اسمارٹ زراعت: کم وسائل سے زیادہ پیداوار کی طرف ایک نیا راستہ

اسمارٹ زراعت ہمارے لیے کوئی تعیش نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں بقا اور ترقی کی ضرورت ہے



زراعت پاکستان کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ یہ شعبہ ملکی جی ڈی پی میں نمایاں حصہ ڈالتا ہے، آبادی کے بڑے حصے کو روزگار فراہم کرتا ہے اور کروڑوں لوگوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرتا ہے۔ لیکن آج یہی شعبہ پانی کی کمی، موسمیاتی تبدیلی، بڑھتی ہوئی لاگت اور گھٹتی ہوئی پیداواری صلاحیت جیسے سنگین مسائل سے دوچار ہے۔

ایسے حالات میں یہ سوال انتہائی اہم ہو جاتا ہے کہ ہم محدود وسائل کے باوجود اپنی زرعی پیداوار کو کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں اور اس میں مزید اضافہ کیسے کر سکتے ہیں؟

ہمارے کھیتوں میں آج بھی بڑی حد تک دہائیوں پہلے اپنائے گئے روایتی طریقے رائج ہیں۔ جس کی مثال کھیت کو بھر کر پانی دینا اور موسم کے بدلتے مزاج کو نظر انداز کرکے پرانے کیلنڈر کے مطابق فصل بونا شامل ہیں۔ دوسری طرف دنیا کے کئی ممالک ڈیٹا، جدید ٹیکنالوجی اور درست منصوبہ بندی کے ذریعے کم وسائل سے زیادہ پیداوار حاصل کر رہے ہیں۔ ایسے میں ہمارے ذہنوں میں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنی پیداواری لاگت میں کمی لا کر کیسے زیادہ پیداوار حاصل کر سکتے ہیں؟ اس سوال کا جواب اسمارٹ زراعت کی صورت میں ہمارے سامنے موجود ہے۔

اسمارٹ زراعت میں جدید ٹیکنالوجی، ڈیٹا اور سائنسی معلومات کو بروئے کار لاتے ہوئے کاشتکاری کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔ جس میں سینسر، سیٹلائٹ تصاویر، موسمی پیش گوئی، ڈرون، موبائل ایپس اور درست آبپاشی کے نظام جیسے ذرائع شامل ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ہر کھیت کو اس کی اصل ضرورت کے مطابق پانی، کھاد اور دیگر زرعی ضروریات فراہم کی جائیں، یہ کاشتکاری کے طریقہ کار میں میں ایک تبدیلی ہے۔ یعنی اندازے کی جگہ پیمائش اور روایتی فیصلوں کی جگہ سائنسی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ سازی کی جائے۔

ہماری زراعت نہری نظام اور زیرِ زمین پانی پر بڑا انحصار کرتی ہے۔ نہروں سے پانی کا رساؤ اور کھیتوں میں آبپاشی کے دوران پانی کا ضیاع ایک اہم مسئلہ ہے، جبکہ ٹیوب ویلوں کے بے تحاشا استعمال سے کئی علاقوں میں زیرِ زمین پانی کی سطح مسلسل گر رہی ہے۔ روایتی طریقۂ آبپاشی میں ضرورت سے زیادہ پانی استعمال ہونے کے باعث اس قیمتی وسائل پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ ایسے میں پانی کی ضرورت کا درست تعین اور اس کا درست استعمال ناگزیر ہے۔

زراعت کو درپیش مسائل میں ایک اور بڑا مسئلہ موسمیاتی تبدیلی ہے۔ موسمیاتی تبدیلی سے مراد عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور بارشوں کے نظام میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہے۔ حالیہ برسوں میں بے وقت بارشیں، غیر معمولی گرمی کی لہریں، خشک سالی اور تباہ کن سیلاب ہماری فصلوں کو متاثر کر چکے ہیں۔ جب موسم غیر یقینی ہو جائے تو صرف روایتی تجربے پر انحصار کافی نہیں رہتا، بلکہ درست موسمی معلومات اور بروقت فیصلے اہم ہو جاتے ہیں۔ دوسری طرف کھاد، بیج، بجلی اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے کاشتکاروں کے لیے منافع برقرار رکھنا مشکل بنا دیا ہے۔ اگر ان وسائل کو ضرورت کے مطابق استعمال کیا جائے تو پیداواری لاگت میں کمی لائی جا سکتی ہے۔

