لاہور کے پارک میں بدھا سے منسوب مقدس درخت کی شاخ پروان چڑھنے لگی

بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو بدھا کی زندگی اور روشن خیالی سے جڑی اہم علامت سمجھتے ہیں


آصف محمود October 05, 2026

لاہور:

بدھا سے منسوب مقدس درخت کی نسل لاہور تک پہنچ گئی، پنجاب ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) کے نیشنل بینک پارک میں لگایا گیا بدھی درخت اب گھنے پتوں کے ساتھ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

پی ایچ اے کے ڈائریکٹر جنرل احمد عثمان جاوید کے مطابق بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو انتہائی مقدس سمجھتے ہیں اور اسے بدھا کی روشن خیالی سے منسوب کیا جاتا ہے۔ بدھ مت کی روایات کے مطابق سدھارتھ گوتم نے ایک ایسے ہی درخت کے نیچے کئی ہفتے مراقبہ کیا، جس کے بعد انہیں بدھا یعنی بیدار ہونے والا کہا گیا۔ بدھ مت کے پیروکار اس درخت کو بدھا کی زندگی اور روشن خیالی سے جڑی اہم علامت سمجھتے ہیں۔

مذہبی روایات کے مطابق بھارت کے شہر بودھ گیا میں موجود اصل بدھی درخت اب موجود نہیں، تاہم وہاں مہابودھی مندر کے قریب موجود درخت کو اسی درخت کی براہ راست نسل قرار دیا جاتا ہے۔ بدھ مت کے پیروکاروں کے لیے مہابودھی مندر دنیا کے اہم ترین مقدس مقامات میں شمار ہوتا ہے۔

بدھ مت روایات کے مطابق مہابودھی درخت کی ایک شاخ 236 قبل مسیح میں موریہ بادشاہ اشوک کے بچوں کے ذریعے سری لنکا لے جائی گئی تھی، جہاں اس کی نسل سے منسوب جایا سری مہا بودھی آج بھی موجود ہے۔

اسی درخت کی ایک شاخ دسمبر 1963 میں سری لنکا کے دورے کے دوران صدر ایوب خان کو پیش کی گئی تھی۔ بعد ازاں جنوری 1964 میں اس وقت کے وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو نے یہ پودا ٹیکسلا میوزیم میں لگایا۔ بدھ مت کے حوالے سے اسے پاکستان میں موجود بدھا سے منسوب زندہ درختوں کی اہم ترین کڑی سمجھا جاتا ہے۔

ڈی جی پی ایچ اے احمد عثمان جاوید نے بتایا کہ بدھ مت کے پیروکار مذہبی آثار کی طرح بدھی درخت کو بھی عقیدت کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ان کے مطابق زندہ درخت ہونے کی وجہ سے اسے بدھا اور ان کی روشن خیالی سے ایک زندہ تعلق کی علامت سمجھا جاتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاہور میں بدھی درخت صرف سجاوٹ کے لیے نہیں لگائے گئے بلکہ شہر کے سبز علاقوں کو تاریخی اور ثقافتی ورثے سے جوڑنے کی کوشش بھی ہے۔ پاکستان میں ٹیکسلا اور گندھارا سمیت بدھ مت سے وابستہ تاریخی مقامات موجود ہیں جو ملک کے اہم ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔

پی ایچ اے کے مطابق لاہور کے لارنس گارڈن، نیشنل بینک پارک اور ریس کورس پارک میں بدھی درخت موجود ہیں۔ یہ درخت عام طور پر ستمبر سے نومبر کے دوران پھول دیتے ہیں اور براہ راست دھوپ میں بہتر نشوونما پاتے ہیں۔

احمد عثمان جاوید نے کہا کہ پی ایچ اے ان درختوں کی دیکھ بھال جاری رکھے گا جبکہ طلبہ اور خاندانوں کو بھی ان درختوں اور ان سے وابستہ تاریخ کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

دریں اثنا بہاولپور ہارٹیکلچر ایجنسی کی جانب سے پلکن ڈے بھی منایا گیا اور مقامی درخت پلکن کے پودے لگائے گئے۔ بہاولپور ہارٹیکلچر ایجنسی کے منیجنگ ڈائریکٹر نیئر مصطفیٰ نے مقامی امن کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ پلکن کے پودے لگائے۔

مقامی طور پر پیلو یا پاکی کے نام سے جانے جانے والے پلکن کا تعلق روہی اور چولستان کے علاقے سے ہے۔ یہ درخت چولستان کے قدرتی اور ثقافتی ماحول کا حصہ سمجھا جاتا ہے جبکہ معروف صوفی شاعر خواجہ غلام فرید کی شاعری میں بھی روہی کے مناظر، پودوں اور مقامی ثقافت کا ذکر ملتا ہے۔