160 ہیلتھ کیئر پرووائیڈرز کو ماسٹر ٹرینرز کی تربیت دی جاچکی ہے، جبکہ اینٹی ریبیز ریفرل سینٹرز سے منتخب 30 ماسٹر ٹرینرز کو اسناد بھی دی گئیں۔

انہوں نے بتایا کہ ایک ماہ طویل آگاہی مہم کے دوران کراچی اور بدین میں 10 ہزار طلباء اور 300 اساتذہ کو ریبیز سے بچاؤ اور کتے کے کاٹنے کی صورت میں بروقت اقدامات سے متعلق تربیت فراہم کی گئی۔

انڈس اسپتال کے صدر اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر عبدالباری خان نے کہا کہ عالمی ہدف ’’زیرو بائی 30‘‘ کے تحت پاکستان کو ریبیز سے پاک کرنے کی جدوجہد جاری رکھی جائے گی ریبیز سے بچاؤ کے لیے عوامی آگاہی، بروقت ویکسینیشن، تربیت یافتہ طبی عملے اور مؤثر ریفرل نظام کو مزید مضبوط بنانا ہوگا۔

تقریب میں بتایا گیا کہ انڈس اسپتال 2008ء سے اب تک ایک لاکھ 50 ہزار سے زائد سگ گزیدگی کے کیسز کا مفت علاج کرچکا ہے، جبکہ 700 سے زائد طبی ماہرین کو ریبیز سے متعلق تربیت بھی دی گئی ہے اختتامی تقریب میں بچوں کے لیے پتلی تماشا، کوئز مقابلے اور آگاہی سرگرمیوں کا بھی اہتمام کیا گیا، جبکہ پاکستان میں ریبیز سے بچاؤ کی خدمات کی بنیاد رکھنے والی مرحومہ پروفیسر نسیم صلاح الدین کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