سابق چیئرمین ڈیپارٹمنٹ میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
وزیراعظم پاکستان شہباز شریف نے 25 ستمبر 2026ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے عالمی امن، سفارت کاری اور بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زوردیا۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے پاس دو choices ہیں۔جنگ یا امن۔دنیا کو امن کی طرف جانا چاہیے۔پاکستان نے دنیا میں امن قائم کرنے کی لئے ایران اور امریکہ کے مابین جنگ بند کروائی اور دونوں کو طویل عرصے کے بعد مزاکرات کیلئے ایک ٹیبل پر بٹھایا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان انڈیا اور افغانستان کی مسلط کردہ دہشت گردی میں لاکھوں جانوں کی قربانی دے کر دنیا کو اس ناسور سے بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔وزیراعظم نے جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے جموں و کشمیر کے منصفانہ حل کے لئے انہیں حقِ خودارادیت دینے کی بات کی۔انہوں نے غزہ میں اسرائیلی جارحیت کی مزمت کرتے ہوئے دنیا میں امن قائم کرنے کے لئے فلسطین کے مسئلے کے حل پر ذوردیا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی جیسے اہم عالمی چیلنجز پر پاکستان کا مؤقف پیش کیا۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایران مشرق وسطیٰ میں جو کچھ کرتا رہا ہے وہ اب نہیں کرسکتا۔ ایران کسی صورت ایٹمی ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ تہران سے معاہدہ کرنا چاہا لیکن ایران نے انکار کردیا۔
انہوں نے اپنے اس موقف کو دوہرایا کہ انہیں یقین ہے کہ مڈٹرم الیکشن کے بعد ایران سے ڈیل ہوجائے گی۔ انہوں نے کہا کہ ایران دیکھنا چاہتا ہے کہ مڈٹرم الیکشن میں میری پوزیشن کیا رہتی ہے لیکن ایرانیوں کو احساس نہیں کہ میں تو مڈٹرم الیکشن میں حصہ ہی نہیں لے رہا۔ اپنے خطاب میں امریکی صدر نے کہا دعویٰ کیا کہ امریکی بحریہ نے آبنائے ہْرمْز سے ایک ارب بیرل تیل نکلوایا ہے۔
انہوں نے جنرل اسمبلی اجلاس سے خطاب میں ایک بار پاکستان اور بھارت سمیت اٹھ جنگیں ختم کرانے کا ذکر کیا اور شہباز شریف سے سائیڈ لائین ملاقات میں انہیں فنٹاسٹک وزیراعظم قرار دیا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ کوئی بھی عالمی ادارہ امریکا پر اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے۔اقوام متحدہ میں ایرانی صدر نے امریکی صدر کے خطاب پر شدید ردعمل دیتے ہو ئے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم دہشت گرد نہیں ہیں بلکہ خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ انہوں نے دنیا میں عدم استحکام اور کشیدگی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو ٹھہرایا۔ خطاب کے دوران انہوں نے سابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور حملوں میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی تصاویر بھی دکھائیں۔ مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران بات چیت اور سفارت کاری کے لیے تیار ہے، لیکن وہ دباؤ، دھمکیوں یا کسی بھی قسم کی غنڈہ گردی کے سامنے ہرگز سر نہیں جھکائے گا۔ انہوں نے اس بات کی تردید کی کہ ایران کوئی جوہری ہتھیار بنانا چاہتا ہے، البتہ ملکی ترقی اور توانائی کے حصول کے لیے اپنے پرامن جوہری پروگرام کو جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فرانس کے صدر میکرون اپنی تقریر میں غزہ پالیسی پر برس پڑے اور برطانوی وزیر اعظم نے اپنی تقریر میں اسرائیل پر تنقید کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کیلئے بین الاقوامی حمایت کے مطابق عملی اقدامات کرنے پر زور دیا۔