ملکی آبادی میں مسلسل اضافے کے ساتھ قابلِ کاشت رقبہ محدود ہوتا جا رہا ہے۔ اس لیے مستقبل میں غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے زرعی رقبہ بڑھانا ممکن نہیں ہوگا، بلکہ اس کے لیے ہمیں پہلے سے موجود رقبے سے زیادہ پیداوار حاصل کرنے پر توجہ دینا ہو گی۔ پاکستان کی فی ایکڑ پیداواری صلاحیت دوسرے ممالک کے مقابلے میں کم ہے۔ اس فرق کو کم کرنے کے لیے بہتر زرعی انتظام، جدید ٹیکنالوجی اور سائنسی طریقوں کا استعمال اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔

اسمارٹ زراعت کے عملی طریقے

اسمارٹ زراعت مختلف طریقوں اور ٹیکنالوجیز کا مجموعہ ہے، جنہیں ہماری زرعی ضروریات کے مطابق اپنایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر ڈرپ اور اسپرنکلر آبپاشی کے نظاموں کے ذریعے پانی پودوں کی جڑوں یا فصل کے مطلوبہ حصے تک پہنچایا جاتا ہے، جس سے پانی کے غیر ضروری استعمال میں کمی لائی جا سکتی ہے۔ یہ طریقے خاص طور سبزیوں اور باغات کے لیے مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اسمارٹ زراعت میں سینسرز کی مدد سے مٹی میں نمی کی مقدار کو معلوم کیا جا سکتا ہے اور فصل کو پانی دینے کی صحیح ضرورت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ جس سے پانی اور توانائی دونوں کی بچت کی جا سکتی ہے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور ڈرون کے ذریعے فصل کی صحت، بیماریوں، کیڑوں کے حملے اور پانی کی کمی کی ابتدائی علامات کا پتہ چلایا جا سکتا ہے۔ جس سے متاثرہ حصوں کی بروقت نشاندہی اور ضروری اقدامات ممکن ہوتے ہیں۔ اسی طرح ڈرون کے ذریعے زرعی محلول کا چھڑکاؤ وقت اور محلول کے ضیاع کو کم کرتا ہے۔

اسمارٹ زراعت کا ایک اور اہم پہلو کھاد کا درست استعمال کرنا ہے۔ مٹی کے تجزیے کی بنیاد پر کھاد کی مقدار اور وقت کا تعین کیا جا سکتا ہے۔ جس سے غیر ضروری کھاد کے استعمال اور پیداواری لاگت میں کمی کے ساتھ ساتھ مٹی اور زیرِ زمین پانی کی آلودگی کو بھی کم کیا جا سکتا ہے۔ اسی طرح بارش، درجہ حرارت، ہوا اور دیگر موسمی عوامل کی پیش گوئی کی بنیاد پر بوائی، آبپاشی اور کٹائی کا وقت بہتر انداز میں طے کیا جا سکتا ہے۔ آج بہت سے کاشتکاروں کے پاس اسمارٹ فون موجود ہیں، جو انہیں موسمی معلومات اور زرعی رہنمائی فراہم کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتے ہیں۔

یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ اسمارٹ زراعت کا مطلب کاشتکار کے برسوں کے تجربے کو نظر انداز کرنا نہیں ہے۔ درحقیقت، جدید ٹیکنالوجی اور مقامی تجربے کا امتزاج ہی زیادہ مؤثر نتائج دے سکتا ہے۔ کسان کا روایتی علم اور جدید ٹیکنالوجی ایک دوسرے کی معاون بن سکتے ہیں۔ کسان کو اپنی زمین، مٹی اور فصل کی جو عملی سمجھ ہے، ڈیٹا، سینسر اور سائنسی معلومات اسے مزید مضبوط اور درست بنا سکتے ہیں۔ یوں اسمارٹ زراعت روایتی کاشتکاری کا متبادل بننے کے بجائے اسے بہتر بنانے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔

