اسلام آباد:
نائب صدر پیپلز پارٹی سینیٹر شیری رحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کی وجہ سے مذاکرات ناکام ہوئے۔
ہفتے اتوار کی درمیانی شب پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے انہوں ںے کہا کہ چار ڈرافٹس پر تمام فریقین کے ساتھ اتفاق ہوگیا تھا لیکن پی ٹی آئی کی تبدیلیوں کے باعث مذاکرات رات گئے تک چلتے رہے، مذاکرات خیبر پختونخوا حکومت کے مرکز کے ساتھ انسداد دہشت گردی تعاون کے طے شدہ ڈرافٹ پر دستخط سے انکار کے باعث ناکام ہوئے۔
شیری رحمان نے کہا کہ ہم نے بار بار کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت، مذاکرات میں شامل ہو مگر خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ یا کابینہ کا کوئی نمائندہ مذاکرات میں نہیں آیا، اگر خیبر پختونخوا حکومت کے پاس کوئی قابل عمل ڈرافٹ تھا تو اسے خود مذاکرات میں آکر پیش کرنا چاہیے تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمیں بار بار بتایا گیا کہ خیبر پختونخوا حکومت اور پی ٹی آئی کی سینئر وفاقی قیادت مذاکرات میں شامل ہوگی، رات ساڑھے آٹھ بجے تک تقریباً تمام معاملات طے ہوچکے تھے، رات ساڑھے آٹھ بجے کے بعد پشاور حکومت نے نئی شرائط رکھنا شروع کردیں، 25 سالہ پارلیمانی زندگی میں ایسا موقع ضائع ہوتے نہیں دیکھا، یہ سیاسی اعتماد، ملک میں استحکام اور سیاسی تقسیم ختم کرنے کا اہم موقع تھا۔
شیری رحمان نے کہا کہ برسوں کی تلخ سیاسی تقسیم کے بعد ملک میں استحکام لانے کا موقع ضائع ہوگیا، دنیا بھر کے مذاکرات میں وقت اور اعتماد اعتماد سازی کے لیے بہت اہم ہوتے ہیں، خیبر پختونخوا حکومت وفاقی حکام کے ساتھ بہتر ورکنگ ریلیشن شپ قائم کرتی تو اہم آغاز ہوسکتا تھا، اسلام آباد میں موجود پی ٹی آئی کی سینئر قیادت سے رہنمائی لی جاتی تو بھی اہم پیش رفت ہوسکتی تھی، یہ کوئی یک طرفہ معاملہ نہیں تھا، اتنا موقع دینے اور پورے عمل کے دوران صبر سے کام لینے پر وزیراعلیٰ شہباز شریف، ایاز صادق اور محسن نقوی کے شکر گزار ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ مسلسل تبدیلیوں کے باوجود ہماری تمام ٹیموں نے مذاکرات پر توجہ برقرار رکھی، اتوار کی صبح ہونے سے پہلے تک ہم نے مذاکرات ختم نہیں کیے اور دروازے کھلے رکھے، ہم اس وقت تک انتظار کرتے رہے جب تک دوسری جانب سے مذاکرات میں واپس آنا بند نہیں کردیا گیا، قومی اسمبلی میں دن رات مذاکرات کی کوریج کرنے والے تمام صحافیوں کے خصوصی طور پر شکر گزار ہیں۔