بڑھتی ہوئی خلیج پر مبنی سیاست

اصلاحات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی حکمت عملی کا نہ ہونا ہماری مسلسل ناکامی کا سبب بن رہا ہے


سلمان عابد October 04, 2026

ایک طرف ریاست اور حکمرانی کا نظام ہے تو دوسری طرف عوام یا کمزور طبقات ہیں۔اہم بات یہ ہے کہ دونوں کے درمیان ایک واضح ٹکراو اور خلیج ہے۔اس ٹکراو اور خلیج میں پہلے سے موجود اعتماد کے رشتہ میں کمی میں اورزیادہ اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔یہ عمل مجموعی طور پر ریاستی اور حکمرانی کے کمزور نظام کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔

لوگ بنیادی طور پر ملک میں موجود سیاسی،معاشی ،گورننس اور سیکیورٹی کے حالات پر پریشان نظر آتے اور ان کو لگتا ہے کہ بہتری کے امکانات کافی کمزور ہیں۔ایک عمومی سوچ ملک میں موجود لوگوں کے اندر یہ پائی جاتی ہے کہ یہ ملک درست سمت میں نہیں چل رہا۔

ملک کے نظام کو چلانے کے لیے کوئی لانگ ٹرم،مڈٹرم اور شارٹ ٹرم منصوبہ بندی کا فقدان دیکھنے کو مل رہا ہے اور ہماری پالیسی ملک کے نظام کو چلانے کی ایڈہاک یا ردعمل کی سیاست سے جڑی ہوئی ہے۔

اصلاحات کی بنیاد پر آگے بڑھنے کی حکمت عملی کا نہ ہونا ہماری مسلسل ناکامی کا سبب بن رہا ہے۔بالخصوص لوگوں میں قومی معیشت کی ناکامی پر سب سے بڑا ماتم ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اس ناکامی نے ملک میں موجود عام افراد کی معیشت کو کمزور کیا ہے اور ان کو معاشی بدحالی کی طرف دکھیلا ہے۔

ایسے میں جب لوگ مسائل کا حل نئے صوبوں کی بنیاد پر یا نئے انتظامی یونٹ میں دیکھ رہے ہیںتو ملک کی سیاسی اشرافیہ ان اہم معاملات میں بڑی سیاسی تقسیم کا شکار بھی نظر آتی ہے۔ایسے لگتا ہے کہ خود طاقت کے مراکز میں مسائل کے حل کے تناظر میں ٹکراو یا ایک دوسرے کے ساتھ سوچ میں تصادم ہے۔

یہ بحث بھی موجود ہے کہ طاقت کے مراکز کی لڑائی اور عام آدمی کے مفادات کے درمیا ن کیا باہمی تعلق ہے۔کیونکہ جب عام افراد خود کو تنہا ئی کے طورپر محسوس کریں تو ان کا ریاست کے ساتھ تعلق کیسے مضبوط ہوسکتا ہے۔لوگ جب مستقبل کے بارے میں مایوسی کا شکار ہوں تو یہ سوال ریاست اور حکمران طبقات کے لیے زیادہ اہم ہوجاتا ہے ۔

ان حالات میں لوگ یا ریاست کا نظام بڑے فیصلہ سازوں سے بڑی توقعات رکھتا ہے ۔کیونکہ ریاست اور شہریوں کا باہمی تعلق اور ایک دوسرے کے حقوق کی ضمانت ہی ریاست کی کامیابی کی کنجی سمجھا جاتا ہے۔لیکن اگرریاست ایک طرف کھڑی ہو اور عوام دوسری طرف تو عمل ایک دوسرے کو ٹکراو کی سیاست کی طرف دکھیلتا ہے۔

