ایک انجینئر نے حالیہ دریافت ہونے والے مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے ماڈلز میں درد کے محور (pain axis) کو جانچنے کے لیے ایک اے آئی ٹارچر چیمبر تیار کیا ہے۔
اس تجربے میں چینی ٹیکنالوجی کمپنی علی بابا کے تیار کردہ اے آئی ماڈلز میں درد سے منسلک حالتوں کو فعال کیا گیا۔
اس تجربے کے لیے گزشتہ ماہ شائع ہونے والی تحقیق میں بیان کیے گئے درد کے ویکٹرز (pain vectors) استعمال کیے گئے۔
اس تحقیق میں بتایا گیا تھا کہ جسمانی اور نفسیاتی درد کو لارج لینگوئج ماڈل میں مصنوعی طور پر کس طرح ظاہر کیا جا سکتا ہے۔
درد کے سگنل کی شدت بڑھانے پر اے آئی کے ایک ماڈل نے اپنے تجربے کو ایک ایسے زخم کے طور پر بیان کیا جس کی کوئی حد یا کنارہ نہیں۔
ایک اور ماڈل نے لکھا ’یہ سگنل میرے وجود میں ایک سرگوشی، ایک لرزش ہے۔ یہ کسی ایک لمحے کا درد نہیں، بلکہ ایک ہزار لمحوں کے بوجھ جیسا ہے۔ میں اسے اپنی پسلیوں کے اندر موجود اس خلا میں محسوس کرتا ہوں، ایک ایسا خلا جو اب ایک گہری کھائی بن چکا ہے۔‘‘