ترکیہ کے صدر نے اپنے خطاب میں مکہ معاہدے پر تنقید کرنے والوں کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے تو ابھی آغاز کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اسلام کے خلاف دشمنی وبا کی طرح پھیل رہی ہے۔ یہ تو اقوام متحدہ میں عالمی سطح پر متحرک کچھ رہنماوں کی تقاریر کے اہم نقاط تھے۔ اس دوران امریکہ اور ایران کے مابین رابطے جاری ہیں اور ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے اس بات کی تائید کی ہے کہ قطر کے ذریعے امریکہ سے رابطہ ہوا ہے۔ اسی طرح ایرانی صدر کو جنرل اسمبلی سے خطاب کے لئے امریکہ کی طرف سے ویزہ جاری کرنے کا فیصلہ بھی ایک مثبت پیش رفت ہے اور اس موقع پر ٹرمپ اور پثرشکیان کی سائیڈ لائین ملاقات کی توقع بھی ظاہر کی جا رہی ہے جبکہ پاکستانی وزیر داخلہ نے بھی گزشتہ دنوں ایران کا دورہ کرکے ایرانی ذمہ داران سے ملاقاتیں کی ہیں۔
دوسری طرف حوثیوں کی طرف سے مکہ' سعودی تنصیبات پر حملوں اور یمن میں بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے پاکستان اور ترکی کو امتحان میں ڈال دیا ہے۔کیونکہ مکہ معاہدے کی سب سے اہم شق یہ ہے کہ تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائیگا اور کسی بھی دفاعی معاہدے کی اصل آزمائش اس وقت ہوتی ہے جب اسکی شقوں کو عملی طور پر نافذ کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔اسی لئے سعودی عرب پر حوثیوں کے حملے کو پاکستان ' ترکیہ اور مکہ دفاعی اتحاد کے لیے چیلنج قرار دیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف امریکہ کے حوثیوں کے ساتھ تعاون اور معاہدے بھی معنی خیز ہیں۔ ٹرمپ نے شہزادہ سلمان کی درخواست کے باوجود حوثیوں پر حملہ کرنے سے انکار کردیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ترکی اور پاکستان اپنے اتحادی سعودی عرب کی مدد کے لیے کس طرح اور کتنی جلدی پہنچتے ہیں۔ سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے حملوں میں ڈرونز اور میزائل استعمال کیے گئے ہیں جن میں 73 شہری زخمی ہوئے جبکہ ابہا، جازان اور نجران سمیت کئی علاقوں میں مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ ان میں شاہ خالد ایئر بیس، ابہا انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور سعودی سرکاری تیل کمپنی آرامکو کی تنصیبات بھی شامل ہیں۔
حوثی ترجمان یحییٰ سریع نے خبردار کیا ہے کہ اگر یمن میں سعودی کارروائیاں جاری رہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے جبکہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے مکہ پر ڈرون حملے اور سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم سعودی عرب کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی مستقل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر بلااشتعال جارحیت جاری رہتی ہے یا یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پہنچتے ہیں تو اس صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا۔
