فیصلہ کن جنگ کا اعلان، یمنی حکومت نے حوثیوں کے خلاف ملک گیر فوجی کارروائی کا اعلان کردیا

رپورٹس کے مطابق طائز اور اس کے اطراف گزشتہ ایک روز کے دوران شدید لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں


ویب ڈیسک October 05, 2026
فوٹو: رائٹرز

یمن کی سعودی حمایت یافتہ اور بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے زیر قبضہ تمام علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے بڑے فوجی آپریشن کا اعلان کردیا ہے۔ صدارتی کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے کہا ہے کہ کارروائی کا مقصد ملک کے تمام حصوں میں ریاستی اداروں کی عمل داری بحال کرنا ہے۔

رشاد العلیمی نے اپنے بیان میں یمنی مسلح افواج کو ہدایت کی کہ وہ منظور شدہ منصوبوں کے مطابق اپنی ذمہ داریاں انجام دیں اور حوثیوں کے قبضے سے علاقوں کو واپس لینے کی کارروائی جاری رکھیں۔ یمنی حکومت کا یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حوثی جنگجوؤں نے گزشتہ چند دنوں کے دوران طائز کے اطراف میں اہم پیش قدمی کی ہے۔

طائز میں صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب حوثیوں نے شہر کو یمن کے عبوری دارالحکومت عدن سے ملانے والی اہم سپلائی روڈ پر کنٹرول حاصل کرلیا۔ سکیورٹی اور فوجی ذرائع کے مطابق حوثیوں نے الصفیہ کے علاقے میں مرکزی سڑک اور پولیس اسٹیشن اپنے قبضے میں لے لیا، جس کے بعد طائز کا حکومتی علاقوں سے زمینی رابطہ شدید متاثر ہوا ہے۔

طائز یمن کا تیسرا بڑا شہر ہے اور طویل عرصے سے حکومت اور حوثیوں کے درمیان اہم محاذ بنا ہوا ہے۔ شہر پر مکمل قبضہ حوثیوں کو ملک کے جنوب کی جانب مزید پیش قدمی کا راستہ فراہم کرسکتا ہے، جبکہ اس وقت بھی حوثی فورسز نے شہر کو کئی سمتوں سے گھیر رکھا ہے۔

رپورٹس کے مطابق طائز اور اس کے اطراف گزشتہ ایک روز کے دوران شدید لڑائی میں 70 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ دونوں فریق اپنے اپنے جانی نقصانات کے مختلف اعداد بتا رہے ہیں، اس لیے ان اعداد کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔ شہر بدستور حکومتی فورسز کے کنٹرول میں ہے، تاہم حوثیوں کی جانب سے اہم سپلائی روٹ کاٹنے سے محاصرہ مزید سخت ہوگیا ہے۔

یمن میں حالیہ لڑائی کئی برس کی نسبتاً پُرسکون صورتحال کے بعد دوبارہ شدت اختیار کر رہی ہے۔ حوثیوں نے حالیہ کارروائیوں میں بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں اور باب المندب کے قریب بھی پیش قدمی کی ہے، جبکہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ یمنی حکومت نے جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔ باب المندب عالمی بحری تجارت کے لیے اہم گزرگاہ ہے، جس کے باعث یمن میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے علاقائی اور عالمی اثرات بھی سامنے آسکتے ہیں۔

لڑائی میں شدت نے یمن کے پہلے سے سنگین انسانی بحران کو بھی مزید خراب کردیا ہے۔ عالمی خوراک پروگرام کے مطابق حالیہ لڑائی سے متاثرہ علاقوں میں تقریباً ہر چار میں سے تین خاندان اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