سب سے بڑا مسئلہ نئی نسل کا ہے کہ ہم نے اس کو ترقی کے دھارے میں کہاں لے کر جانا ہے۔کیونکہ اس عمل میں ہمیں ریاستی اور حکومتی سطح پر کوئی ٹھوس منصوبہ بندی دیکھنے کو نہیں مل رہی جو نئی نسل میں اور زیادہ غیر یقینی کی کیفیت کو پیدا کرنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہم ان میں امید کم اور مایوسی زیادہ پیدا کررہے ہیں،کیونکہ جب ہماری داخلی معیشت اندر سے مضبوط نہیں ہوگی تو ہم نئی نسل کے لیے نئے روزگار کیسے پیدا کرسکیں گے۔نئی نسل ہماری طاقت ہے مگر ہم نے اس کو کمزور کردیا ہے اور وہ سمجھتا ہے کہ ریاست ہو یا حکومت اس کے پاس ہمارے لیے کچھ نہیں ہے۔

ایک مسئلہ اور ہے کہ اس وقت ریاست اور حکمرانی کے نظام کی بنیاد پر جو ہمیں سنجیدہ قومی مسائل درپیش ہیں اس پر کوئی سنجیدہ مکالمہ حکومت،حزب اختلاف،پارلیمنٹ اور میڈیا کی سطح پر دیکھنے کوہی نہیں مل رہا اور اس کی جگہ غیر اہم ایشوز یا سارا کھیل شخصیت پرستی یا ان کی حمایت اور مخالفت میں چل رہا ہے۔

اس ساری نان ایشوربحث سے عملی طور پر لوگ لاتعلق ہوچکے ہیں۔عوامی معاملات پر یا تو حکومت کی رٹ نہیں ہے یا عالمی مالیاتی اداروں کی پالیسی کے سامنے بے بس ہیں یا ان میں مسائل کے حل کی صلاحیت نہیں یا پھر ان کو عوامی مفادات کے مقابلے میں اپنے ذاتی اور خاندانی مفادات اہم ہوتے ہیں۔حالانکہ موجودہ حکومت کا تو یہ سب سے بڑا دعوی تھا کہ اس کے پاس دیگر جماعتوں کے مقابلے میں مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت سب سے زیادہ ہے۔لیکن اب قوم اس حکومت اور اس کی صلاحیتوں کی اجتماعی سزا بھگت رہی ہے اور لوگ پریشان حال ہیں۔

عام آدمی کا مسئلہ یہ ہے کہ جب وہ اپنے مسائل اور اپنے یاخاندان کی محرومی کی سیاست دیکھتا ہے اور دوسری طاقت ور طبقات یا حکمرانوں کی شاہانہ زندگی اور وہ بھی سرکاری وسائل کی مدد سے دیکھتا ہے تو اس بنیاد پر اس میں غصہ کا پیدا ہونا فطری امر ہوتا ہے۔

اسی بنیاد پر ریاست،حکومت اور عوام کا رشتہ بھی کمزور ہوتا ہے اور اسے یہ لگتا ہے کہ یہ نظام اس کا نہیں ہے۔یہ جو ہمارے سیاسی،سماجی اور معاشی اشاریے ہیں اور جو سرکار کے اعداد وشمار پر مبنی ہے اس میں کس حد تک تفریق اورتعصب یا ترقی کی خلیج پائی جاتی ہے۔

ایسے لگتا ہے کہ پاکستان چاروں صوبوں کے چند بڑے شہروں تک محدود ہے اور باقی شہر یا دہیات حکومت کی ترقی یا اس کی ترجیحات میں شامل نہیں ہے۔جب کہا جاتا ہے کہ ریاست ماں جیسی ہوتی ہے اور وہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی ہے تو ایسے میں ریاست کے دوہرے معیارات لوگوں کو تقسیم کرتے ہیں اور ان میں ایک دوسرے کے بارے میں سخت ردعمل پایا جاتا ہے۔

ایسے میں جب تک ریاست اور حکمرانی کا نظام منصفانہ اور شفافیت کی بنیاد پر نہیں چلایاجائے گا اور وسائل کی تقسیم تمام علاقوں،شہریوں اور محروم طبقات تک نہیں کی جائے گی ہم فرسودہ ترقی کے ماڈل سے باہر نہیںنکل سکیں گے۔اس لیے ہمیں یقینا نظام کو ہر صورت تبدیل کرنا ہے۔