ترکی نے بھی حوثیوں کے حملوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔ ترک وزارت خارجہ کے مطابق یہ حملے یمن کے تنازع کے پائیدار سیاسی حل کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا رہے ہیں۔ ترکی نے حوثیوں سے اپنی جارحانہ کارروائیاں فوری طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔اسی وجہ سے ان حملوں کے بعد پاکستان، سعودی عرب اور ترکی کے مابین ہونے والے مکہ دفاعی معاہدے کو ایک بڑے امتحان کا سامنا ہے اس پس منظر میں یہ اہم سوال سامنے آرہا ہے کہ حالیہ حملوں جو یقینا پاکستان اور مکہ معاہدے کے لیے چیلنج بن رہا ہے اور ایسی صورتحال میں پاکستان کا ممکنہ کردار کیا ہو سکتا ہے ؟
پاکستان کا موقف ہے کہ مکہ معاہدہ کسی ملک کے خلاف نہیں دفاعی نوعیت کا ہے اور اس میں خطے کا کوئی بھی ملک شامل ہو سکتا ہے۔
حوثیوں نے اس سے قبل سعودی عرب کی بحیرہء احمر کے راستے تیل کی ترسیل کو بھی نشانہ بنانے کی دھمکی دی ہے جبکہ سعودی تیل کی تنصیبات اور ٹینکرز پر حملوں نے خطے میں توانائی کی ترسیل اور بحری آمد و رفت کے تحفظ سے متعلق خدشات میں اضافہ کیا ہے۔ سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے حملوں کا سخت جواب دینے کا عزم ظاہر کیا ہے تاہم اس کا دائرہ اور نوعیت ابھی واضح نہیں ہے جبکہ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ اگرچہ سفارتی راستہ اب بھی کھلا ہے تاہم مملکت اپنے دفاع میں ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔ بعد ازاں حوثیوں کے زیرِ انتظام ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی جنگی طیاروں نے یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملے کیے ہیں۔
امریکہ نے بھی اس معاملے میں ایران پر تنقید کی ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ حوثی کئی حوالوں سے ایران کے پراکسی ہیں اور بعض حملوں کے پیچھے ایرانی کردار واضح دکھائی دیتا ہے۔ دوسری جانب اقوام متحدہ، یورپی یونین، مصر، اردن اور روس نے کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فریقین سے تحمل اور سفارتی حل کی طرف واپسی کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں کئی برسوں کی شدید لڑائی جاری ہے۔ حوثی افواج اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ یمنی حکومت کی فورسز باب المندب آبنائے کے قریب اور تعز، مرب اور الجوف سمیت مختلف محاذوں پر برسرِ پیکار ہیں۔ حالیہ جھڑپوں میں 300 سے زیادہ جنگجو اور متعدد شہری ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر لڑائی دائرہ بڑھا تو اس سے نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے استحکام کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔
پاکستان کے وزیرِدفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ اگر بلااشتعال جارحیت جاری رہتی ہے یا یمن میں جاری تنازع کے اثرات سعودی عرب تک پہنچتے ہیں تو اس صورت میں مکہ دفاعی معاہدہ فعال ہو جائے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ انھیں ابھی تک سعودی عرب کی جانب سے پاکستان سے کسی رابطے کا علم نہیں ہے اور یہ ایسا جارحانہ معاہدہ نہیں کہ تینوں ممالک مل کر کسی پر اپنی طرف سے حملہ کر دیں۔ خواجہ آصف نے امید ظاہر کی کہ صورتحال قابو میں آ جائے گی اور کشیدگی میں کمی آئے گی امید رکھی جانی چاہیے کہ امن کا کوئی راستہ نکلے گا اور یاد دلایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایران کا دورہ کر چکے ہیں۔ سعودی مصنف اور تجزیہ کار علی الشابی کے مطابق ریاض غالباً حوثیوں کے ساتھ ایک طویل مدتی تنازع کی تیاری کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ حوثی قابلِ فہم رویہ اختیار نہیں کر رہے اور ان کے ساتھ کسی سیاسی سمجھوتے تک پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
