گلستان روڈ پر واقع گورنمنٹ گرلز کالج میں طالبہ کو مقررہ وقت سے قبل کالج سے لے جانے کی اجازت نہ ملنے پر مبینہ ہنگامہ آرائی، چوکیدار کو تشدد کا نشانہ بنانے اور زبردستی کالج میں داخل ہونے کے الزام میں وکیل سمیت دیگر افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا۔
پولیس کے مطابق مقدمہ بجلی روڈ تھانے میں گرلز کالج کے چوکیدار محمد اکبر کی مدعیت میں ولید اور دیگر نامعلوم افراد کے خلاف درج کیا گیا ہے ایف آئی آر کے مطابق 3 اکتوبر کو دوپہر تقریباً 12 بج کر 15 منٹ پر ولید نامی شخص کالج کے گیٹ پر پہنچا اور بتایا کہ وہ کالج میں زیر تعلیم اپنی بھابھی کو لینے آیا ہے۔
چوکیدار نے اسے آگاہ کیا کہ کالج اوقات میں طالبہ کو لے جانے کے لیے باقاعدہ درخواست اور متعلقہ کمیٹی کی منظوری ضروری ہے، تاہم کمیٹی کی جانب سے درخواست منظور نہیں کی گئی۔
پولیس رپورٹ کے مطابق کالج کے ایس او پیز کے تحت اوقاتِ کار کے دوران طالبات کو والد یا بھائی کے علاوہ کسی دوسرے شخص کے ساتھ جانے کی اجازت نہیں ایف آئی آر میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ اجازت نہ ملنے پر ولید نے مبینہ طور پر چوکیدار سے بدتمیزی اور گالم گلوچ کی جبکہ پرنسپل کے خلاف بھی نازیبا الفاظ استعمال کیے۔
اس دوران دوسرے چوکیدار محمد اعظم سے بھی مبینہ طور پر تلخ کلامی ہوئی رپورٹ کے مطابق ولید نے خود کو وکیل ظاہر کرتے ہوئے اپنا وکالت کارڈ دکھایا اور مبینہ طور پر دھمکیاں دیں، جس کے بعد اس نے اپنے دیگر ساتھیوں کو بھی موقع پر بلا لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق تقریباً ڈیڑھ بجے کالج کی چھٹی کے وقت ولید مبینہ طور پر 15 سے 16 نامعلوم افراد کے ہمراہ کالج پہنچا، جہاں چوکیدار محمد اعظم کو مبینہ طور پر تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد افراد زبردستی کالج میں داخل ہوگئے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پرنسپل کے دفتر میں بھی شور شرابہ کیا، تاہم پرنسپل اور دیگر عملے نے انہیں دفتر سے باہر نکال دیا اور واقعے سے متعلق اعلیٰ حکام کو آگاہ کیا۔
پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے میں زخمی ہونے والے چوکیدار محمد اعظم نے دائیں کندھے اور گردن میں اندرونی چوٹ، جسم کے مختلف حصوں میں درد اور سانس لینے میں دشواری کی شکایت کی، جس پر اسے طبی معائنے کے لیے سول ہسپتال منتقل کیا گیا۔
پولیس نے واقعے کا مقدمہ تعزیراتِ پاکستان کی دفعات **337-A، 147، 149، 353، 186، 504، 506 اور 354** کے تحت درج کرلیا ہے۔ واقعے کی مزید تفتیش اے ایس آئی سید حضرت علی کے سپرد کردی گئی ہے۔