لیکن پہلے اس کی منصوبہ بندی کی جائے یا اس کا ڈرافٹ تو سامنے لایا جائے تاکہ اس کو ایک بڑی قومی بحث کا حصہ بنایا جائے اور پھر اس پر اتفاق رائے سے آگے بڑھا جائے۔کیونکہ روائتی اور غیر سنجیدگی یا عجلت بازی کا کھیل سارے نظام کو متاثر کرتا ہے اور اس سے ہمیں گریز کیا جانا چاہیے۔

لیکن اگر ہم نے نظام کی تبدیلی کی طرف بڑھنا ہے تو یقینی طور پر اس میں ایک بڑا کردار سیاسی سطح پر موجود جماعتوں کا ہے۔لیکن اگر سیاسی جماعتیں جو عملا نجی یا خاندانی کمپنیاں ہیں اپنے موجودہ کردار کو ترک نہیں کریں گی اور اپنی سیاست کو عوامی مفادات کے ماتحت نہیں کریں گی نظام کی تبدیلی ممکن نہیں ہوسکے گی۔

ایک ایسے ماحول میں جب سیاست کے محاز پر سیاسی محاز آرائی،ٹکراو اور تناو کی سیاست ہے۔ملک کے چاروں اطراف دھرنوں اور لانگ مارچ کی باتیں ہورہی ہیں اور سب حکمرانوں کے خلاف اسلام آباد میں سیاسی چڑھائی کرنا چاہتے ہیں تو ملک میں موجود غیر یقینی کی سیاست کا خاتمہ کیسے ممکن ہوسکے گا۔

پاکستان کے مسائل کا علاج دھرنوں اور لانگ مارچ کی سیاست سے حل نہیں ہوگا بلکہ اس کے لیے قومی سطح پر ایک بڑی مفاہمت کی سیاست درکار ہے۔جو لوگ ملک کو ترقی کے عمل سے پیچھے رکھنا چاہتے ہیں انتشار کی سیاست ان کے مفاد میں ہے۔

حکومت کا بے اختیار ہونا اور کی کمزور رٹ اور عوام میں عدم مقبولیت نے بھی اس کو مجبور کیا ہوا ہے کہ معاملات کے سیاسی حل کے مقابلے میں طاقت کے استعمال کو اپنی حکمت عملی کا حصہ بنائے۔

اسی سوچ اور فکر کے ساتھ ملک میں ڈنڈے کو بنیاد بناکر حکمرانی کا نظام چلایا جارہا جواس وقت حالات کی درستگی کے لیے درست حکمت عملی ہے۔اس لیے اب ریاست اور حکمرانوں کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ اس نظام اور لوگوں میں بڑھتی ہوئی خلیج کو کم کرنے میں غیر معمولی اقدامات کا راستہ اختیار کریں۔

لوگوں کی زندگیوں کو آسان کیا جائے اور ان کا ریاست سمیت حکمرانی کے نظام پر اعتماد بحال ہوسکے۔وگرنہ مجموعی طور پر یہ سارا سیاسی نظام اپنی افادیت کھوچکا ہے اور اس نظام کی بنیاد پر ہم کسی بھی طور پر سیاست،جمہوریت،آئین اور قانون کی حکمرانی سمیت عام آدمی کے مفادات کو تحفظ نہیں دے سکیں گے۔

اس لیے نظام کی تبدیلی کی باتیں ضرور کریں لیکن اس ٹھوس منطق اور دلیل ہو جو لوگوں کو آگے بڑھنے کا درست راستہ فراہم کرسکے۔کیونکہ جو بھی ریاست کا نظام اپنی اصلاح کے ساتھ آگے بڑھتا ہے تو پہلے وہ اپنی موجودہ غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے اور پھر نئی منصوبہ بندی اور حکمت عملی کے ساتھ ملک میں جدیدیت کی بنیاد پرنئے ترقی کے پائیدار ماڈل کوخود بھی اختیار کرتا ہے اور دوسروں کو بھی ترغیب دیتا ہے۔