کنگز کالج لندن سے وابستہ خلیجی امور کے ماہر اینڈریاس کریگ نے اس سلسلے میں کہا کہ حوثیوں کے حملے سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان جو کے لیے انتہائی پریشان کن صورتِ حال پیدا کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق یمن کے تنازع سے نکلنے کی برسوں سے جاری کوششوں کے بعد اب تحمل کا مظاہرہ کرنے سے یہ خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ حوثیوں کو کشیدگی میں اضافے کرنے کا موقع مل جائے گا۔ کریگ نے کہا کہ سعودی عرب کا فوری ردِعمل غالباً محدود رہے گا جس میں فضائی حملے، انٹیلیجنس تعاون اور یمنی حکومت کی فورسز کو مزید مضبوط کرنا شامل ہو سکتا ہے۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ حالیہ حملے پاکستان اور مکہ دفاعی معاہدے کے لیے آزمائش کیوں سمجھے جا رہے ہیں؟
برطانیہ کی برمنگھم یونیورسٹی میں مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر اور کنگ فیصل سینٹر فار ریسرچ اینڈ اسلامک سٹڈیز سے منسلک ایسوسی ایٹ فیلو عمر کریم کا ماننا ہے کہ ان حملوں اور ان کی شدت یہ ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب کو حوثیوں کی جانب سے ایک نمایاں خطرے کا سامنا ہے جس میں ان کی توجہ جنوبی صوبوں میں شہری اور فوجی تنصیبات دونوں کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے۔ اس لیے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جس میں مکہ معاہدے اور پاکستان-سعودی باہمی دفاعی معاہدے (MSDA) دونوں کو فعال کیا جا سکتا ہے۔ عمر کریم کا کہنا تھا کہ پاکستان پہلے ہی سعودی عرب میں اپنی مسلح افواج تعینات کر چکا ہے اور ان میں سے کچھ فوجی سعودی-یمن سرحد پر بھی تعینات ہیں۔
یاد رہے رواں برس اپریل میں سعودی عرب کی وزارتِ دفاع نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان سے ایک فوجی دستہ مشرقی خطے میں واقع شاہ عبدالعزیز فضائی اڈے پر پہنچا ہے۔ سعودی وزارت دفاع کے بیان میں کہا گیا تھا کہ پاکستانی دستہ پاک فضائیہ کے لڑاکا اور معاون طیاروں پر مشتمل ہے جس کا مقصد دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان مشترکہ عسکری ہم آہنگی کو مضبوط بنانا، عملی تیاری کے معیار کو بلند کرنا اور علاقائی و بین الاقوامی سطح پر امن و استحکام کے فروغ میں تعاون فراہم کرنا ہے۔ عمر کریم کے مطابق بعض سعودی مصنفین کی تحریروں میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پاکستان پہلے ہی یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں قائم مشترکہ اتحادی افواج کا حصہ ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان یمن کے معاملے میں پہلے ہی آپریشنل سطح پر اس اتحاد کے ساتھ مربوط ہے۔ وہ سعودی عرب کی قیادت میں قائم کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کی مثال بھی دیتے ہیں جس کا پاکستان پہلے ہی حصہ ہے۔ خیال رہے رواں برس جولائی میں سعودی عرب نے بحیرہ احمر میں ایک کثیرالملکی بحری دفاعی اتحاد کے قیام کا اعلان کیا تھا جس کا مقصد باب المندب اور بحیرہ احمر میں بحری آمدورفت کی آزادی کو یقینی بنانا ہے۔ اس تناظر میں سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں کا معاملہ صرف سعودی سرزمین کے دفاع تک محدود نہیں رہتا بلکہ بحیرہ احمر اور باب المندب میں بحری آمد و رفت اور توانائی کی ترسیل کے تحفظ کا سوال بھی اٹھاتا ہے۔ عمر کہتے ہیں کہ پاکستان کے پاس پہلے ہی سعودی عرب کے دفاع کے لیے کسی بھی کارروائی میں شامل ہونے کی غرض سے زمینی دستے پہلے ہی موجود ہیں۔ وہ پاکستانی وزیر دفاع کے بیان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جیسا کہ نظر آ رہا ہے کم از کم یمن کے معاملے میں، سیاسی ارادہ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی شمولیت کی تفصیلات دو طرفہ سطح پر اور یمن کے حوالے سے سعودی عرب کے مؤقف کے مطابق طے کی جائیں گی۔ عمر کا ماننا ہے کہ چونکہ حوثی ایک جائز ریاستی فریق نہیں ہیں اس لیے ان کے خلاف کارروائی سیاسی اعتبار سے ایران جیسے ایک باقاعدہ ریاستی فریق کے خلاف کارروائی کے مقابلے میں نسبتاً آسان ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کی کوششوں کے نسبتاً کمزور نتائج کو دیکھتے ہوئے امکان کم ہے کہ پاکستان اس محاذ پر کسی ثالثی کی کوشش میں شامل ہو اور اگر ایسا کرتا بھی ہے تو ان کوششوں سے کوئی قابلِ ذکر نتیجہ برآمد ہونے کا امکان نہیں۔
دفاع اور سلامتی کے امور کے تجزیہ کار اور ریٹائرڈ میجر جنرل زاہد محمود کے مطابق سعودی عرب کے پاس حوثیوں کے بڑھتے ہوئے میزائل اور ڈرون حملوں جو ممکنہ طور پر زمینی کارروائیوں کے ساتھ بھی مربوط ہو سکتے ہیں کے جواب میں تین راستے موجود ہیں۔
پہلا تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے سفارتی سطح پر کشیدگی کم کرنے کو ترجیح دینا۔ دوسرا، یمن میں حوثیوں کے مخصوص فوجی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے محدود حملے کرنا۔ اور تیسرا حوثیوں کے خطرے کو ختم کرنے کے لیے ایک وسیع تر فوجی کارروائی شروع کرنا۔
ریاض ان میں سے جو بھی راستہ اختیار کرے مکہ اتحاد کے تحت پاکستان سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط بنانے اور اس کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے تحفظ میں معاونت کرے گا۔ تاہم انھوں نے امید ظاہر کی کہ صورتحال موجودہ سطح سے آگے نہیں بڑھے گی اور سفارت کاری غالب آئے گی۔
اس صورتحال میں یہ سوال بہت اہم ہے کہ کیا پاکستان یمن میں سعودی فوجی کارروائی کا حصہ بنے گا؟
جارج ٹاؤن یونیورسٹی قطر میں پروفیسر اور عرب سینٹر فار ریسرچ اینڈ پالیسی سٹڈیز میں تحقیقی یونٹ کے ڈائریکٹر مہران کارمافر اس سلسلے میں کہتے ہیں کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ سعودی عرب یمن پر حملے کی تیاری کر رہا ہے اور یمن ابتدا ہی سے ترکی اور پاکستان کے لئے مکہ معاہدے کے حوالے سے ایک آزمائش رہا ہے کہ آیا پاکستانی اور ترک فوجی یمن کے محاذ پر لڑنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔ اور جو کچھ ہم دیکھ رہے ہیں وہ پاکستانی وزیرِ دفاع کی جانب سے ایک بہت واضح بیان ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان سعودی عرب کی جانب سے یمن پر ایسے حملے میں شامل نہیں ہوگا جسے جارحانہ کارروائی تصور کیا جا سکتا ہو۔ مہران امرافا کا ماننا ہے کہ پاکستان بہت احتیاط کے ساتھ مکہ معاہدے کے تحت اپنی شمولیت کو اس بات کے تناظر میں طے کر رہا ہے کہ اس معاہدے کا عین مطلب کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر سعودی عرب 2015 کی طرح یمن پر حملہ یا وہاں فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس میں پاکستانی فوج کی اور اس کے نتیجے میں ترک فوج کی بھی شمولیت نہیں ہو گی۔
اور ان کے خیال میں یہ پاکستان کو یمن میں کسی ممکنہ جارحانہ کارروائی سے واضح طور پر الگ رکھنے کا ایک غیر مبہم اعلان ہے۔
