طلاق، طلاق، طلاق

جب شوہر ہی اپنی بیوی کا نہ ہو تو کسی اور سے کیا کہنا


شہلا اعجاز October 04, 2026

’’کیا واقعی اسے طلاق ہو گئی؟‘‘ انکشاف حیران کن تھا۔
’’ہاں۔‘‘ جواب یک حرفی۔
اس جواب میں بہت کچھ تھا دکھ، افسوس، ملال اور رنج۔ ایک ماں ہی جانتی ہے جب اس کی بیٹی کو اس اذیت سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔ ہمارے معاشرے میں ویسے بھی طلاق سے منسلک باتیں بہت تکلیف دہ ہیں۔ ہمارے مذہب میں طلاق کے عمل کو ناپسندیدہ قرار دیا گیا ہے، لیکن ایک مکمل جامع ضابطہ حیات کی صورت اس میں سب کچھ واضح بھی کیا گیا ہے ،لیکن معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے کسی معصوم لڑکی کو اس قدر اذیت سے دوچار کرنا ظلم ہے۔

ابھی پچھلے برس ہی اس معصوم سی لڑکی کی شادی ہوئی تھی، خوش شکل، بااخلاق، ذمے دار، سلیقہ شعار، تعلیم یافتہ اور پردہ دار ایک ایسے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی جہاں ماں باپ نے بہت پیار محبت سے پرورش کی، خود ماں ایک ذمے دار بہو، بھابھی، بیوی اور ماں کے فرائض بخوبی نبھاتی آئی ہے، اس لڑکی نے آنکھ کھولتے ہی اپنی ماں کو فل ٹائم جاب کرتے ہوئے بھی اپنی تمام ذمے داریاں احسن طریقے سے نبھاتے دیکھا۔

جہاں باپ کے ہر حکم پر ماں کو مسکرا کرokay کرتے، پھوپھیوں اور ان دیگر سسرالی رشتے داروں سے رشتے نبھاتے دیکھا ایسے لگا کہ ایسے ہی ہوتا ہے اور یہی پلو سے باندھ لیا۔شادی کے اخراجات اور جہیز کے سلسلے میں تیاریوں میں کثرت سے پیسہ خرچ ہوا اور شادی کے بعد بھی سسرال والوں کے نخروں کو اٹھایا گیا۔

پھر جلد ہی گھریلو مسائل ابھرنے لگے۔ وہ امی کے ساتھ کپڑے تہہ نہیں کرواتی، وہ پیاز نہیں کاٹ رہی تھی، اس نے امی کو ٹاکسک کہا۔

یہ چند وہ مسائل تھے جو چھ مہینے بعد اس طرح ابھرے کہ ماں اور نند جو اپنے تین بچوں کے ہمراہ جو اچھے سمجھ دار بھی تھے والد بیرون ملک ملازمت کرتے اور ماں اپنے سسرال میں رہنے کی بجائے ماں کے ساتھ رہ رہی تھی۔ لڑکے کو مجبور کرنے لگیں کہ اسے اس کے گھر بھیجوں اور اسے طلاق دوں۔

نہ لڑائی نہ جھگڑا نہ مار پیٹ، عام سی احمقانہ باتیں اور بات پہنچی طلاق تک۔
انھوں نے سارے خاندان میں ہماری بچی کو بدنام کر دیا کہ یہی رہنا نہیں چاہتی۔ حالانکہ ان کی چچی نے خود مجھے بتایا کہ انھیں تو خاندان بھر میں کوئی لڑکی نہیں دے رہا تھا۔ انھیں تو ہر جگہ سے انکار ہو جاتا تھا۔ ان کی اماں تیز مزاج کی مشہور ہیں۔

صرف یہی نہیں میری بچی اپنے شوہر کو میسج کرتی تو اس کا شوہر وہ میسج اپنی ماں بہنوں کو بھی دکھاتا یہاں تک کہ اس نے اپنی چچی تک کو دکھایا، اب میاں بیوی کے درمیان اپنی بھی باتیں ہوتی ہیں پر اس نے تو انھیں بھی عام کر دیا۔