راہ میں رکاوٹیں

اگرچہ اسمارٹ زراعت کے فوائد واضح ہیں، لیکن پاکستان میں اسے وسیع پیمانے پر اپنانے میں کئی عملی مشکلات موجود ہیں۔ چھوٹے کاشتکاروں کے پاس ابتدائی سرمایہ محدود ہوتا ہے، جبکہ ڈرپ سسٹم، سینسر اور دیگر جدید آلات کی ابتدائی لاگت زیادہ محسوس ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ زمین کی چھوٹی ملکیتیں، کسانوں میں تربیت اور آگاہی کی کمی، دیہی علاقوں میں انٹرنیٹ اور بجلی کی ناکافی سہولیات اور زرعی توسیعی خدمات کی محدود رسائی بھی اس عمل میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ان مسائل کو نظر انداز کرکے صرف ٹیکنالوجی متعارف کروانے سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

آگے کا راستہ

ان چیلنجز کے باوجود ایسے کئی اقدامات ہیں جن کے ذریعے پاکستان میں اسمارٹ زراعت کو فروغ دیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلے ڈرپ آبپاشی اور جدید زرعی آلات کے لیے رعایتی قرضوں اور سبسڈی کی سہولیات کو وسعت دینے کی ضرورت ہے تاکہ چھوٹے کاشتکار بھی ان ٹیکنالوجیز سے فائدہ اٹھا سکیں۔ اس کے ساتھ ساتھ جامعات، زرعی تحقیقاتی اداروں اور توسیعی محکموں کے اشتراک سے عملی تربیتی پروگرام شروع کیے جائیں تاکہ کسان نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں جان سکیں بلکہ اسے استعمال کرنا بھی سیکھیں۔

ہر علاقے میں مظاہراتی فارم قائم کرنا بھی ایک مؤثر حکمت عملی ہو سکتی ہے، جہاں کسان خود جدید طریقوں کے نتائج دیکھ سکیں۔ کیونکہ کسان صرف سننے کے بجائے عملی نتائج دیکھ کر زیادہ بہتر انداز میں فیصلہ کر سکتا ہے۔ اسی طرح کم لاگت کے مقامی سینسرز اور موبائل ایپس کی تیاری کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ جدید ٹیکنالوجی عام کاشتکار کی پہنچ میں آ سکے۔ زرعی اسٹارٹ اپس اور ٹیکنالوجی کمپنیوں کو بھی کسانوں سے جوڑنے کی ضرورت ہے تاکہ مقامی مسائل کے مطابق قابلِ عمل حل سامنے آ سکیں۔

اس کے علاوہ اسمارٹ زراعت کو صرف جدید مشینری اور ڈیجیٹل آلات تک محدود نہیں رکھنا چاہیے، بلکہ پانی کے مجموعی انتظام کو بھی اس کا حصہ بنانا ضروری ہے۔ بارش کے پانی کو محفوظ کرنا، نہری پانی کی مؤثر تقسیم، آبپاشی کے نظام کو بہتر بنانا اور زیرِ زمین پانی کا پائیدار استعمال ایسے اقدامات ہیں جو مستقبل کی زراعت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

اسمارٹ زراعت ہمارے لیے کوئی تعیش نہیں بلکہ بدلتے ہوئے حالات میں بقا اور ترقی کی ضرورت ہے۔ پانی کم ہو رہا ہے، موسم بے یقینی کا شکار ہے اور پیداواری لاگت بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں پرانے طریقوں پر مکمل انحصار مستقبل میں مزید مشکلات پیدا کر سکتا ہے۔ ٹیکنالوجی ہمارے تمام مسائل کا مکمل حل تو نہیں، لیکن یہ وسائل کے بہتر استعمال، لاگت میں کمی اور پیداوار میں اضافے کا مؤثر ذریعہ ضرور بن سکتی ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 800 سے 1,200 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

تحریر کردہ
ڈاکٹر عمران شوکت
مصنف کی آراء اور قارئین کے تبصرے ضروری نہیں کہ ایکسپریس ٹریبیون کے خیالات اور پالیسیوں کی نمائندگی کریں۔