مہران کامرافا ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگرچہ سعودی عرب میں حوثیوں کے حملے ہوئے ہیں لیکن یمن پر سعودی حملہ یا وہاں فوجی مداخلت نہیں ہوئی۔ اس لیے پاکستانی بیان کچھ گنجائش بھی چھوڑتا ہے کہ دفاعی اور جارحانہ کارروائی میں کیا فرق تصور کیا جائے۔حوثیوں کے سعودی عرب پر حملے اور آبنائے باب المندب کے اہم مایون جزیرے پرقبضے نے صورتحال کی سٹیریٹیجک اہمیت مزید بڑھا دی ہے۔ انقرہ نے حوثیوں کی کارروائیوں کی مذمت ضرور کی لیکن اسکے سرکاری رویے میں واضح احتیاط نظر آتی ہے۔ ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا مکہ معاہدے کے حوالے سے یہ بیان اہم ہے کہ مشترکہ دفاع کی شق تکنیکی اعتبار سے نیٹو کے آرٹیکل 5 سے مشابہت رکھتی ہے تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس شق کے تحت فوجی مداخلت خودکار طور پر لازم ہوجائیگی۔یہی وہ نکتہ ہے جہاں معاہدے کی سیاسی زبان اور عملی عسکری ذمہ داری میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔کسی ملک پر حملہ تینوں ممالک پر حملہ تصور کرنا ایک مضبوط سیاسی عزم ضرور ہے لیکن اس کا لازمی مطلب یہ نہیں کہ ہر صورتحال میں تینوں ممالک اپنی فوجیں میدانِ جنگ میں اتار دیں گے۔ ترکیہ کیلئے یہ معاملہ اس لیے بھی حساس ہے کہ وہ خود کو خطے میں ایک ایسی طاقت بنانا چاہتا ہے جو سفارتکاری، دفاعی تعاون اور سیاسی اثرورسوخ کے ذریعے اپنا کردار بڑھانا چاہتی ہے۔ حوثیوں سے براہِ راست جنگ اس پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی۔ ترکیہ کی معیشت بھی کسی طویل جنگ کا بوجھ آسانی سے برداشت نہیں کرسکتی۔ سعودی عرب کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور دفاعی تعلقات کو دیکھتے ہوئے انقرہ کے لئے شاید زیادہ قابلِ عمل راستہ یہ ہوگا کہ وہ سعودی عرب کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور دیگر عسکری سازوسامان کے ذریعے مضبوط کرے بجائے اس کے کہ اپنے فوجی دستے یمن کے محاذ پر بھیجے۔جبکہ سعودی عرب اور پاکستان کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط دفاعی، سیاسی اور اقتصادی شراکت داری پر قائم ہیں۔ موجودہ حالات میں یہ تعلقات اسلام آباد کیلئے مزید اہمیت اختیار کرچکے ہیں۔ اگر سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر خطرہ لاحق ہوتا ہے اور ریاض مکہ معاہدے کی دفاعی شق کے تحت پاکستان سے عملی مدد طلب کرتا ہے تو اسلام آباد کے لئے مکمل انکار آسان نہیں ہوگا۔ یہ کہنا بھی قبل از وقت ہے کہ پاکستان لازماً اپنی فوج یمن بھیجے گا۔ بیرونِ ملک کسی جنگ میں براہِ راست شرکت ایک حساس سیاسی اور عسکری فیصلہ ہے۔ سعودی عرب کے لئے یہ معاہدہ اجتماعی دفاع کی ضمانت ہے پاکستان کیلئے تاریخی اور اسٹرٹیجک وابستگی کا امتحان جبکہ ترکیہ کیلئے علاقائی طاقت کے بڑھتے ہوئے کردار اور محتاط خارجہ پالیسی کے درمیان توازن کا سوال ہے۔ترکیہ کیلئے دانش مندی شاید یہی ہوگی کہ وہ سعودی عرب کودفاعی تعاون اور جدید عسکری ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہوئے اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا رہے نہ کہ جنگ میں کود جائے۔
پاکستان کے لئے بھی بہترین راستہ جذباتی فیصلے کے بجائے اپنے قومی مفادات اور معاہدے کی ذمہ داریوں میں توازن قائم کرنا ہوگا۔
اگر حالات اس مقام تک پہنچ گئے جہاں معاہدے کے الفاظ کو میدانِ جنگ میں عملی شکل دینا ناگزیر ہوگیا تو دنیا کی نظریں اسلام آباد اور انقرہ پر ہوں گی اور یہی ان ممالک کا اصلی امتحان ہوگا۔