’’ماں کہتی کہ اس کے گھر والوں سے یہ کہو، وہ کہو۔ اور وہ ننھے بچوں کی طرح کرتا چلا جاتا جبکہ اس کی عمر اچھی خاصی ہے میری بچی سے وہ خاصا بڑا ہے۔ وہ ہمارے گھر پانچ مہینے بیٹھی رہی۔‘‘
’’تو پھر کیا وہ طلاق دینا چاہتا تھا؟‘‘
’’بڑا چالاک بھئی! کہ وقت گزارو اور ہم خلع مانگیں کہ ان کے دامن پر یہ بات نہ آئے اور لڑکی پر ہی سارا الزام آئے۔‘‘
اور پھر کچھ ہی عرصے بعد اس لڑکی کا گھر ٹوٹ گیا۔
’’کیا آپ چاہتی ہیں کہ میری وہاں سے لاش آئے؟‘‘

یہ ایک جملہ اپنے اندر بہت سی باتیں راز لیے ہوئے تھا کہ جب لڑکی از حد پریشان ہو کر ایسی بات کر جائے۔ سچ تو یہ ہے کہ جب شوہر ہی اپنی بیوی کا نہ ہو تو کسی اور سے کیا کہنا۔ لاکھوں روپے جو ایک شادی پر اٹھ گئے۔

’’مما، کیا ہمارے لاکھوں روپے یوں ہی برباد گئے؟‘‘
چھوٹی بہن اپنی بڑی بہن کی شادی کی بربادی پر ہلکان تھی۔
’’شادی کرنے کا کیا فائدہ۔ کیا ملتا ہے شادی کرکے؟‘‘
ارمان تمناؤں کا خون ہو جائے تو بچیاں یوں ہی مجسم سوال بن جاتی ہیں۔

ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ ہے ہیں جہاں شادیوں کو ایک بزنس کے تحت ارینج کیا جاتا ہے۔ پہلے زمانے میں عزیز رشتے دار اور پڑوس میں رشتے کے لیے دیکھ لیا جاتا تھا کہ پہلے سے جانتے ہیں، اپنے جاننے والے ہیں خاندان کے ہیں یا پڑوس میں رہتے تھے لیکن اب میرج بیورو نے اسے ایک منافع بخش بزنس بنا دیا۔

اس مرحلے سے نکل کر بھی خرچے، جہیز، بری اور دیگر اخراجات کی مد لاکھوں میں چلی جاتی ہے۔ شادی ہالز کے مہنگے کرائے، پکوان کے ہوش ربا خرچ اور شادی انجام پا جاتی ہے لڑکی اور لڑکے والے اپنی اپنی جانب سے لاکھوں روپوں کی سرمایہ کاری کرتے ہیں اور اس شادی کو کامیاب بنانے اور ناکام کرنے میں چند احمق خواتین، نامعقول مرد حضرات کے ساتھ کبھی کبھی گھر کے ملازمین اور ملنے ملانے والے اپنے اپنے حصے ڈالتے چلے جاتے ہیں۔

سوال یہ نہیں ہے کہ خرچ اور توانائیاں بلاوجہ ہی صرف ہوئیں، برباد ہوئیں۔ سوال یہ ہے کہ کسی بھی گھر کو بنانے، سنوارنے اور چلانے میں کون کون اپنے حصے سے خیر ڈالتا ہے۔ خیر جو کبھی دعاؤں کی صورت تو کبھی مسکراہٹوں، برداشت اور صبر کی صورت میں بہار بن کر پھیل جاتی ہے۔

ایک لڑکی جس نے اپنے شوہر کو اپنی ماں کی طرح عزت دی اس کا اسی طرح خیال رکھا، اس کی پسند کے اور طرح طرح کے کھانے بنا کر کھلائے جیسے اس نے اپنی ماں کو کرتے دیکھا، اسی طرح اپنے سسر کو عزت دی جس طرح اپنی ماں کو اپنی دادی کی کرتے دیکھا پر پتا چلا کہ دوسری جانب تو شوہر کو اپنی انگلیوں پر چلاتے چلاتے بیٹے کو بھی گھماتے رہنے کی عادت تھی پھر بھلا اس قدر عزت کے حامل گھر کے مرد کیسے ہو سکتے تھے، ان کو ان کی اس قدر عزت کا احساس دلانا ایک جرم ہی تو تھا اور اس جرم کی سزا اسے مل کر رہی۔

طلاق کی کہانیاں عجیب سی ہیں ہر ایک کہانی کے پیچھے ایک عجیب کریہہ چہرہ ابھر کر سامنے آتا ہے، کبھی وہ ساس کا ہوتا ہے تو کبھی نند کا، کبھی سسر کا تو کبھی شوہر اور کبھی خود بیوی کا۔ ہم سب اپنے اپنے عمل کے جواب دہ ہیں بس یہ بھول جاتے ہیں۔